تحصیل ہسپتال میاں چنوں کے عملہ کی غفلت‘ خاتون مریضہ چل بسی

تحصیل ہسپتال میاں چنوں کے عملہ کی غفلت‘ خاتون مریضہ چل بسی

میاں چنوں،محسن وال(نمائندہ خصوصی، نمائندہ پاکستان) میاں چنوں کے نواحی گاؤں93پندرہ ایل کی رہائشی خاتون نازیہ بی بی زوجہ بشارت کو گزشتہ دنوں ڈلیوری کے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میاں چنوں لایا گیا جہاں پر خاتون کو آٹھ گھنٹے لیبر روم میں رکھا گیا کیونکہ ہسپتال میں آپریشن کرنے والی لیڈی ڈاکٹر اور (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

دیگر اسٹاف موجود نہیں تھا ۔ ہسپتال کے عملہ نے آپریشن میں استعمال ہونے والی ادویات کی پرچی بنا کر خاتون مریضہ کے ورثاء کو تھما دی ورثاء نے ادویات باہر سے لانے سے انکار کیا اور کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق ہسپتال سے تمام ادویات فری ملتی ہیں جس پر ہسپتال عملہ نے خاتون مریضہ کو آٹھ گھنٹے لیبر روم میں رکھنے کے بعد حالت غیرہونے پر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا مریضہ کو ابھی ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال سے باہر لے جایا ہی گیا تھا کہ مریضہ ڈلیوری سے پہلے ہی دم توڑ گئی ،جاں بحق ہونے والی خاتون کے ورثاء اور شہریوں چوہدری عبدالمجید ،سجاد اقبال ،منظور حسین ،فقیر محمد وضیا ء اللہ و دیگر ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر شاہد کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ رابطہ کرنے پر ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ واقعہ میرے علم میں نہیں ہمارے ہسپتال کی گائنا کالوجسٹ 90روز کی چھٹی پر گئی ہوئی ہیں ‘ہسپتال کے عملہ کو چاہیے تھا کہ خاتون کو فوری طور پر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیتے ۔عملے نے آٹھ گھنٹے لیبر روم میں رکھ کر غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اب واقعہ میرے نوٹس میں آگیا ہے میں اس کی انکوئری کرواتا ہوں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر