روزہ ۔۔۔ رحمت ، برکت ،صحت

روزہ ۔۔۔ رحمت ، برکت ،صحت

خالق کائنات نے اپنی مخلوق کو پیدا کرکے اس کی رہنمائی فرمائی ہے اور ہر دور میں رہنمائی پہنچانے کے لیے پیغامبر مبعوث فرمائے اسی طرح روزہ کا عمل بھی نہ صرف آخری پیغمبر حضرت محمدؐکے لیے ہے بلکہ اس سے قبل تمام امتوں پر بھی روزہ فرض کیا گیا ہے تاکہ انسان کو متقی پرہیز گار بنایا جائے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس کے نزدیک بنی آدم کی صحت کی بہتری لازم قرار دی گئی ہے۔ تحقیقات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ عموماً صحت مند افراد میں روزے کے دوران جسم کا اندرونی توازن رکھنے والی کارگزاری پر کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑتا۔ ایسے افراد جو سحری افطاری میں متوازن غذا کھاتے ہیں وہ نا صرف جسمانی طور پر روزہ کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ذہنی ونفسیاتی طور پر بھی مطمئن رہتے ہیں غرض کہ روزہ سے انسانی جسم کی غیر معمولی اوور ہالنگ اور ٹیوننگ ہو جاتی ہے جس سے جسم کے تمام اعضاء ایک نئی قوت کے ساتھ کام کرنا شروع کرتے ہیں جیسے ہارمون کی تبدیلی سے انسان کا مزاج عادات پر اثر پڑتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ سب اس وقت ممکن ہے جب غذا میں کمی کی جاتی ہے اور روزہ اس کا بہترین ذریعہ ہے کیونکہ صبح فجر سے لے کر شام غروب آفتاب تک کھانے پینے کی بندش روزہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آنتوں کے خلیے بھوک کی حالت میں جسم میں محفوظ غذا سے زیادہ تو انائی حاصل کرتے ہیں جسم کے اندر گلوئکوجن گلو کوز یا چربی کی صورت غذا کا ذخیرہ محفوظ ہوتا ہے بھوک کی حالت میں بعض انزائمز کی مدد سے یہ ٹوٹ جاتا ہے اور گلوکوز میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے جسم کو توانائی ملتی رہتی ہے۔ روزہ پابندی اوقات کا بھی درس دیتا ہے، جدید تحقیقات کے مطابق روزہ کے کئی مفید پہلو سامنے آرہے ہیں سائنسدان اب اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ بیشتر بیماریاں کھانے پینے کی غلط عادات کی بناء پر ہی لاحق ہوتی ہیں انسانی جسم پر روزہ رکھنے کے جو اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ تو بہت زیادہ ہیں لیکن چند ایک کا تذکرہ تحریر کیا جا رہا ہے۔

دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میں بغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کا طمع کئے تعمیلاً روزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین نے تسلیم کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیں لیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی'دیگر بدن انسانی پر اس کے فوائد آشکار ہوتے چلے گئے اور محقق اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے۔

نظام ہضم جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضا پر مشتمل ہوتا ہے اہم اعضا جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی۔ معدہ، بارہ انگشتی آنت، جگر اور لبلبہ اور آنتوں سے مختلف حصے وغیرہ تمام اعضا اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے، اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر نے نظام ہضم میں حصہ لینے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ یہ روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی، اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فورا مصروف عمل ہوجاتا ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو سٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے سٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبن جو جسم کے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے' کی پیداوار پر صرف کرتا ہے۔

رمضان المبارک میں موٹاپے کے شکار افراد کا نارمل سحری اور افطاری کرنے کی صورت میں آٹھ سے دس پاؤنڈ وزن کم ہوسکتا ہے جبکہ روزہ رکھنے سے اضافی چربی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے۔یاد رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ روزے سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے۔ نظامِ ہضم کی رطوبت خارج کرنے کا عمل دماغ کے ساتھ وابستہ ہے۔عام حالت میں بھوک کے دوران یہ رطوبتیں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں جس سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ روزے کی حالت میں دماغ سے رطوبت خارج کرنے کا پیغام نہیں بھیجا جاتا کیونکہ دماغ میں خلیوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ روزے کے دوران کھانا پینا منع ہے۔یوں نظامِ ہضم درست کام کرتا ہے۔ روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر معدہ سے نکلنے والی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اس کی پیداوار رک جاتی ہے۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے۔ روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کے شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے۔ جیسے انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔

روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصاً دل کے لئے مفید چکنائی'' ایچ ڈی ایل ''کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اسی طرح دو مزید چکنائیوں ''ایل ڈی ایل''اور ٹرائی گلیسر ائیڈ کی سطحیں بھی معمول پر آ جاتی ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے اعتدالیوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزوں کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ دوران رمضان چکنائی والی اشیا ء کا کثرت استعمال ان فوائد کو مفقود کر سکتا ہے۔

دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤ ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls)کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے نزدیک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزا جم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis)سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے۔ روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے اور خون کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون کی کمی دور کر سکتے ہیں۔

روزہ کے دوران بعض لوگوں کو غصے اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس قسم کی صورت حال انانیت (egotistic)یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پر سکون اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجا آواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہیں اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔ روزہ کے دوران چونکہ ہماری جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے علاوہ انسانی تحت الشعور جو رمضان کے دوران عبادات کی مہربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور تسکین پذیر ہو جاتا ہے اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناؤ اور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ روزہ کی حالت میں ذہنی تناؤ تفکرات دباؤ ڈپریشن کم ہو جاتا ہے ۔

*ذیل میں شوگر ، گردوں ، جگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔

شوگر کے مریض: شوگر، گردوں ، جگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنے ڈاکٹر کے مشورہ سے روزہ رکھیں کیونکہ یہ امراض شدت اختیارکر سکتے ہیں اسی لئے ڈاکٹر کی زیر نگرانی رہنا ضروری ہے

شوگر کے مریض روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں،شوگر کے وہ مریض جو باقاعدگی سے انسولین کا استعمال کرتے ہیں وہ روزہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق رکھیں،خون میں شوگر کی سطح کاباقاعدگی سے چیک اپ کراتے رہیں کیونکہ شوگر لیول کم ہونے کی صورت میں بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے یا دورے پڑسکتے ہیں، شوگر کے وہ مریض جو بوڑھے ہو ںیا تنہا رہتے ہوں یا ان کی شوگر کنٹرول میں نہ ہو یا پھر انکودوسری بیماری لاحق ہو جن سے شوگر بگڑنے کا خطرہ ہو یا وہ ایسی دوائیں استعمال کر رہے ہوں جن سے دماغی حالت متاثر ہوتی ہوا ان مریضوں کے لئے روزہ رکھنا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل ہیں۔

گردوں کے مریض:سحر اور افطار میں بوائل پانی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں،سحری میں ا سٹیم سبزیاں کھائیں،جو کا دلیہ باقاعدگی سے استعمال کریں کیونکہ یہ گردوں کی صفائی کرتا ہے،اپنی غذا میں پروٹین کی مقدار کم رکھیں،پالک ، چاکلیٹ، سوفٹ ڈرنک سے پرہیز کریں۔ گرم مصالحے ، اچار کھیرا ، پالک ، ٹماٹر سے پرہیز کریں،سحر وافطار میں ایک گلاس پانی میں لیموں کا رس اور شہد ملاکر پئیں

جگر کے مریض:اپنے ڈاکٹرکے مشورہ سے روزہ رکھیں،ڈیری پر اڈکٹ ، نمک ، لال مرچ ، اور تلی ہوئی غذا سے پر ہیز کریں،کھیرا ، ککڑی ، آئس برگ ، تورئی ،لوکی، کدو اور میتھی کا ساگ کھانا مفید ہے،بینگن ، آلو ، ٹماٹر اور پالک سے پرہیز کریں،افطار میں ایک گلاس پانی میں شہد ملاکر اور تین کھجوریں کھائیں دس منٹ بعد پھلوں کی چاٹ کھائیں، کھجور یا منقہ کو رات بھرپانی میں بھگو کر پانی سمیت سحری میں استعمال کریں،شوربے والے سالن میں روٹی چور کر کھائیں،جگر اور گردے کے مریض پانی کی مقدار کا تعین معالج کی ہدایت کے مطابق کریں،اگر شوگر نہ ہو تو ایک گلاس تر بوز یا خربوز کا جوس پیءں۔

ہائی بلڈ پریشر:ہائی بلڈ پریشر کے مریض چند بنیادی احتیاط کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں، تلی ہوئی اور مصالحہ دار کھانوں سے مکمل پرہیز کریں،نمک کااستعمال کم سے کم کریں،کولیسٹرول لیول باقاعدگی سے چیک کروائیں،کولیسٹرول میں تو ازن رکھنے کے لئے سحری میں نہار منہ ایک گلاس پانی شہد اور لیموں کا رس ملا کر پیءں،سحرو افطار میں کچی لسی بغیر نمک کے پیئیں، سحری میں جو کا دلیہ اور پانی باقاعدگی سے لیں،سحری اور افطاری میں دس گلاس پانی پینے کی کوشش کریں،سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لیں۔ادویات کے اوقات کا ر کی ترتیب کے لئے معالج سے مشورہ کریں۔

سحری کھانے کے بعد ہم جلد سو جاتے ہیں یہ عادت بھی ہماری صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم سادہ غذا کا استعمال کریں جس سے روزہ کی روح قائم رہے اور اس کے فوائد حاصل کیے جائیں۔

***

مزید : ایڈیشن 1