اعلیٰ تعلیم اور میڈیا کا کردار

اعلیٰ تعلیم اور میڈیا کا کردار

جامعہ گجرات اور گجرات پریس کلب کے اشتراک سے فکر انگیز سیمینار

شیخ عبدالراشد

تعلیم اور ذرائع ابلاغ کا رشتہ بہت قدیم ہے ۔ میڈیا وسیع تر اور مؤثر ترین ذریعہ ابلاغ ہونے کے ناطے آج کے معاشرے کا اہم جزو بن گیا ہے جس کا اثر محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے انسانی زندگی کو متاثر کر رہا ہے عائلی زندگی ہو یا کاروباری، سیاسی نظام ہو یا اقتصادی، تعلیم ہو یا تجارت، صنعت ہو یا زراعت، صحت ہو یا اخلاق، انتظامی امور ہوں یا امن عامہ، ملک کے داخلی معاملات ہوں یا بین الاقوامی تعلقات، معاشرتی مسائل ہوں یا تہذیبی ادارے، لسانی تعبیرات ہوں یا ادبی تنازعے ، سائنسی تحقیقات ہوں یا علمی نظریات ، زندگی کا کوئی شعبہ ، کوئی گوشہ اور کوئی پہلو میڈیا کے دائرہ کار سے باہر نہیں۔ میڈیا انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے کا ترجمان ہے۔ تعلیم و تبلیغ کے دوسرے ذرائع میں اتنی وسعت نہیں ہے جتنی وسعت میڈیا کی ہمہ گیری نے اس کو دے دی ہے ۔ اس بات کا احساس گذشتہ دنوں گجرات پریس کلب کے زیر اہتمام سنجیدہ و فکری سیمینار میں شرکت کے دوران ہوا۔ گجرات پریس کلب کئی عشروں سے اپنے تحرک کی بنا پر مقبول ترین کلب ہے ۔ سماجی ذمہ داری کے تصور نے میڈیا کے کاندھوں پر جو ذمہ داری ڈالی ہے گجرات کی صحافی برادری اسے پورا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے ہوئے۔ پریس کلب کی موجودہ جواں عزم قیادت اپنے وژن کے مطابق سماج سدھار میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے عمل پیرا ہے ۔ ڈویلپمنٹ جرنلزم کے اصولوں سے مسلح ہو کر ذرائع ابلاغ انسانوں کی بہتر خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم اور میڈیا کا تعلق بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس حوالے سے علمی و فکری سیمینار کا گجرات پریس کلب میں انعقاد ہوا جس میں مہمان خصوصی یونیورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم تھے ۔ جناب وائس چانسلر گجرات پریس کلب پہنچے تو صدر راجہ تیمور طارق ، سینئر نائب صدر سید نوید الحسن شاہ، جنرل سیکرٹری عرفان حفیظ سمیت سینئر صحافیوں نے والہانہ استقبال کیا ۔ جامعہ گجرات اور گجرات پریس کلب کا رشتہ محض اعلیٰ تعلیم اور میڈیا کا روایتی تعلق نہیں بلکہ دونوں نے ہمیشہ باہمی یگانگت سے گجرات کے منظر نامے کو علمی و فکری رنگ میں رنگنے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے میں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے کالج اور یونیورسٹی کا خواب جنگ آزادی کے بعد ایک قلمکار اور صحافی نے دیکھا اور اسے تعبیر بخشنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ۔ سر سید احمد خاں ایک مصلح، مؤرخ اور صحافی تھے ۔ انہوں نے تحقیقی کتب کے علاوہ کئی رسالے بھی نکالے۔ سر سید احمد خاں جیسے درد مند دل رکھنے والے صحافی نے نہ صرف مسلم یونیورسٹی کا خواب دیکھا بلکہ وہ ہی ایم او کالج اور علی گڑھ یونیورسٹی کا بانی ہے اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے گجرات پریس کلب نے بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ 2002ء کے بعد جب پاکستان میں نئی یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تو سخن وروں کی بستی گجرات میں عرصہ دراز سے ایک یونیورسٹی کی ضرورت کے دیرینہ احساس نے سر اٹھانا شروع کیا تو اس وقت گجرات میں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کے لیے پہلی قرارداد گجرات پریس کلب نے ہی منظور کی اور پھر سینئر صحافیوں نے اس آواز کو اپنے زور قلم سے تحریک میں بدل دیا ۔ گجرات کی صحافی برادری نے یونیورسٹی کے قیام کے لیے قلمی اور اخباری کردار نبھانے کے ساتھ وفود کی شکل میں ارباب اختیار سے ملاقاتیں کیں اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ، صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود، ضلعی ناظم چوہدری شفاعت حسین اور ڈی سی او آغا ندیم و دیگر سے بار بار ملاقات کر کے انہیں نہ صرف یاد دہانی کروائی بلکہ صحافی برادری کے پر زور اصرار پر ہی سول سوسائٹی نے اس تصور کو گجراتیوں کی آواز بنا کر پیش کیا ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ گجرات یونیورسٹی کے قیام میں گجرات کی صحافی برادری کے کردار اور گجرات پریس کلب کی قرارداد کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے یونیورسٹی آف گجرات کا قیام عمل میں آیا ہے مقامی صحافیوں نے اس ادارے کی ترقی و بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کیا ہے ۔ گجرات یونیورسٹی کی انتظامیہ گجرات کی صحافی برادری کے کار خیر کو ہمیشہ تحسین کی نظروں سے دیکھتی ہے، چنانچہ جب جامعہ گجرات کے ہر دلعزیز اور متحرک وائس چانسلر گجرات پریس کلب پہنچے تو ان کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ۔

اعلیٰ تعلیم اور میڈیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے مہمان خصوصی کے ساتھ اس پر گفتگو کرنے کے لیے سول سوسائٹی کے حقیقی نمائندگان بھی موجود تھے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سینئر صوبائی راہنما ڈاکٹر طارق سلیم ، سٹیزن پولیس کے سربرآہ الحاج امجد فاروق، صنعتکار و سماجی کارکن میاں محمد اعجاز ، ممتاز سماجی و سیاسی راہنما جاوید اقبال بٹ گجرات جمخانہ کے سیکرٹری ، وحید زمان ڈولہ، سینئر صحافی و سابق صدر پریس کلب عبدالستار مرزا بھی شامل تھے۔ سیمینار کی نظامت کے فرائض سینئر نائب صدر جی پی سی سید نوید الحسن شامل نے بحسن و خوبی انجام دیئے۔ گجرات پریس کلب کے جواں فکر صدر راجہ تیمور طارق جو جامعہ گجرات کے سابق طالبعلم بھی ہیں انہوں نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں میڈیا باقاعدہ سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ گجرات کی صحافتی تاریخ ملکی تاریخ کا روشن باب ہے ۔ نسل نو بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہے ۔ مقامی صحافی جامعہ گجرات کے ساتھ پرخلوص تعاون کے ذریعے طلبہ کی علمی و تعلیمی ترقی کے لیے بہترین کاوشیں بروئے کار لاتی رہے گی ۔ آنے والے دنوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اپنے کردار کو اور مضبوط کریں گے ۔ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ عصر حاضر میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت واضح ہے ۔ اعلیٰ علمی اقدار کا احیاء ہی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا چراغ جلا سکتا ہے ۔ صحافت اور علمی اقدار کا گہرا تعلق ہے اسے مضبوط بنا کر ہم جہالت کے اندھیرے مٹا سکتے ہیں۔ ممتاز صنعتکار و سماجی کارکن میاں اعجاز نے کہا کہ جامعہ گجرات کی تعلیمی و سماجی خدمات بے پایاں ہیں۔ خوش قسمتی سے جامعہ گجرات کے وائس چانسلر کی قیادت میں یہ یونیورسٹی علمی شعور کے فروغ کو سماجی فلاح و بہبود کو ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔ ممتاز سیاسی و سماجی راہنما جاوید اقبال بٹ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم سماج و معاشرہ میں فروغ و آگہی کے درمیان اشتراک کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم کی قیادت میں جامعہ گجرات اعلیٰ تعلیم کو معیار کی سند کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ چیئرمین سی پی ایل سی الحاج امجد فاروق نے کہا کہ گجرات یونیورسٹی اس علاقہ کے لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے اس کی بدولت مقامی صنعتوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ ہمیں مہارتوں کے حامل پڑھے لکھے معاون یہیں سے مل جاتے ہیں۔ نسل نو کو علمی و شعوری آگہی کے نور سے منور کرنا ایک اہم سماجی خدمت ہے ۔ میڈیا بھی معاشرتی آگہی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ترقی کی راہوں میں اپنے حصے کا چراغ روشن کر رہا ہے ۔ جنرل سیکرٹری گجرات جمخانہ وحید زمان ڈوگہ نے کہا کہ دور حاضر میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ ملک میں پر امید اور روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور میڈیا باہمی اشتراک سے قومی تعمیر نو میں انقلابی کردار ادا کر سکتے ہیں تربیت تعلیم کا حصہ ہے ، صحافی برادری حرمت قلم کے ساتھ ساتھ فروغ تعلیم میں اپنا قلمی کردار ادا کرنے کے لیے کمر بستہ رہے ۔ سینئر صحافی اور سابق صدر جی پی سی مرزا عبدالستار نے کہا کہ صحافت کا حقیقی مطمع نظر سماج کی بے لوث خدمت ہے۔ گجرات کے صحافیوں کے لیے یونیورسٹی آف گجرات علم اور عظمت کا نشان ہے ۔ ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبعلم بالعموم زمینی حقائق سے نا بلد ہوتے ہیں ہم شعبہ ابلاغیات کے طالبعلموں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ عملی صحافت کے تقاضوں سے آشنائی کے لیے گجرات پریس کلب کے پلیٹ فارم سے مقامی اخباروں اور چینلوں کے دفاتر سے ربط بڑھائیں۔اسی طرح صحافی برادری کی تعلیم اور مہارتوں میں بہتری لانے کے لیے جامعہ گجرات ہمیشہ کی طرح اپنا دامن کھلا رکھے۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے مقدس مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ ہم ہر طرح سے یونیورسٹی آف گجرات کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سینئر نائب صدر پریس کلب گجرات سید نوید شاہ نے کہا کہ میڈیا اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جامعات کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔ تمام ذمہ دار ادارے سماج سدھار کے لیے یک جان ہوں گے تب ہی معاشرتی فلاح کا تصور پنپ سکے گا ۔ جی پی سی نے ہمیشہ یونیورسٹی آف گجرات کے حوالے سے مثبت صحافت کا فریضہ سر انجام دیا ہے ۔ سیمینار کے صدارتی خطبے میں وائس چانسلر جامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے نپے تلے انداز میں فکر انگیز گفتگو کی اور کہا کہ اعلیٰ انسانی اقدار کا فروغ بہترین نظام تعلیم و تربیت کا مرہون منت ہے ۔ سماج و معاشرہ کے تمام طبقات اپنی مخلصانہ سعی سے پاکستانی سماج کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں ۔ صحافی دیدہ بینا کی حیثیت میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ و ترقی میں قابل عمل کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سماجی ذمہ داری کو بطریق احسن پورا کر سکتے ہیں۔ عصر نو میں سوسائٹی کی صورت گری میں میڈیا کا کردار بے پایاں ہے ۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم کا مزید کہنا تھا کہ عصر حاضر میں اختراع و تخلیق نالج اکانومی کے اہم ذریعے ہیں۔ خود احتسابی انفرادی و اجتماعی سطح پر بہتر حکمت عملی ہے ۔ موجودہ صدی کے چیلنجوں کے مقابلہ کے لیے اختراعی و تخلیقی ذہنوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور صحافتی اداروں کو باہمی اشتراک عمل کے ذریعے پالیسی تبدیلی کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ گجرات کی صحافی برادری نے جامعہ گجرات کے امیج اور وقار کے لیے ہمیشہ اپنے پن کا مظاہرہ کیا ۔ اس موقع پر صدر پریس کلب راجہ تیمور طارق اور سینئر صحافی عبدالستار مرزا نے صحافیوں کی پیشہ وارانہ مہارتوں میں بہتری کے لیے جامعہ میں ڈپلومہ اور شارٹ کورسز کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جامعہ گجرات کو گجرات کی صحافی برادری اور پریس کلب کے کردار و تاریخ پر مقالہ رقم کروانا چاہیے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ GPS کے اشتراک سے مسلسل تین چار سالوں سے صحافی برادری کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس سال بھی جامعہ گجرات کا ڈائریکٹوریٹ آف میڈیا اینڈ پبلی کیشنز اس کا خصوصی اہتمام کرے گا اور ڈائریکٹر میڈیا ہی کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ گجرات اور صحافت کے موضوع پر تحقیق کے بعد اسے کتابی شکل میں شائع کریں۔ آخر میں مہمان خصوصی کو صحافی برادری نے یادگار پیش کی ۔ سیمینار میں ماحول فکری و علمی رہا، سول سوسائٹی کے راہنماؤں اور صحافی برادری نے جس جذبے اور شوق سے جامعہ گجرات کے وژنری وائس چانسلر کا استقبال کیا اور ایک اہم موضوع پر فکر انگیز سیمینار کا اہتمام کیا وہ جامعہ گجرات سے گجرات پریس کلب کی محبت کا عکاس ہے ۔ صحافی برادری کا قلم اور کیمرہ ذمہ دارانہ انداز میں تعلیم کے فروغ کا علمبردار ہو جائے تو سماجی آگہی اور آگاہی کا سفر منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔ تمام شرکاء نے اس کاوش پر گجرات پریس کلب کی فعال انتظامیہ اور جامعہ گجرات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے دونوں ادارے باہم مل کر کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔

***

مزید : ایڈیشن 1