زندگی کے اتار چڑھاؤ کی کہانی مزاحیہ ڈرامہ سیریل’’پیار سمندر پار‘‘

زندگی کے اتار چڑھاؤ کی کہانی مزاحیہ ڈرامہ سیریل’’پیار سمندر پار‘‘

حسن عباس زیدی

پی ٹی وی لاہور مرکز کے لئے پروڈیوسر شوکت چنگیزی کی ڈائریکشن میں بنائی جانے منی مزاحیہ ڈرامہ سیریل ’’پیار سمندر پار‘‘ کی ریکارڈنگ مکمل ہوچکی ہے اس ڈرامہ سیریل کو احمد عبدالرحمٰن نے تحریر کیا ہے اور خود بھی اس میں ایک منفرد کردار ادا کیا ہے ہے جبکہ دیگر نمایاں فنکاروں میں نیراعجاز، منز ہ عارف، صوفیہ مرزا، حارب فاروق،عثمان راج ،فجر لودھی اورطاہر ٹھاکر شامل ہیں ۔منی ڈرامہ سیریل ’’پیار سمندر پار‘‘ میں پروڈیوسر شوکت چنگیزی کو علی طاہر کی معاونت بھی حاصل ہے ۔’’پیار سمندرپار‘‘کے میڈیا کوآرڈینیٹر پی ٹی وی لاہور مرکز کے افسر تعلقات عامہ محمدکاملین خان ہیں۔اس ڈرامہ سیریل میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہیں۔مرکزی کردار ادا کرنے والے نیئر اعجازنے کہا کہ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہت کم ایسے رول ادا کئے ہیں میرارول پاور فل ہونے کے ساتھ ساتھ پرفارمنس سے بھرپور ہے۔میں ہمیشہ سے ان پراجیکٹس میں اداکاری کو ترجیح دیتا ہوں جن میں میرا کردار پاور فل ہو۔انہوں نے کہا کہ لوگ آج بھی اچھا کام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دن دور نہیں ہے جب فلمی صنعت ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہوجائے گی ۔’’پیار سمندر پار‘‘میں بہترین ٹیم ورک دیکھنے کو ملے گا ۔’’پیار سمندرپار‘میں میرا رول روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ جتنا زوال فلم انڈسٹری پر آیا ہے اس سے کہیں زیادہ عروج ڈرامہ انڈسٹری کو حاصل ہے ۔احمد عبد الرحمن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فلم انڈسٹری بھی دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ کامیابی کے لئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے ۔طاہر ٹھاکرنے کہا کہ میں صرف منتخب ڈراموں میں اداکاری کر رہا ہوں ۔جب تک میرے پرستار مجھے سکرین پر دیکھنا چاہیں گے میں اداکاری کرتا رہوں گا‘ کام کے ساتھ میری محبت جنون کی حد تک ہے‘ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکارہ اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔ یہ میرے کیرئیر کا یادگار ڈرامہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے چاہنے والے میرے کیرئیر کے آغازسے لے کر آج تک میری پرفارمنس کو پسند کرتے چلے آ رہے ہیں اور میری کوشش بھی یہی رہی ہے کہ میں بہتر سے بہتر کام کر سکوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ کردار پسند ہیں ۔صوفیہ مرزانے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ڈرامے پیش کرنے چاہئیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔’’اس جیسے پراجیکٹ روز روز نہیں بنتے۔ڈائریکٹر سمیت تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان ٹیلیویژن لاہور سینٹر میں عید الفطر کی خصوصی ٹرانسمیشن کے دیگر پروگراموں کی ریکارڈنگ جاری ہے اور جنرل منیجر لاہور سینٹر عبدالحمید قاضی اس عید کی خصوصی نشریات کو یاد گار بنانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ خصوصی نشریات کی نگرانی ایگزیکٹو پروگرام منیجر اظہر فرید کر رہے ہیں ۔خصوصی نشریات تین روز تک جاری رہیں گی اور اس کی لنکنگ کے فرائض پروڈیوسرمحسن جعفر ادا کریں گے ۔

پروڈیوسرآغا قیصر عباس خصوصی بچوں کیلئے پروگرام "ہم سب ساتھ ساتھ ہیں " کی ریکارڈنگ کر چکے ہیں اور اس کی ایڈیٹنگ میں مصروف ہیں ۔اس پروگرام کے میزبان ڈاکٹر خالد جمیل بچوں سے خاص محبت رکھتے ہیں اور عرصہ اٹھارہ سال سے ان کے پروگرامز کی میزبانی سنبھالے ہوئے ہیں ۔ پروگرام میں گورنمنٹ شاداب ٹریننگ انسٹیٹیوٹ علامہ اقبال ٹاون لاہورکے خصوصی بچوں اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔پروڈیوسر حسن احمد خان پروگرام" پٹاری "کی ریکارڈنگ میں مصروف ہیں ،عید کی تیاریوں کی ریکارڈنگ پروڈیوسر الیاس اور عید کے خصوصی پیغامات کی ریکارڈنگ پروڈیوسر میاں عثمان ظفر اورپروڈیوسر ملک ارشد شوکت کریں گے ۔

مزید : ایڈیشن 2