لاہور میں اجوکا تھیٹرکی بانی مدیحہ گوہر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس بھارتی ادیبوں ، دانشوروں اور تھیٹر سے وابستہ شخصیات کی شرکت

لاہور میں اجوکا تھیٹرکی بانی مدیحہ گوہر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس بھارتی ...

حسن عباس زیدی

اجوکا تھیٹر کے زیر اہتمام لاہور آرٹس کونسل کے الحمرا ہال نمبر 2میں ’’ سیلیبریٹنگ مدیحہ‘‘ کے عنوان سے رنگا رنگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ہمسایہ ملک بھارت سے آئے سات رکنی وفد نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔وفد کے سربراہ کیول دھیلوال نے مدیحہ گوہر کی شاندار فنی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدیحہ گوہر لاہور اور امرتسر کی سانجھی بیٹی تھیں اور انہوں نے اپنے فن سے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ۔ انسانی حقوق کی علمبرداری ہو یا تھیٹر کے ذریعے امن روابط پروان چڑھانامقصود ہو مدیحہ گوہر ہمیشہ جدوجہد کرنے والوں کی صف اول میں شامل رہیں ، انہوں نے مدیحہ گوہر کی فنی خدمات کے اعتراف میں ہرسال امرتسرمیں ’’ مدیحہ گوہر تھیٹر فیسٹیول ‘‘ اور مدیحہ گوہر امن ایوارڈ کروانے کا اعلان کیا جو پاکستان اور بھارت میں تھیٹرکے شعبے سے وابستہ فنکاروں اور شخصیات کو دیا جائے گا ۔ پروگرام میں بھارت سے آئی دیگر شخصیات نیلم مان سنگھ،مظہر حسین ، صاحب سنگھ، بی بی ہرجندرکور، رامیش یادو اور پرمیندر سنگھ نے بھی مدیحہ گوہر کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔ پروگرام میں مدیحہ گوہر کی حیات ، پیشہ ورانہ کیرئیر اور کامیابیوں پر مبنی خصوصی ڈاکو منٹری بھی دکھائی گئی جبکہ اجوکا تھیٹر کے فنکاروں نے مدیحہ گوہر کی زیر ڈائریکشن بنے مقبول ڈراموں بشمول کون ہے یہ گستاخ، شہر افسوس، چاک چکر،بلھا، دکھ دریا ، دیکھ تماشا چلتا بن سمیت دیگر کھیلوں کے اہم حصوں کو پرفارم بھی کیا۔پروگرام میں مدیحہ گوہر کے فرزند نروان ندیم نے وائلن پرفارمنس سے اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ کشف فاؤنڈیشن کی سربراہ روشانے ظفر نے عارفانہ کلام کی گائیکی سے لیجنڈ فنکارہ سے عقیدت کا اظہار کیا ۔پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ ، پی ٹی آئی کے رہنما ولید اقبال سمیت آئی اے رحمان ، حسین نقی ، جسٹس ناصرہ جاوید اقبال ، اصغر ندیم سید، کیپٹن عطا، روبینہ سہگل ، فرخ سہیل گوئندی سمیت دیگر نامور شخصیات نے بھی مدیحہ گوہر سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار شاندار الفاظ میں کیا، مقررین کا کہنا تھاکہ مدیحہ گوہر ایک نڈر خاتون تھیں جس نے آمرانہ دور حکومت میں تھیٹر کے ذریعے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور ہر قسم کی رکاوٹوں کی پرواہ کئے بغیر تھیٹر کو سماجی بیداری اور تعمیری تفریح کیلئے کارآمد ذریعے کے طور پر استعمال کیا ۔ انہوں نے پاکستانی کے روایتی تھیٹر کو نئے موضوعات اور جدید انداز میں پیش کرکے اسے عالمی سطح پر پذیرائی بخشی اور کئی عالمی اعزازات بھی حاصل کئے۔ پروگرام کے آخر میں مدیحہ گوہر کی فیملی اراکین خاوند شاہد محمود ندیم ، بیٹوں نروان اور سارنگ اور بہن فریال گوہر کے جذباتی کلمات پر ہوا جس کے بعد قوال پارٹی نے عارفانہ کلام ’’ آج رنگ ہے ‘‘ کی گائیکی سے سماں باندھ دیا ۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...