سر جھکا کر نوکری سے انکار کیا:نواز شریف

سر جھکا کر نوکری سے انکار کیا:نواز شریف

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ دیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ 2014کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا اور میرے خلاف جھوٹے، بے بنیاداور خودساختہ مقدمات کی وجہ جنرل مشرف کو سنگین غداری کیس میں کٹہرے میں لانا ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ آمریتوں نے گہرے زخم لگائے ہیں، میں مسلح افواج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، فوج کی کمزوری ملکی دفاع کی کمزوری ہوتی ہے، قابل فخر ہیں وہ بہادر سپوت جو سرحدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، سرحدوں پر ڈٹے ہوئے سپوت ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو جرنیل کرتے ہیں اس کی لذتیں مٹھی بھر جرنیلوں کے حصے میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت پوری مسلح افواج کو ادا کرنا پڑتی ہے۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھادیا گیا، مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو، بذریعہ زرداری پیغام دیاکہ مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے، میں نے مشرف کے دوسرے مارشل لاء کوپارلیمانی توثیق دینے سے انکار کیا، آصف زرداری نے مصلحت سے کام لینے کا کہا، وہ میرے پاس ایک قومی لیڈر کے ساتھ آئے تھے۔نوازشریف نے کہاکہ مشرف کیخلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتاہے، میرے خلاف جھوٹے، بے بنیاداور خودساختہ مقدمات کی وجہ جنرل مشرف کو سنگین غداری کیس میں کٹہرے میں لانا ہے۔ان کاکہنا تھاکہ سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں، جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے، جنوری 2014 میں مشرف عدالت کے لیے نکلا توطے شدہ منصوبے کے تحت اسپتال پہنچ گیا، پرویز مشرف پراسرار بیماری کا بہانہ بناکر دور بیٹھا رہا، انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو ایک گھنٹے کے لیے بھی جیل نہ بھجواسکے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2014کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا، مجھ پر لشکرکشی کرکے پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف غداری کیس کو چلانا اتنا آسان نہیں ہے، لشکر کشی کرکے پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلے جاؤ، میرے راستے پر شرپسند عناصر بٹھادیے گئے، منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے، مقصدتھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکا ل دیں، مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے، پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سے کچھ محفوظ نہ رہا، امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر؟ وہ جوکوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ مجھے منصب اورپارٹی صدارت سے ہٹانے اور عمر بھر کیلیے نااہل قرار دینا واحد حل سمجھ لیا گیا، طویل رخصت کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پرتھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹادیا گیا، پاناما میں عالمی لیڈرز کا نام بھی تھا،کتنے سربراہان کو معزول کیا گیا؟ پاکستان میں یہ کارروائی جس شخص کے خلاف ہوئی اس کانام نواز شریف ہے، نواز شریف کا نام پاناما میں نہیں تھا۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ میں نے قوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا پتا چلا تو بلا تاخیر اس وقت کے آرمی چیف اور حکام کوہدایت دی کہ 17دن میں دھماکوں کی تیاری کریں، ایٹمی دھماکے نہ کرنے پرمجھے 5ارب ڈالرکا لالچ دیا گیا، آج بھی وہ ٹیپ دفتر خارجہ میں موجود ہوں گی، میں نے وہی کیا جو پاکستان کے وقار اور مفاد میں تھا، پاکستان کی عزت اربوں کھربوں سے زیادہ عزیز تھی، ایٹمی دھماکے نہ کیے جاتے تو بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہوجاتی۔انہوں نے کہاکہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ قوم کو وہ پاکستان دیا جو زندگی کے ہر شعبے میں 2013 کے پاکستان کے مقابلے میں زیادہ روشن مستحکم توانا تھا، یہ اس ملک کے دانشوروں اور مبصرین نے دیکھنا ہے کہ 28 جولائی کے فیصلے نے اس پاکستان اور عوام کو کیا دیا، معیشت، توانائی اور انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کتنا نقصان پہنچایا، ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کتنی ہوا دی، ممکن ہے مجھے حکومت سے بے دخل کرنے سے کچھ لوگوں کی تسکین ہوگئی ہے لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ ملک کی جمہوریت، آئینی نظام اور احترام کو کیا ملا۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ میں نے سرجھکا کرنوکری کرنے سے انکار کردیا، میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا، میں نے خارجہ پالیسی کوقومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، مجھے ہائی جیکر کہیں، مجھے سسیلین مافیا کہیں، مجھے گاڈ فادر کہیں، مجھے غدار کہیں، فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے اس مٹی کا ایک ایک ذرہ پیارا ہے، میرے آباو اجداد ہجرت کرکے یہاں آئے، میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے عوام مجھ سے محبت کرتے ہیں، مجھے ووٹ دیتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لیے میں نا معتوب شخص قرار پایا، کبھی آئینی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی، سبق سکھانے کے لیے قید کیا گیا، کال کوٹھریوں میں ڈال دیا گیا، ہائی جیکر قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی، خطرناک مجرموں کی طرح ہتھکڑی ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا، ہر ممکن تذلیل کی گئی، ملک سے جلا وطن کیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور گھروں پر قبضہ جمالیاگیا، جب ساری پابندیا ں توڑ کر واپس آیا تو ہوائی اڈے سے ہی ایک بار پھر ملک بدر کردیا گیا۔نوازشریف کا کہنا تھاکہ کیا آج سے 19 سال قبل یہ سب کچھ پاناما کی وجہ سے ہورہا تھا، کیا میرے ساتھ یہ سلوک لندن فلیٹ کی وجہ سے کیا جارہا تھا، نہیں جناب والا، 19، 20 سال پہلے بھی قصور وہی تھا جو آج ہے، نہ اس وقت کسی پاناما کا وجود تھا نہ آج کسی پاناما کا وجود ہے، اس وقت بھی میں عوام کی حاکمیت اور حقیقی جمہوریت کی بات کررہا تھا اور آج بھی یہی کہہ رہاہوں، اس وقت بھی کہا تھا کہ داخلی و خارجی پالیسیوں کی باگ ڈور متنخب عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، آج بھی کہتا ہوں فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں، میں نے اپنے اقتدار اور ذات کو خطرے میں ڈالا کہ ڈکٹیٹر کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔نوازشریف نے کہا کہ جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے، اب یہ باتیں ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں، نااہلی، پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب ومحرکات کوقوم بھی اچھی طرح جانتی ہے، مجھے مقدمات میں کیوں الجھایا گیا، قوم اور ملک کا مفاد مزیدکہنے کی اجازت نہیں دیتا، جب فیصلے پہلے ہوجائیں توجوازکے لیے حیلے بہانے تراشے جاتے ہیں، مائنس ون کا اصول طے پاجائے تو اقامہ جیسابہانہ بھی بہت کافی ہوتا ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ، اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جابجا ملیں گے، کاش آج آپ یہاں لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی روح کوطلب کرسکتے، ان سے پوچھ سکتے کہ آپ کیساتھ کیا ہوا، کاش آپ سینئر ججز کو بلاکر پوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاء کو خوش آمدید کہتے رہے، کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کو بلاکر پوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟نوازشریف نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، فیصلے میں شروع سے آخر تک بدعنوانی کسی کو نظر نہیں آئی، نا انصافی ہر ایک کو نظر آرہی ہے، گواہ میرے خلاف ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کرسکے، عملاً میرے مؤقف کی تائید ہوئی، استغا ثہ میرے خلاف کیس ثابت نہیں کرسکا، مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں، اب تک ریفرنسز کی حقیقت آپ پرکھل چکی ہوگی۔

نواز شریف

اسلام آباد سٹاف رپورٹر،آئی این پی) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس اختتامی مراحل میں داخل ہو گیا۔ سابق وزیرا عظم نواز شریف نے آخری 4 سوالات کے جوابات دیدیئے جس میں ان کا کہنا تھا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے‘میرے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا ‘قوم اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے جانتے ہیں‘ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہوگی‘ مجھے سیسلین مافیا، گارڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے‘ کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں‘جمہوریت کا تختہ الٹنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے ۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔ نواز شریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا میرے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا قوم جانتی ہے، مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی جانتے ہیں، مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہوگی، مجھے سیسلین مافیا، گارڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں۔نواز شریف نے اپنا بیان میں کہا داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، 20 سال قبل بھی وہی قصور تھا جو آج ہے، اس وقت بھی نہ پاناما کا وجود تھا نہ آج ہے، جمہوریت کا تختہ الٹنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے ، قوم نے بھرپور ساتھ دیا، غداری مقدمہ میں وکلا سے مشاورت کی، وکلا نے مشورہ دیا مشرف کیخلاف نہ جائیں یہ مقدمہ ترک کر دیں، مشورہ نما دھمکیوں کا بھی سامنا کیا، آصف زرداری نے کہا کہ مشرف کے دوسرے مارشل لاء کی توثیق کر دیں، اسی میں مصلحت ہے۔ سابق وزیراعظم نے احتساب عدالت میں اپنے بیان میں کہا 12 اکتوبر کو مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا، سب نے آگے بڑھ کر مشرف کا استقبال کیا، 8 سال بعد دوبارہ آئین توڑا اور ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، ن لیگ نے واضح موقف اپنایا، 2013 میں یہ عوام کے سامنے رکھا، آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا۔احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی جس میں انہوں نے باقی 5 سوالوں کا جواب دیگر دو ریفرنسز میں گواہان مکمل ہونے کے بعد ریکارڈ کرنے کی استدعا کی۔ نواز شریف کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا جس پر عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے ‘اگلا الیکشن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر ہو گا‘دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے اور اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ارکان گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے ان کے سارے پول کھل رہے ہیں۔ بدھ کو احتساب عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے اور اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ارکان گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے ان کے سارے پول کھل رہے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف تو پہلے بھی پلان دے چکی ہے اس نے کیا عمل کیا؟ سوائے دھرنوں اور ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے انہوں نے کیا کیا؟ وہ صوبے میں اپنا کوئی ایک قابل ذکر کارنامہ بتا دیں،انہوں نے کہا تھا کہ 300 ڈیم بنائیں گے کہاں ہیں وہ ڈیم؟ کہاں ہیں درخت جو انہوں نے لگانے کا کہا تھا ؟ 50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو پی ٹی آئی نے بنانے کا کہا تھا،کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبر پختونخوا؟ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا تو جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے۔پارٹی بیانیے سے متعلق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہر چیز نوٹ کی جا رہی ہے لیکن قوم بھی ہر چیز نوٹ کر رہی ہے، پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے، اگلا الیکشن ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر ہو گا، اب تو جلسوں میں لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے ووٹ کو اور تم کہنا عزت دو۔ نواز شریف نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا لیکن مخالفین نے رکاوٹین پیدا کیں، احتساب عدالت میں بھی کچھ ثابت نہیں ہوا، مقدمات سے گھبرانے والے نہیں بلکہ مقابلہ کریں گے۔ منگل کو نواز شریف سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی، ملاقات میں مریم نواز ، طارق فضل چوہدری ، سعدرفیق و دیگر رہنما موجود تھے، اس موقع پر ایاز صادق نے نگران سیٹ اپ اور پارلیمانی امور پر نواز شریف کو بریفینگ دی، سعد رفیق نے نیب مقدمات پر نواز شریف کو بریفینگ دی۔ اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ مقدمات سے گھبرانے والے نہیں، بلکہ مقابلہ کریں گے۔ احتساب عدالت میں بھی کچھ ثابت نہیں ہوا۔ عوامی عدالت کا بھی فیصلہ آرہا ہے۔ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا لیکن مخالفین نے رکاوٹیں پیدا کیں۔ جتنا دباؤ گے لوگ اتنا ہی اعتماد کریں گے۔

جوابات

اٹک (نمائندہ پاکستان)سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے تم جھوٹ بولتے اور منافقت کرتے ہو،کے پی کے کے لوگوں کو دھوکہ دیا، تمہارا پول کھل گیا ہے، ایک نیا پاکستان بن رہا تھا، نوازشریف کو نکال کر پاکستان میں ترقی کی پہیہ روک لیا گیا ،بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر کے چلے جانیوالوں کو کوئی نہیں پوچھتا ، پا کستا ن میں ووٹ کو عزت دینگے اور عزت کروائیں گے ۔ بدھ کومسلم لیگ (ن)کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاآج اٹک میں بہار آئی ہے، اٹک گونج رہا ہے، آپ کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں ۔میں نو جوانوں کو دیکھ رہا ہوں، نوازشریف دن رات ان نو جوانوں کے روشن مستقبل کیلئے کام کررہا تھا اور یکا یک کام سے ہٹا دیا ، یہ نہیں دیکھا گیا نوازشریف نے چار سالوں میں کیا کیا ؟2013کو یاد کرو، کیا اٹک میں بجلی آتی تھی ؟ کتنے کتنے گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ؟ اٹھارہ سے بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ٗ کہاں لوڈشیڈنگ بھاگ گئی ٗ اب بجلی آگئی ہے اور ہم بجلی کو سستا بھی کر ینگے،اٹک ضلع میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے ۔ وہ کہتے تھے نیا کے پی کے بنائیں گے نیا بنانے سے پہلے اٹک کو آکر دیکھ لیں، تم نے کے پی کے لوگوں کو دھوکہ دیا ٗ ظلم اور زیادتی کی ہے ٗ آج پرانا کے پی کے نظر آ ر ہا ہے ٗ آپ اس کو اثار قدیمہ بنا رہے ہو ٗ جھوٹ بولتے ہو ٗ منافقت کرتے ہو ٗ تمہارا پول کھل گیا ہے ٗ مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف سرخرو ہیں ٗ کہتے تھے نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالیں گے یہ بالکل زیرو ہو جائے ٗ کہتے ہیں نوازشریف کو نواز لیگ کی صدارت سے نکالیں گے ٗ یہ زیرو ہو جائے ٗ کہتے تھے نوازشریف کو زندگی بھر کیلئے نا اہل کریں گے تو یہ زیرو ہو جائیگا ٗ یہ سب لوگ ٗمیرے ساتھی او دوست آج ووٹ کو عز ت دو کی باتیں کررہے ہیں۔نوازشریف نے کہا اٹک کے ارد گر د یہاں موٹر وے بن رہے ہیں ٗ حقلہ سے ڈیرہ اسماعیل تک موٹر وے بن رہی ہے اور یہ ژوب اور کوئٹہ تک جائیگی ،جنہوں نے اسلام آباد سے کوئٹہ جانا ہوگا وہ اسی موٹر وے سے جائیں گے ۔ موٹر وے مانسہرہ تک جائیگی ٗ چائنہ پاکستان کے بارڈر تک جائیگی ٗ پشاور سے اسلام آباد اور لاہور تک موٹر وے پہلے سے موجود ہے اور ابھی لاہور سے کراچی موٹر وے بن رہی ہے ٗ ملتان تک موٹر وے تیار ہوگئی ہے ،ایک نیا پاکستان بن رہا تھا آپ نے نوازشریف کو نکال کر پاکستان میں ترقی کی پہیہ روک لیا ہے۔ شیخ آفتاب احمد میرے پرانے اور مخلص دوست ہیں ٗان کا میرا بڑا پکا رشتہ ہے ٗ اٹک والوں سے جیل کا رشتہ ہے مجھے اٹک کے قلعہ میں بند کر دیا گیا ٗ چودہ ماہ اٹک اور کراچی کی جیلوں میں بند رکھا گیا ۔نوازشریف نے کہا میں آپ کی خدمت کررہا تھا ، ووٹ کو عزت دینی اور کرانی بھی ہے ، میں یہاں آؤ ں یا نہ آؤں ووٹ کو عزت دلوائینگے ۔جلسے کے دوران نو جوانوں نے نوازشریف کے حق میں لو یوکے نعرے لگائے جس کے جواب میں نوازشریف نے میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں ۔آخر میں نوازشریف نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی لگوائے ۔سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا میاں صاحب نے بتا دیا ہے مجھے کیوں نکلا ؟یہ بھی بتایا کس نے نکالا ؟نوازشریف کو تاحیات نا اہل کر نے ٗ پارٹی صدارت سے ہٹانے اور وزیر اعظم ہاؤس سے نکالنے کے بعد بھی عوام کی محبت کم نہیں ہوئی ہے ٗ جتنی مرضی لوٹے بنالیں ٗ عوام پارٹی نہیں چھوڑتے ووٹ دیتے ہیں۔ میں اٹھارہ سال بعد اٹک آئی ہوں ٗایک طرف میاں صاحب کو مشرف نے اٹک قلعہ میں قید کیا تھا ٗ دوسری طرف میرا بھائی اٹک جیل میں قید تھا ٗ ایک دفعہ میاں صاحب سے ملاقات ہوتی تھی اور پھر بھائی سے ہوتی تھی ہم تھکے ہارے جیل کے باہر دو دو گھنٹے انتظار کرتے تھے ۔ سزائے موت کے قیدیوں کو زنجیریں لگی ہوئی تھیں اور سزائے موت کے قیدیوں کو ہمارے ساتھ بٹھایا جاتا تو پھر بعد میں آدھا گھنٹا ملاقات ہوتی تھی اس وقت بھی اٹک والوں نے ہماری میزبانی کی تھی ۔ شیخ آفتاب نے اس وقت اپنے لیڈر کا ساتھ دیا اور وفا داری نبھائی تھی ۔ نوازشریف اٹھارہ سال پہلے اٹک کے قلعہ کے اندر آپ سے محبت کر نے کی سزا بھگت رہا تھا ٗاس وقت بھی آپ کے ووٹ کو جھکنے نہیں دیا ٗ ووٹ کی پرچی کو روندنے نہیں دیا گیا ، مشرف اور اس وقت کے چند جرنیلوں نے کہا استعفیٰ دے دو میں نے صاحب نے کہا استعفیٰ نہیں دینگے تب بھی ا نہو ں نے آپ سے محبت کی ٗ آپ سے کمٹمنٹ کی سزا بھگتی تھی آج بھی نیب کورٹ میں میاں صاحب روزے کی حالت میں نو بجے سے ایک بجے تک متواتر اپنا بیان ریکار ڈ کرواتے ہیں ۔

نواز، مریم

مزید : کراچی صفحہ اول