امریکا میں فائرنگ سے جاں بحق سبیکا شیخ عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خان

امریکا میں فائرنگ سے جاں بحق سبیکا شیخ عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خان

کراچی(کرائم رپورٹر)امریکی ریاست ٹیکساس کے سانتافی ہائی اسکول میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کوآہوں اورسسکیوں کے ساتھ شاہ فیصل کالونی میں واقع عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ،سبیکا کو ان کی دادی کے پہلو میں دفن کیا گیا ہے۔اس سے قبل ان کی نماز جنازہ یونیورسٹی روڈ پر واقع حکیم سعید گراؤنڈگلشن اقبال میں ادا کی گئی۔ نمازِجنازہ کی امامت وفاقی اردو یونیورسٹی کی مسجد کے مولانا حافظ اقبال نے کرائی۔نماز جنازہ میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ، وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال، سینٹر سلیم ضیا، ایم کیو ایم کے عامر خان، پی ایس پی کے مصطفی کمال،جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان،یونس بارائی، پیپلزپارٹی کے سعید غنی، تحریک انصاف کے حلیم عادل اور دیگر سیاسی ، مذہبی اور سماجی رہنماؤں سمیت سبیکا کے عزیزواقارب اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں آنے والوں کو تلاشی کے بعد داخلے کی اجازت دی گئی۔ اس موقع پرسیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد سبیکا کوشاہ فیصل کالونی میں واقع عظیم پورہ قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔قبل ازیں سبیکا شیخ کی میت بدھ کی علی الصبح ٹرکش ایئر لائن کی پرواز ٹی کے 708 کے ذریعے پاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر 32 منٹ پر کراچی پہنچائی گئی۔قومی پرچم میں لپٹی سبیکا شیخ کی میت کو ایئر پورٹ پر اے ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے سلامی پیش کی گئی جس کے بعد جسد خاکی کو ورثا کے حوالے کیا گیا۔سبیکا کی میت کو وصول کرنے کے لیے کارگو ٹرمینل پر قائم مقام امریکی قونصل جنرل سمیت پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی ،سید ناصر شاہ اورپاکستان تحریک انصاف کے رہنمافیصل واوڈابھی موجود تھے۔ میت لینے کے لیے لواحقین ایئرپورٹ کارگو کمپلیکس پہنچے، سبیکا شیخ کی میت والد شیخ عبدالعزیز اور والدہ کے حوالے کی گئی۔ بعد ازاں میت ایئرپورٹ سے ان کے گھر گلشن اقبال پہنچائی گئی۔ اس موقع پر سبیکا کے گھر کے باہر عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد موجود اور فضا سوگوار تھی۔میت کو نماز جنازہ کے لیے جس وقت لے جایا جانے لگا اس وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، اس موقع پر موجود ہر آنکھ نم تھی۔واضح رہے کراچی کی رہائشی 17 سالہ سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکا گئی تھیں اور 9 جون کو انہیں وطن واپس آنا تھا۔18مئی کو فائرنگ کے نتیجے میں 9 طالب علموں اور ایک استاد سمیت 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے تھے۔ فائرنگ کرنے والے 17 سالہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا تھا، جو کہ اسی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔سبیکا شیخ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں، وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔امریکا میں سبیکا کا میزبان خاندان ان کی اچانک موت پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، سبیکا کے بار ے میں بات کرتے ہوئے امریکی خاتون میزبان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہتی رہیں، خاندان کے سربراہ نے سبیکا کو قدرت کا سب سے قیمتی تحفہ قرار دیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول