لاپتہ ہونے ولاے شہزاد کا 13روز بعد بھی پتہ نہ چل سکا

لاپتہ ہونے ولاے شہزاد کا 13روز بعد بھی پتہ نہ چل سکا

پشاور(سٹا ف رپورٹر)پشاور کے گنجان آباد علاقے سے پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے نو عمر بچے کا تیرویں روز بھی کوئی سراغ نہ مل سکا، اسی وجہ سے نہ صرف بچے کے گھر میں کہرام مچا ہوا ہے بلکہ علاقہ میں بھی خوف و ہراس اور تشویش پیدا ہو گئی ہے مختلف سماجی اور تجارتی تنظیموں نے اس واقع کا سخت نوٹس لیتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے پر صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں تفصیلات کے مطابق پشاور شہر کے اندرونی اور انتہائی گنجان علاقہ میلاد چوک سے 13روز قبل 12سالہ محمد شہزاد اُس وقت لاپتہ ہو گیا جب وہ گھر سے روٹیاں لینے تندور کی جانب گیا محمد شہزاد کی گورنمنٹ مڈل سکول اندر شہر میں پانچویں جماعت کا طالب علم ہے محمد شہزاد کے والد شاہد خان نے ہر طرف تلاشی میں ناکامی کے بعد تھانہ ہشتنگری میں بچے کی گمشدگی یا اغوائیگی کی رپورٹ درج کرائی مقامی پولیس نے محمد شہزاد کی گمشدگی کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے محض روزنامچہ درج کر کے متاثرہ خاندان کو ٹرخا دیا پولیس نے روزنامچہ درج کرنے کے بعد محمد شہزاد کی کھونچ لگانے کیلئے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا ہتھہ کہ بچے کے ورثاء پر تھانے کے دروازے بند کر دیئے گئے بچے کی گمشدگی کے تیرویں روز گزرنے پر علاقے میں شدید خوف و ہراس اور تشویش پیدا ہو گئی ہے جبکہ اندر شہر کی تاجر تنظیموں نے پولیس کی اس اندھیر نگری کے خلاف احتجاج کیلئے صلاح و مشورے شروع کر دیئے ہیں عوام کی پکارنامی تنظیم کے صدر غلام حسین آفریدی نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحیٰ آفریدی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غمزدہ خاندان کی دل جوئی کرے غلام حسین آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے دورہ پشاور کے موقع پر ہشتنگری پولیس کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور مجرمہ غفلت کے خلاف بھر پور احتجاجی مظاہرہ کرینگے اور چیف جسٹس کو فوری کاروائی کیلئے درخواست پیش کرینگے۔

مزید : کراچی صفحہ اول