کراچی ،اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

کراچی ،اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام رمضان کے بابرکت مہینے کے حوالے سے ’’نعتیہ مشاعرہ‘‘ کا انعقاد اکادمی کے کراچی دفتر میں کیا گیا ۔جس کی صدارت ملک کی معروف شاعرہ ریحانہ روحی نے کی اور مہمانان خاص لندن سے آئے ہوئے معروف دانشور اقبال چشتی ،پروین حیدر، ابراربختیار،راغب تحسین تھے، اس موقع پرریحانہ روحی نے اپنے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں نعتیہ شاعری کی رفتار تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اب تو بعض شہروں کے حوالے سے نعت کے دبستان تشکیل پاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے دبستان کراچی دبستان لاھور اور دبستان فیصل آباد کی باتین بھی عام ہیں ۔ اس موقع پر قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ تخلیق کے علاوہ تحقیق، تنقید اور تدوین کا کام بھی نعتیہ ادب کے سرمائے میں اضافے اور اعتبار کا سبب بناہے۔ لکھنؤ کا دبستان شاعری ڈاکٹر ابوالایث صدیقی کا مقالہٰ شاعری کے عمومی رجحان کی عکاسی کرتاہے۔ لیکن یہ اردو ادب میں پہلا تحقیقی مقالہ ہے جس میں محسن کا کوروی کے نعتیہ کلام پر جائزے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ نعتیہ شاعری کے ادبی معیارات اور شعریت و شریعت کی پرکھ کی طرف متوجہ کرنے کی اولین کوشش ہے ۔اس موقع پر جن شعراء کرام نے حضور کی شان میں خراج عقیدت پیش کیا ان میں ریحانہ روحی، ابرار بختیار، اقبال چشتی ، راغب تحسین،پروین حیدر، سید منیف اشعر، سید علی اوسط جعفری، محسن سلیم، وقار زیدی، محمد معظم صدیقی، عرفان علی عابدی، تنویر حسن سخن ، الحاج یوسف اسماعیل، فہمیدہ مقبول شگفتہ شفیق، عشرت حبیب،طاہرہ سلیم سوز، شہنا رضوی، سیدۃ اوج ترمذی، فرح دیبا، سیدہ صابرہ ثروت، سید امتیاز علی، عاشق شوکی، شاہین شمس، امتیاز علی، علی کوثر، اقبال سہیوانی ، سید مشرف علی، کامران عثمان، محمد رفیق مغل، نصیر سومرو، دلشاد احمد دہلوی، فرخ اظہار، نشاط غوری،سعید جدون، سیماناز ، فرح کلثوم،پروفیسر ساجد اطہر ، پروفیسر فرزانہ خان، نے اپنا کلام سُنایا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر