شہباز اور نثار کی راحیل شریف سے ملاقات غیر قانونی تھی ، وزیراعظم

شہباز اور نثار کی راحیل شریف سے ملاقات غیر قانونی تھی ، وزیراعظم
شہباز اور نثار کی راحیل شریف سے ملاقات غیر قانونی تھی ، وزیراعظم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اس ملک میں کیا کچھ ہوا سب عوام کے سامنے لانا ہوگا۔ دھرنے میں کیا ہوا ‘ کون لوگ ملوث تھے اور ان کا کردار کیا تھا۔ حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ چودھری نثار اور شہباز شریف کا راحیل شریف سے ملنا غیر قانونی تھا۔ آئین کے خلا ف ورزی فوج اور سیاستدانوں دونوں نے کی ہیں اور ماضی کی غلطیاں آج بھی ہور ہی ہیں اگلی حکومت کسی کی بھی آئے تمام معاملات کی تحقیقات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس فوج نے نہیں بلایا تھا۔ نیب کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ نیب نے ملک کا نطام مفلوج کر کے ریکھ دیا ہے چیئر مین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار واضح نہیں ہے۔ شوکارزدیا جا سکتا ہے۔ چیئر مین نیب کو ہٹانے میں 10سے 15سال لگ جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کیا چیف جسٹس اور چیئر مین نیب کی وجہ سے حکومت نہیں چل رہی ہے۔ عدلیہ اور نیب سے ملک کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت مفلوج ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ کے عمل سے ملک کانقصان نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کو خدشات بنائے مگر انہوں نے اپنی باتیں کیں۔ چیف جسٹس کی باتوں پر ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ جمرود میں 132کے وی گرڈسٹیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا فاٹا انضمام کو ایک عمل کے تحت مکمل کیا جائے گا ، وسط ایشیاءسے زمین رابطے کیلئے پشاور تاکابل موٹروے بائیں گے ، اس وقت ملک میں 1700 کلو میٹر موٹروے بن رہی ہے ، آپ یہاں فیڈرز پر لا سز کو ختم کریں تاکہ 24 گھنٹے بجلی مہیا ہوسکے، فاٹا کے شہریوں کو ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والوں کی طرح تمام سہولیات ملی چاہئیں، 10برس تک 100ارب روپے سالانہ فاٹا میں خرچ کیا جائے تو تمام سکیمیں مکمل ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ اسی حکومت کے دور میں شروع ہو ااور اسی دور حکومت میں مکمل بھی ہوا، گرڈاسٹیشن کی تعمیر پر 78کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں، گرڈاسٹیشن کی تعمیر کیلئے زمین کی فراہمی پر مقامی افراد کا شکر گزار ہوں ، آپ یہاں فیڈرز پر لاسز کو ختم کریں ، تاکہ 24گھنٹے بجلی مہیا ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابتداءہے ، فاٹا میں ترقی کا سفر جاری رکھیں گے ، کے پی کے گیس کے معاملے میں خود کفیل ہے ، جلد باڑہ اور لنڈی کو تل میں گیس مہیا کی جائے گی ، ہم صرف کاغذی وعدے نہیں کرتے ، چاہے وہ بجلی کی ہوں یا موٹروے ہو ، ہم کام کرکے دکھاتے ہیں ، اس وقت ملک میں 1700 کلو میٹر موٹروے بن رہی ہے ، فاٹا انضمام کو ایک عمل کے تحت مکمل کیاجائے گا، فاٹا کے عوام کو بھی تمام سہولیات میسر ہونی چاہئیں ، ان کو وہی سکول ، اسپتال ، یونیورسٹی ، ملنی چاہیے جو پاکستان کے دیگر شہروں میں سننے والے لوگوں کو میسر ہیں ، ابھی 32ارب روپیہ سالانہ فاٹا کے نظام کو چلانے کیلئے خرچ کئے جاتے ہیں ، اگر 10برس تک 100ارب روپیہ سالانہ فاٹا میں خرچ کیا جائے تو تمام سکیمیں مکمل ہوں گی ، جماعتوں نے اتفاق کیا ہے ، اگلے مالی سال اس پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ فاٹا عملدر آمد کمیٹی میں تشریف لاتے ہیں ۔ انہوں نے بھی اس بات کا یقین دلایا ہے کہ جہاں فوج اور اس کے محکموں کی ضرورت ہوئی فوج دستیاب ہوگی ، تاکہ فاٹا کے نوجوان کو پاکستان کے دیگر نوجوانوں کے برابر مواقع ملیں ، فاٹا کے عوام کی نمائندگی کی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ راہداری ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے باعث علاقے کیلئے گیس فراہمی کا منصوبہ شروع نہ کر سکے ، وسط ایشیاءسے زمین رابطے کیلئے پشاور تاکابل موٹروے بنائیں گے، فاٹا کے عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کریں گے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد