فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر434

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر434
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر434

  

اس سے پہلے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے چندا کٹھا کرنے کی غرض سے ڈھاکا اور چٹاگانگ میں کرکٹ میچ کھیلے گئے تھے ۔ پاکستانی فلمی فنکار پہلی بار ڈھاکا گئے تھے جنہیں دیکھنے کو ایک عالم امنڈ آیا تھا ۔ یہ واقعات بھی ہم تفصیلاً بیان کر چکے ہیں ۔ اس دوسرے میں پاکستانی فلمی صنعت کے سبھی ممتاز فنکار شامل تھے ۔ پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ان کی نگرانی ہمارے سپرد کی گئی تھی ۔ ہم نے تمام فنکاروں کو بتادیا تھا کہ وہ کسی انجانے شخص کی دعوت قبول نہ کریں۔ نہ کسی کی کار میں بیٹھ کر ہوٹل جائیں اور نہ ہی کسی کو ملاقات کے لیے وقت دیں۔ سب کو ہم سے رابطہ کرنا ضروری تھا۔ فلمی فنکاروں کے لیے وہاں بھی لوگوں کا شوق جنون کی حدتک تھا۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ ڈھاکا ائر پورٹ پر ہزاروں افراد فنکاروں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے موجود تھے ۔ سیکڑوں شوقین پر ستارائرپورٹ کی چھت پر چڑھ گئے تھے جس سے کافی نقصان ہوا مگر شکر ہے کہ چھت سلامت رہی ۔ ہوٹل والوں کو ہم نے یہ واضح ہدایت دی تھی کہ کسی فنکارہ کے لیے موصول ہونے والی ٹیلی فون کال براہ راست انہیں نہ دی جائے بلکہ ہم سے رابطہ قائم کرایا جائے ۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر433 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس انتظام کے بعد کافی امن و سکون اور نظم و ضبط رہا ۔ بے شمار پرستاروں کے ٹیلی فون موصول ہوتے تھے جن میں سے ملاقات کے خواہش مندبھی تھے بعض کھاتے پیتے گھرانے فنکاروں کو اپنے گھر بھی مدعو کرنا چاہتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ وقت کی کمی اور دیگر مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہ تھا ۔ اس لیے ہم ہر ایک کو معذرت کر کے ٹال دیا کرتے تھے ۔ 

ڈھاکا ہماری فلائٹ شام ڈھلے پہنچی تھی ۔ سیکڑوں پولیس والے حفاظت کے لیے موجود تھے پھر بھی لوگ ان کا حصار توڑ کر اندر آگئے تھے جنہیں لا ٹھی چارج کے ذریعے نکالا گیا ۔ ہوٹل کے سامنے سیکڑوں افراد شب و روز صرف اس انتظار میں کھڑے رہتے تھے کہ شاید آتے جاتے فنکاروں کی ایک جھلک دیکھ سکیں ۔ یہی منظر کراچی کی میٹرو پول ہوٹل کے سامنے بھی دیکھنے میں آتا تھا ۔ جب کرکٹ میچ کے لیے فنکار کراچی جایا کرتے تھے ۔ 

ان واقعات سے صرف یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ایک زمانے میں فلمی فنکاروں کی کتنی عزت اور قدرو منزلت تھی اور لوگ ان کی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے کسی قدر تردد اور تگ و دو کرتے تھے ۔ آج فنکاروں کی طرف کوئی نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ 

۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ فلموں کو اب پہلے جیسی مقبولیت حاصل نہیں رہی ہے کیونکہ ان کا معیار انتہائی پست ہوگیا ہے۔ جب لوگ فلمیں ہی نہ دیکھیں گے فنکاروں کو پسند کیسے کریں گے ۔ 

۲۔ فلمی فنکاروں نے اپنے کرداراورآئے دن کے اسکینڈلز اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے کردار کشی کی وجہ سے عام لوگوں کو ان سے بدظن کر دیا ہے ۔ ان کی نظروں میں اب فن کاروں کی قدر و عزت نہیں رہی ہے۔ 

۳۔ فلمی فنکار بلا تکلف ٹی وی پر نمودار ہو کر عجب بے تکی باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے دیکھنے والوں کی رائے خراب ہوجاتی ہے اور وہ گھر بیٹھے انہیں دیکھ بھی لیتے ہیں ۔ 

۴۔ فنکار اب اسٹیج ڈراموں اور دوسرے پروگراموں میں بہت کثرت سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام ہزاروں افراد دیکھتے ہیں اور پھر ٹی وی کے ذریعے بھی بار بار پیش کیے جاتے ہیں ۔ اس وجہ سے فنکاروں کو دیکھنے کا اشتیاق ختم ہوگیا ہے۔ 

۵۔ آخری اور سب سے بڑی وجہ خود فنکاروں کی شخصیت ہے ۔ ہمارے موجودہ فنکاروں میں صحیح معنوں میں سپر اسٹار کسی کو کبھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سپراسٹار وہ فنکار ہوتا ہے جس کا نام ہی دیکھ کر فلم بین اس فلم کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ فلم خواہ کیسی بھی ہو وہ اپنے محبوب فنکاروں کی خاطر فلم کو ضرور دیکھتا ہے ۔ باکس آفس اسٹار بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جن کا نام باکس آفس پر فلم بینوں کی آمد کی ضمانت ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے فن ، شخصیت رکھ رکھاؤ اور جاؤبیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے فلمی فنکاروں کی نئی نسل میں ایسا کوئی ایک بھی فنکار موجود نہیں ہے جس کی فلم دیکھنا فلم بینوں کے ایک طبقے کے لیے لازمی حیثیت رکھتا ہو۔ ہیروئنوں نے ہر قسم کی اوٹ پٹانگ اور فضول فلموں میں اتنی کثرت سے کام کیا ہے کہ فلم بین ان سے اکتا چکے ہیں۔ مرد فنکاروں میں بھی اس وقت کوئی ایسا فنکار موجود نہیں ہے جس کو دیکھنے کی فلم بین تمنا کریں۔ لے دے کر ایک شان ہیں مگر ان کا یہ عالم ہے کہ وہ اردو پنجابی ہر فلم میں کام کرتے نظرآتے ہیں خواہ کردار کا تقاضا ہو یا نہ ہو۔ ایک تو کرداروں کی یکسانیت ہوتی ہے اس پر انہوں نے اپنے آپ پر سلطان راہی کا ٹھپا لگایا ہے اور ہر فلم میں ایک ہی قسم کے غضب ناک اور خوں خوار انداز میں نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے وہ پنجابی فلم بینوں کے ایک مخصوص طبقے میں پسند کیے جاتے ہوں لیکن عمومی طور پر ان کے اس انداز کو پسند نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی سچ ہے کہ فنکاروں کی نئی پود میں صرف شان ہی اپنے چہرے مہرے اور صلاحیتوں کی بنا پر نمایاں ہیں مگر لا ابالی طبیعت اور پیسہ کمانے کے لالچ نے انہیں خراب کردیا ہے۔ دلیپ کمار نے ساٹھ سال کی فلمی زندگی میں ساٹھ فلموں میں بھی کام نہیں کیا حالانکہ منہ مانگی قیمت پر فلم ساز انہیں سائن کرنے کے لیے ترسا کرتے تھے ۔ مگر ہمارے فنکاروں چند سالوں میں ہی سیکڑوں فلموں میں کام کر لیتے ہیں اور پھر فخریہ طور پر بتاتے ہیں کہ میں نے سیکڑوں فلموں میں کام کیا ہے اور ایک مہینے کے اندر فلم مکمل کرائی ہے۔ ان حالات میں سپر اسٹار کہاں سے آئے اور کیسے آئے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ ملک میں فلم سازی بہت کم ہوگئی ہے اور اردو فلمیں تو برائے نام ہی بن رہی ہیں۔ یہ تذکرہ دراصل برسبیل تذکرہ سمجھئے۔ 

ہم یہ بتا رہے تھے کہ جب پہلی بار مغربی پاکستان کے فنکار ڈھاکا اور چٹاگانگ پہنچے تو یہاں ہر طبقے کے لوگ ان کی دید کر ترستے تھے۔ ہماری تاکید اور پابندی کے باوجود ڈھاکا ائر پورٹ پر ایک ہنگامہ برپا تھا۔ روشنی کم تھی ۔ سورج ڈھل چکا تھا ۔ منتظمین کو کوئی جانتا پہنچانتا نہ تھا ۔ ایسے میں کئی امیر زادے ہیروئنوں کے پاس پہنچ کرانہیں اپنی کاروں میں بیٹھا کر ہوٹل پہنچانے کے لیے اصرار کرنے لگے۔ بعض نے یہ جھوٹ بھی بول دیا کہ وہ منتظمین میں شامل ہیں ۔ لاہور سے تیس سے اوپر فنکار اور نمائندے ڈھاکا پہنچے تھے۔ ائر پورٹ پر افراتفری کا عالم تھا۔ ہم نے فنکاروں کو فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عزیز احمد صاحب اور اداکار نصرت کاردار کی نگرانی میں دے دیا تھا مگر پھر بھی من چلے اپنے کام میں مصروف تھے۔ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ 

ہمیں کسی نے بتایا کہ بعض ہیروئنیں کچھ انجانے لوگوں کی کاروں میں بیٹھ کر گئی ہیں۔ ہم بھاگے بھاگے گئے ۔ ایک کھلی چھت کی شان دار گاڑی میں نیلو ، نگہت سلطانہ تشریف فرما تھیں۔ ایک اور بڑی سی کار میں چند اور ہیروئنیں بھی جلوہ گر نظر آئیں ۔ ہمیں بہت غصہ آیا۔ 

ہم نے نیلو سے کہا ’’آپ اس گاڑی میں کیوں بیٹھ گئی ہیں۔‘‘

کہنے لگیں ’’انہوں نے کہا تھا کہ ہوٹل پہنچا دیں گے ۔‘‘

’’آپ انہیں جانتی ہیں؟‘‘

’’نہیں ؟‘‘

’’کسی منتظم نے آپ کو اس کار میں بیٹھنے کو کہا تھا ؟‘‘

’’نہیں؟‘‘

’’تو پھر آپ اس کار میں کیوں بیٹھ گئیں۔ فرض کیجئے اگر یہ لوگ آپ کو کہیں اور لے گئے تو کیا ہوگا؟‘‘

وہ ڈر گئیں اور فوراً کار سے باہر نکل گئیں۔

کار کا مالک ایک اسمارٹ نوجوان تھا۔ اس نے کہا ’’سر ۔ میں ایک شریف آدمی ہوں۔ میں توصرف انہیں ہوٹل تک پہنچانا چاہتا تھا۔ ‘‘

ہم نے انہیں ڈانٹ دیا ’’ کسی کو اطلاع دیے بغیر آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ کے خلاف اغوا کی رپورٹ درج کرائی جا سکتی ہے۔‘‘

وہ گھبرا گیا ’’سوری سر۔ میں نے غلط فہمی میں ایسا کردیا تھا۔ معاف کر دیجئے۔ ‘‘

اس قسم کے مسائل تھے جن سے ہمیں ڈھاکا میں دو چار ہونا پڑ رہا تھا مگر ہم نے بہت سخت ڈسپلن قائم کر رکھا تھا جس کے سب معترف تھے۔ صدر عطااللہ شاہ ہاشمی صاحب‘ الیاس کاشمیری صاحب اور دوسرے معتبر لوگ ہمیں ہیڈ ماسٹریا رنگ ماسٹر کہنے لگے تھے۔ 

اسی زمانے میں ہماری پہلی بار انیس دوسانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ نوجوان ‘ اسمارٹ اور خوش لباس تھے۔ انہوں نے باقاعدہ وقت لے کر ہم سے ہوٹل میں ملاقات کی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ فنکاروں کو ایک شام مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان سے بھی معذرت کر دی اور بتایا کہ یہ لوگ صرف میچ کے لیے یہاں آئے ہیں۔ اس کے بعد چٹاگانگ جانا ہے اور واپسی پر ڈھاکا پہنچ کر لاہور۔‘‘

وہ بولے ’’تو پھر واپسی پر کوئی وقت نکل سکتا ہے؟‘‘

’’ناممکن ہے ۔ اس شام کی فلائٹ بک ہے ۔ کسی کے پاس وقت نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کچھ فنکار تھوڑا سا وقت نکال کر شاپنگ کے لیے بھی جائیں۔ امید ہے آپ ہمارا مسئلہ سمجھ گئے ہوں گے۔‘‘

وہ مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کر کے رخصت ہوگئے۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہا کہ ہم ان سے پہلی بار کب اور کہاں ملے تھے۔ انہوں نے بھی کبھی تذکرہ نہیں کیا۔ ممکن ہے انہیں بھی ہوٹل کی لابی میں ہونے والی یہ سرسری سی ملاقات یاد نہ رہی ہو۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر435 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ