وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 57ویں قسط

24 مئی 2018 (13:03)

وجیہہ سحر

اسامہ، عمارہ کی پشت کی جانب کھڑا ہوگیا اس نے اپنا دایاں ہاتھ عمارہ کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے اپنی انگلی سے اس کی انگلی پر خفیف سا دباؤ دیاٹریگر دب گیا اور گولی جا کے انار کے درخت پر لگی۔ اپنے ہی کیے ہوئے فائر سے عمارہ کانپ کے رہ گئی۔
عمارہ کی یہ حالت دیکھ کر سامنے بیٹھے ہوئے سب لوگ ہنسنے لگ گئے۔ عمارہ نے منہ بسور کر اسامہ کی طرف دیکھا اور پسٹل اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
’’خیر ہے شروع شروع میں ایسا ہوتا ہے‘‘ اسامہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 56ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
عمارہ، رابعہ کے ساتھ جا کے بیٹھ گئی۔ ظفر اور عارفین بھی وہیں بیٹھے تھے۔ باہر گیٹ پر بیل ہوئی۔ ظفر نے تعجب سے گیٹ کی طرف دیکھا۔’’اس وقت کون آسکتاہے۔‘‘ ظفر اٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھا۔
ظفر نے دروازہ کھولا تو وہ ہکا بکا رہ گیا خیام، حوریہ اور فواد کے والدین ماہین اور زبیر، رخسانہ اور توقیر ، ایمن اور وقار احمد سب ان کے در پر کھڑے تھے۔
’’آجائیں ۔‘‘ ظفر نے ان سب سے کہا۔ سب اندر آئے تو عمارہ اور ساحل بھی ان کا خلوص دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اتنی صبح وہ سب ان سے ملنے آئے ہیں۔ظفر نے ساحل سے کہہ کر ان کیلیے باہر ہی کرسیاں رکھ دیں۔
ظفر نے عمارہ سے سب کے لیے ناشتے کے بندوبست کر نے کو کہا تو رخسانہ اور ماہین نے کھڑے ہو کر عمارہ کو روک دیا۔ رخسانہ نے عمارہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔’’تم بس ادھر بیٹھو ہمارے پاس ہم تھوڑی دیر کے لیے آءٍٍٍٍٍٍٍے ہیں تم سب سے ملنا چاہتے تھے۔ ہم زیادہ دیر ٹھہرنا نہیں چاہتے اس لیے ناشتے وغیرہ کے جھنجٹ میں نہ پڑو۔‘‘
عمارہ ، رخسانہ اور ماہین کے پاس بیٹھ گئی۔ ماہین نے عمارہ کے شانے پر بانہیں حائل کر لیں۔ ’’جس مقصد کے لیے جا رہے ہو خدا تم سب کو کامیاب کرے۔‘‘
رخسانہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے عمارہ کی طرف دیکھا۔’’ہم نے تو جو کھونا تھا کھو دیا۔ تمہاری اس کوشش سے نہ جانے کتنے گھر برباد ہونے سے بچ جائیں گے۔‘‘
عمارہ نے رخسانہ کے شانے پر ہاتھ رکھا۔’’ان شاء اللہ ہم کامیاب ہی لوٹیں گے۔‘‘
ظفر نے ان سب کو اسامہ سے ملوایا۔ سب نے اس مشن کے لیے اسامہ کی حوصلہ افزائی کی۔ زبیر اور وقار نے ظفر اور اسامہ کو مشن سے متعلق ضروری باتیں سمجھائیں۔
وہ لوگ تھوڑی دیر ہی بیٹھے جب جانے لگے تو زبیر نے ظفر سے ایک بار پھر پوچھا۔’’اگر ہم کوئی مدد کر سکیں تو ہمیں ضرور بتانا ورنہ چار لوگوں کی ٹیم تم نے خود بنائی ہے ہم تو ہر طرح سے حاضر ہیں۔‘‘
اسامہ، زبیر کی طرف بڑھا، ماہین بھی زبیر کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس نے گہری نظر سے ماہین کی طرف دیکھا’’آپ دونوں دعا کیجئے گا اپنے بیٹے خیام کے لیے بھی۔۔۔شیطان ہمزاد سے اس جنگ میں خیام بھی لڑ رہا ہے۔ وہ بھی زرغام کا دشمن ہے۔‘‘
ماہین کی نگاہوں میں ممتا کے جذبات ابھر آئے۔’’میرے دل کو یقین ہے کہ لوگوں کو خون چوسنے والے شیطانوں میں میر ابیٹا نہیں ہے۔ اس کی نیک روح لوگوں کو شیطان ہمزاد سے بچانے کی کوشش میں گامزن ہے مگر میں تو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہوں۔‘‘ ماہین اپنے آنسو روک نہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اسامہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا’’میں بھی آپ کے بیٹے جیسا ہوں، آپ مجھے خیام سمجھ لیں۔‘‘
ماہین نے شفقت سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔’’جیتے رہو۔۔۔خداد تمہاری حفاظت کرے۔‘‘ زبیر نے بھی اسامہ کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔
’’اب ہم چلتے ہیں تم لوگوں کے پاس بھی وقت تھوڑا ہے۔‘‘ وقار احمد نے ظفر سے کہا پھر وہ سب چلے گئے۔
***
ساجد کی رات انگاروں پر کٹی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد ہی وہ بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس کادماغ اسے بار بار زرغام کے خلاف بغاوت پر اکسا رہا تھا۔ بچوں کی سکول وین کی روانگی میں ابھی کافی وقت تھا۔ وہ اس وقت کوٹھی میں تھا کیونکہ اس وقت زرغام واک کے لیے نکلتا تھا۔
اچانک اسے زہر کی بوتلوں کا خیال آیا پھر اس کا ذہن منصوبہ گھڑ نے لگا۔ اس وقت زرغام گھر پر نہیں تھا۔ اسے یہ علم تھا کہ زرغام زہر کی بوتلیں لے کر انے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
وہ برق رفتاری سے زرغام کے کمرے میں داخل ہوا اس نے الماری دیکھتی تو وہ لاک تھی۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی پھر اسے خیال آیا کہ شاید چابی سائیڈ ٹیبلز میں ہو۔ اس نے پھرتی سے سائیڈ ٹیبلز دیکھنا شروع کیے۔ بیڈ کے بائیں طرف پڑے ہوئے سائیڈ ٹیبلز میں سے اسے چابی نہیں ملی۔ اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا ساڑھے چھ بج رہے تھے، یہ وقت زرغام کی واپسی کا تھا۔
ساجد کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ پیشانی سے پسینہ آرہا تھا۔ اس نے ہمت کرکے دوسرے سائیڈ ٹیبلز میں چابی تلاش کی۔ اس نے اطمینان کا لمبا سانس کھینچا اسے چابی مل گئی۔
اس نے الماری کھولی تو زہر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں سامنے ہی پڑی تھیں۔ اس نے ایک بوتل اٹھائی اور اپنے کرتے کی جیب میں ڈال لی پھر اس نے جلدی سے الماری بند کر دی اور چابی اسی جگہ رکھ دی جہاں سے لی تھی۔ اس نے کچن کے کیبنٹ سے چائے کی کیتلی نکالی اور وہ چھوٹی سی شیشی اس میں رکھ کے کیبنٹ میں سنبھال لی۔
وہ کچن سے باہر نکلا ہی تھا کہ زرغام داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔’’ساجد! میری بیڈ ٹی تیار کرو۔‘‘
زرغام نے اپنے جوگرز کے تسمے کھولتے ہوئے کہا پھر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ساجد نے زرغام کے لیے چائے بنائی اور پھر چائے لے کر اس کے کمرے میں گیا۔
ساجد کمرے میں داخل ہوا تو زرغام آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ آئینہ خاصا بڑا تھا۔ وہ اپنے آپ کو سرتاپا دیکھ سکتا تھا۔
’’صاحب چائے۔۔۔‘‘ ساجد نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
زرغام شیشے کے سامنے سیدھا کھڑا تھا وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ جیسے اسے ساجد کی آواز ہی نہ آرہی ہو۔
اچانک ساجد کی آنکھوں نے ایک بھیانک منظر دیکھا جس سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ کپ کے پرچ سے ٹکرانے کی ٹک ٹک کی آواز اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ ظاہر کر رہی تھی۔
زرغام آئینے کے سامنے خاموش کھڑا تھا اور آئینے میں اس کا عکس بول رہا تھا۔
’’بچوں کی سکول وین والا معاملہ رہنے دو اور اپنی جان کی فکر کرو۔ وہ لوگ تمہیں مارنے آرہے ۔‘‘
ؔ ؔ ’’کون لوگ تم کس کی بات کر رہے ہو۔۔۔‘‘ زرغام نے پوچھا۔
زرغام کے عکس سے ایک بار پھر آواز ابھری۔ ’’عمارہ ، اسامہ، ساحل اور عارفین۔۔۔‘‘
زرغام کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا’’ان چاروں کی اتنی ہمت کہ زرغام کوختم کرنے کا سوچیں۔۔۔وہ میری کالی طاقتوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں، چلو اب تو کھیل اور بھی دلچسپ ہوگیا ہے۔ تم ایسا کرو کہ حوریہ، فواد اور وشاء سے کہو کہ بچوں کی سکول وین والا معاملہ رہنے دیں۔ وہ ہم پھر کبھی کر لیں گے، آج میرے حریفوں کو میری شیطانی طاقتوں کی تھوڑی جھلک دکھاؤ۔۔۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘‘ عکس میں سے آواز ابھری اور پھر سب کچھ نارمل ہوگیا۔
زرغام نے غصیلی نظروں سے ساجد کی طرف دیکھا’’تم کیوں اس طرح کانپ رہے ہو اور اس طرح کھڑے ہو کر میری باتیں کیوں سنتے ہو۔ جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔‘‘ زرغام نے اس کے ہاتھ سے چائے کی پیالی لیتے ہوئے کہا۔
ساجد بری طرح ڈر چکا تھا۔ وہ تیز قدموں سے کمرے سے نکلا اور کچن میں جا کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔’’عکس کس طرح باتیں کر سکتا ہے میں کہیں پاگل تو نہیں ہوگیا ہوں۔۔۔‘‘ ساجد اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔
وہ جانتا تھا کہ اب زرغام اپنا خاص عمل کرے گا وہ جلدی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے گا اس لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنے کوارٹر میں چلا گیا۔ اس نے جاء نماز بچھائی اور دو نفل ادا کیے پھر اپنے پروردگار کے آگے ہاتھ پھیلائے’’میں جو کرنے جا رہا ہوں میرے رب مجھے اس کے لیے حوصلہ عطا فرما اس ڈر کو میرے اندر سے نکال دے جو مجھے ایک شیطان کی خدمت کرنے کے لیے مجبور کر رہا ہے مجھے مومن کی وہ طاقت دے جو خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔‘‘(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 58ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں