شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 16

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 16
شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 16

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بعض دیہاتیوں کو تعجب بھی ہوتا تھا کہ میں اتنا عمدہ کھانا ان کے سپرد کر کے ان کا کھانا کیوں کھاتا ہوں ..... لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ میرے کھانے کا ذائقہ واقعی نہایت اعلیٰ لیکن طبعی نقطہ نظر سے صحت کے لیے مضر ..... اس کے بے شمار مصالحہ جات ..... بلدی ‘ دھنیا ‘ نمک ‘ مرچ ‘ زعفران ‘ بادام ‘ گھی ‘ زیرہ ‘ دار چینی ‘ اور نجانے کیا ..... یہ ساری چیزیں لذت تو ضرور رکھتی ہیں لیکن جسمانی نظام ‘ اعصاب ‘ دماغ ‘ خون اور نجانے دل و جگر پر کیا کیا اثرات وارد کرتی ہوں گی ..... یہ طبیب ہی جانتا ہے جبکہ ان کی غذا ..... خالص ..... صاف‘ صحت افزا اور مفید ہوتی ہے ..... 

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 15 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک بار عجیب اتفاق ہوا ..... میں کئی روز سے پوٹھا میں ٹھہرا ہوا تھا ..... میرے ساتھ حقانی کاظمی اور شاید دو ایک اور لوگ تھے ..... خیال یہ تھا کہ دوپہر تک آڑا پہنچ جائیں گے ..... صبح پوٹھا میں ناشتہ کر کے روانہ ہوئے ..... کھانے کا سامان ختم تھا اس لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام نہیں کیا .....اسلم نے کہا کہ راستے میں آٹا چاول اور مصالحے خرید کر آڑا ریسٹ ہاؤس میں مرغ پکائیں گے اور روٹی بن جائیگی ..... میں ابھی اس پر راضی ہو گیا ..... اور ہم لوگ روانہ ہوگئے ..... 

اتفاق کی بات ..... دو گھنٹے بعد ہی سب کو بھوک لگی ..... آس پاس کوئی آبادی بھی نہیں ..... ہم لوگ چلتے رہے اور بھوک میں شدت آتی گئی ..... سب کی حالت دوپہر تک خراب ہی ہوگئی ..... آڑا آنے کے لیے بڑی بلندی پر چڑھنا ہوتا ہے ..... اس چڑھائی نے سب کے ہوش اڑا رکھے تھے ..... دوپہر کے ذرا بعد ایک ڈیرے پر گذر ہو ا..... ایک ہی گھر تھا ..... اسلم اس گھر والے کے پاس گیا کہ کچھ کھانے کو مل جائے ..... اتفاق سے اس کے گھر میں اس وقت صرف ایک روٹی اور ایک گلاس دہی نکلا ..... ہم چھ سات آدمی تھے ..... وہی روٹی ایک ایک ٹکڑا سب کے حصے میں آئی اور وہی ایک گلاس دہی ایک ایک دو دو گھونٹ سب نے پیا ..... اور اسی طرح بھوکے مردہ پہنچے ..... ! 

ایسا ہی واقعہ ایک بار حیدر آباد دکن کے علاقے آصف آباد میں میرے ساتھ پیش آیا ..... لیکن دونوں کے نتائج کس قدر مختلف تھے..... ! میں علی الصباح گاؤں سے حسب معمول ناشتہ کرکے نکلا ..... یہ ایک چھوٹا گاؤں تھا ..... نام مجھے صحیح یاد نہیں رہا ..... کنٹھور..... بانتھور ..... وغیرہ کچھ تھا ..... میری یا داشتیں نذر آتش ہوچکیں ورنہ صحیح معلوم ہوجا تا .....

گاؤں سے میں نے حسب معمول اچھی طرح ناشتہ کیا تھا ..... اور وہ ناشتہ تھا ..... جوار کی روٹی ..... جو عام روٹی سے کافی جسیم ہوتی ہے ..... خالص مکھن اور ایک کوہ پیکر قطعہ ..... گڑ ..... جسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا تھا ..... اور دو انڈے جو دیہات طریقے سے تلے گئے تھے ..... میں نے جوار کی نصف روٹی مکھن اور گڑ سے کھالی ..... انڈے کھائے اور دو پیالی چائے پی ..... دوپہر کھانے کے لیے دو عدد پراٹھے ..... چار انڈے اور تھوڑا گُڑ ..... ساتھ تھا ..... 

بدوق اور شکاری جھولا ..... کیمرہ ..... پانی کی بوتل ایک آدمی نی اٹھائی اور میں کیمرہ اور رائفل لے کر نکلا ..... دوپہر تک ہم لوگ گاؤں سے نو دس میل جنگل میں آگئے تھے ..... سارا راستہ ہم کو بندروں نے تنگ کیے رکھا ..... لیکن یہ ایسی مخلوق ہے کہ ہندوستان کے جنگلوں میں بکثرت پائی جاتی ہے ..... نہ اس کا شکار کیا جاسکتا ہے نہ اس کی کھال گوشت یا اور کوئی چیز کارآمد ہے ..... الا یہ ان کو پکڑ کر چین یا جاپان وغیرہ برآمد کیا جائے جہاں ان کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ..... اور سری کی زیادہ قیمت ہے اس لیے کہ بندر کا مغز بہت سے ممالک میں delicacy تصور کیا جا تا ہے .....

دوپہر کے قریب ہم ایک چشمے کے کنارے ٹھہرے ..... میں ایک بڑی درخت سے پشت لگا کر بیٹھا رہا رائفل آمادہ ہاتھ میں رہی.....سامان بردار شخص سامان رکھ کر چشمے پر پانی پیتا رہا ..... ہاتھ منھ دھوئے پھر ذرا دیر پانی میں پاؤں ڈالے بیٹھا رہا ..... کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں پھر روانہ ہوا ..... مجھے ایک آدم خور کی تلاش تھا اور یہی علاقہ اس کی آماجگاہ بتایا گیا تھا ..... ظہر سے ذرا پہلے میں نے ایک چشمے کے کنارے رک کر آدمی سے کھانا نکالنے کو کہا ..... اس نے تھیلا شانے سے اتار کر کھولا ..... ایک تہہ میں دیکھا ..... دوسری میں جھانکا ..... پھر ادھر ادھر دیکھا ..... کھانا غائب ..... ! یہ نہیں معلوم ہوا کہ اس نے کس طرح وہ پوٹلی جس میں ہم دونوں کا کھانا باندھا گیا تھا کہاں گرادی ..... بھوک کا تو وقت ہی تھا..... لیکن ..... ہندوستان کے جنگل میں کوئی فاقے سے نہیں مرسکتا ..... نزدیک ہی شریفے کے بے شمار جنگلی درخت تھے ..... چرونجی کے تھے ..... جمال نے خوب پختہ پھل توڑے اور ہم دونوں نے شکم سیر ہو کر شریفہ کھایا ..... منھ کا ذائقہ بدلنے کے لیے چرونجی کے پھل بھی کھائے ..... اور وہی پانی پی کر میں نے وضو کیا اور ظہر کا فریضہ قصر کر کے ادا کیا ..... 

گاؤں واپس آکر معلوم ہوا کہ پوٹلی وہاں تو نہیں رہی ..... یقیناً راستے میں گر گئی ..... ! وسط ہند کے جنگلوں میں تو اس کثرت سے کھانے والے لذیذ پھل ہوتے ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ..... میں کئی بار ان کا تذکرہ کر چکا ہوں ..... 

ڈوب میں بھی ایک بار ہم اپنے کھانے کے بہت بڑے حصے سے ہاتھ دھو چکے ہیں ..... وہ یوں کہ کھانے کے سامان نوشاہ کے ربے میں رکھا تھا ..... ہم لوگ بیل گاڑیوں سے اتر کر ندی کی طرف چلے گئے اور بڑی دیر بعد کسی کی نظر ربے کی طرف گئی تو دو تین ریچھ ربے کے باہر اور ایک اندر گھسا نظر آیا ..... ہم نے شور کیا تو یہ ریچھ بھاگ لیے ..... ربے کو آکر دیکھا تو ان شریروں نے کھانے کا سامان بکھیر دیا تھا ..... اور غالباً شامی کبابوں کی خوشبو نے بکھر کر ان کو وہاں آنے کی دعوت دی تھی ..... میں اس کا قصہ بھی کسی کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں ..... (جاری ہے)

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شکاری