فاٹا اصلاحات، 31 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور

فاٹا اصلاحات، 31 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور
فاٹا اصلاحات، 31 ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات، 31 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کر لیا گیا۔ فاٹا اصلاحات بل کے مطابق صوبائی قوانین کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت 100 ارب روپے اضافی بھی ملیں گے۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے بل ایوان میں پیش کیا، قومی اسمبلی کے 229 ارکان نے 31 ویں آئینی ترمیم کے حق میں جبکہ 11 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بل منظور کرانے کیلئے ارکان اسمبلی کے 228 ووٹ درکار تھے۔

تفصیلات کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی خصوصی طور پر شریک ہیں۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم بل پیش کیا۔

حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ایوان میں موجود نہیں اور دونوں جماعتوں کے ارکان نے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔جے یو آئی (ف) کے رکن اسمبلی جمال الدین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین سے فاٹا کا نام آج نکل رہا ہے، فاٹا کے عوام سے رائے لئے بغیر نظام مسلط کریں گے تو پریشانی ہوگی۔جے یو آئی (ف) کی ہی رکن شاہدہ اختر نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنائیں ان کا حق نہ چھینا جائے۔پشتونخوا میپ کی رکن نسیمہ پانیزئی نے ایوان سے واک آو¿ٹ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کی رائے کے خلاف اقدام قبول نہیں۔

اس سے قبل ایوان میں مطلوبہ ارکان کی تعداد نہ ہونے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ سب کا بل ہے، ڈیڑھ سو سال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تو ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں۔فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علما اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے ترمیمی بل کی مخالفت برقرار ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد