انسانی علم سے ہسپتال ۔۔انسانی اَنا سے ہڑتال

انسانی علم سے ہسپتال ۔۔انسانی اَنا سے ہڑتال
انسانی علم سے ہسپتال ۔۔انسانی اَنا سے ہڑتال

  


عشق لفظوں کا محتاج نہیں۔ علم ہے۔ علم لفظوں ہندسوں کا محتاج ہے۔ علم کی یہی کم مائیگی ، انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ علم کو لکھنا پڑتا ہے۔اور، انسان کے ہاتھ کتابیں آتی رہتی ہیں۔ انسان پڑھتا جاتا ہے اور حیات و کائنات سے متعلق مزید جانتا جاتا ہے۔ پھر گذشتہ سات آٹھ ہزار سال میں، نسلِ انسانی کا علم ، سب سے زیادہ، لفظوں ہی سے بڑھا ہے۔ علم کو آگے بڑھانے کا اور کوئی بھی ذریعہ (بولے یا لکھے) لفظوں کے مقابل کہیں نہیں گویا۔ عوامی بات کی جائے تو پھر خاموش فلموں سے بولتی فلموں کی تاثیر کہیں زیادہ ہے۔ اور، خواص کو دیکھا جائے تو وہ خاص اپنے علم میں اضافہ کی خاطر کتابیں خوب پڑھتے نظر آتے ہیں۔ اور، کتاب کیا؟ الفاظ ہی، الفاظ کی پیشکش کا سنجیدہ ترین انداز ہی! مگر، لفظ کی اہمیت پھر کون سمجھ سکتا ہے۔۔۔ عشق تو کم ہی سمجھتا ہے!

عشق ایسا انا پرست کہ علم کو بھی کیا سمجھتا ہے! مگر، گھٹن زدہ غاروں سے ایئر کنڈیشنڈ کمروں تک آتا انسان علم کی اَہمیت خوب سمجھتا ہے۔ پھر، جو انسان ابھی کل تک اپنے زخموں پر پتوں کا عرق ٹپکاتا تھا یا مٹی کا لیپ کرتا تھا وغیرہ، اور جڑی بوٹیوں سے مہلک بیماریوں کا علاج کرتا مرتا تھا، آج وہ اپنی بستیوں میں جگہ جگہ کلینکس، ہسپتال بنا چکا ہے۔ جہاں بیماریوں اور زخموں کا علاج بہرطور، پہلے سے ، کہیں بہتر ہوتاہے۔۔۔ دوسری طرف، جوان شیرنی کا پہلو آج بھی دریائی گھوڑا چبا ڈالے تو اُس کے خوفناک جبڑوں سے رہائی پاتے ہی شیرنی پھر تڑپ کے دُور ہٹتی ہے۔ وہ اپنی جان اس گھڑی بچا تو لیتی ہے۔ مگر، اس کی دوا پٹی کرنے والاپھر جنگل بھر میں کوئی نہیں ہوتا،کہیں بھی نہیں ۔ ہاں، اُس گھائل شیرنی کا اُسی گھاﺅ سے مر جانا طے ہوجاتا ہے۔ پھر جب تک وہ زندہ بھی رہتی ہے بے چاری ، ہر لمحہ، اذیت میں رہتی ہے، کہ اس کی مرہم پٹی کرنے والا، کہیں بھی، کوئی ہوتا ہی نہیں۔ اور، وہ خود بھی اس قابل بالکل نہیں ہوتی۔المختصر، وہ زخمی شیرنی جب چلتی پھرتی ہے یا بیٹھتی ، لیٹتی ہے، تو اس کے نوچے گئے پہلو میں اس کا سرخ گوشت صاف دکھائی دیتا ہے۔ اُس پر بےٹھنے کو بے تاب مکھیاں بھی بہت سی نظر آتی ہے۔ وہ جوان شیرنی کچھ ہی دنوں میں مر جاتی ہے۔۔۔ انسان اب یوں نہیں بھی مرتا۔ دنیا کے تمام آپریش تھیٹرز میں حادثوں کے جتنے مریض روزانہ لائے جاتے ہیں، وہ سارے ہی آپریشن ٹیبل پر مر نہیں جاتے۔ ان میں کتنے تو پھر بچ بھی جاتے ہیں، اور مزید برسوں عشروں جی جاتے ہیں۔۔۔

اِس زمین پر ، اپنی عمر کی طبعی مہلت پر اپنا اختیار بڑھاتے ہی جاتے انسان کو علم کی اَہمیت کا عمیق احساس تو پھرہے۔ دراصل، یہ تو سامنے کی بات ہے کہ اب انسان کی طبعی عمر کی اوسط پہلے سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ صرف چار ہزار سال پہلے انسانی اوسط عمر چالیس برس سے بھی کم تھی، تو آج یہی اوسط عمر اَسی برس کو چھو رہی ہے۔ یعنی انسانی زندگی پہلے سے تقریباً دوگنا تو ہو بھی چکی ہے۔ یہ کتنا عظیم نفع ہے!!! اور، یہ نفع ابھی بڑھتا ہی جائے گا۔ محض ایک آدھ ہزار سال میں، انسانی عمر کی اوسط حیران کن حد تک بڑھ جائے گی۔۔۔ اور، یہ عظیم ترین اعجاز پھر صرف اور صرف علم کے باعث ہی تو ہو گا!

عشق تو مگر انسان کو ایسا کچھ بھی نہیں دے پاتا۔ ۔۔ ہاں مگر، اس کی باتیں!!! اور عشق کا ایک بڑا کمال یہ کہ وہ اپنی ہر بات پر قائم رہتا ہے۔ اُس کی بات بھی تو پھر بات خدا کی ہے ۔۔۔ عشق، اپنی انتہا پر پہنچ کر، خالقِ کل سے ملاقات کرنے اور کروانے کا مقام ہے گویا۔ عشق براہِ راست منزل پر پہنچنے، پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ہاں، یہ، عشق کا دعویٰ ہے! مگر، عشق یہ دعویٰ بھی تو اپنے علم ہی کے دَم سے کرتا ہے۔ علمِ خدا کے دَم سے۔ اور، عشق اگر علمِ خدا ہی سے محروم ہوتا، وہ ہوتا ہی نہ گویا۔ عشق تواپنے ہونے کے لئے بھی علم ہی کا محتاج! صرف یہ کہ وہ جانتا نہیں۔ صرف اِس لئے کہ وہ جاننا چاہتا ہی نہیں۔ ۔۔

قصہ مختصر، جیسے آج کل ، خود اپنے عاشق، ہمارے ڈاکٹرز دیکھنا بھی نہیں چاہتے کہ بیماروں، مریضوں کا حال کیسا پتلا ہے۔ اور خود سے عشق حد سے بڑھ جائے تو مکمل سفاک ہوجاتا ہے۔ صد شکر کے ہمارے ڈاکٹرز اتنے سفاک بہرصورت نہیں کہ شدید زخمیوں سے بھی منہ پھیرتے جائیں۔پھر، ایمرجینسی وارڈز میں ڈاکٹرز مسیحا بن کر موجود ہی رہتے ہیں۔۔۔

یوں تو ڈاکٹر کہیں بھی ہو، معاشرہ کے لئے اپنے وجود کی اہمیت خوب جانتا ہے۔ اور ابھی کل کی بات ہے ،مغرب میں ڈاکٹرز خود کو زمین پر دیوتا ہی سمجھتے تھے کہ جو انسانی جسم پر جھپٹتی معذوری یا موت کو باآسانی ٹال سکتے تھے۔ خیر یہی عظیم کام تو ہمارے ڈاکٹرز بھی، دن رات، کرتے جاتے ہیں۔ تو پھر ان میں انا بھی بہت ہے۔۔۔

پاکستانی ڈاکٹرز میں دو طرح کے افراد ہیں۔ اول ، وہ جو میرٹ پر میڈیکل کالج میں پہنچے ۔ اور انہوں نے پھر خوب محنت سے ڈگری لی۔ ان کو اپنی ذہانت وفضیلت پر بڑا مان رہتا ہے۔ ان کا مان خوب سچا ہے۔۔۔ دوم، وہ نوجوان جو پرائیویٹ میڈیکل کالجز یا روس، چائنہ وغیرہ سے پڑھ آتے ہیں۔ ان کو اپنے والدین کی دولت اور اپنی ڈگری آف میڈیسن پر ناز ہوتا ہے۔ ان کا نخرہ بھی سراسر جھوٹا نہیں ہوتا گویا۔ سرٹیفائیڈ ڈاکٹرز تو وہ بھی ہوتے ہیں۔ یوں، مل ملا کر، ڈاکٹرز اب کافی ہیں۔ جن میں کثرت نوجوان ڈاکٹرز کی ہے ۔ پھر، جن میں غضب کی انا ہے ۔ اور سیاسی سمجھ بُوجھ بھی اتنی ضرور ہے کہ ےنگ ڈاکٹرز میں یکجہتی بھی کافی ہے۔ پھر، ایسے سخت دل جلے سماج میں اتنی سفاکی ہمارے ڈاکٹرز تک باآسانی اختیار کر لیتے ہیں کہ جونہی کہیں اپنا کوئی استحصال محسوس کرتے ہیں، وہ ہڑتال ہی کر دیتے ہیں۔ مریض جائیں بھاڑ میں ، کریں دوا کی جگہ صرف دعا پر گذارا۔۔۔ مگر، کسی بھی قوم کا گذارا اس طرح کہاں ہوتا ہے!

پھر، حکومت کوئی ہو، اپنے تمام اختیارات کے باوجود، ڈاکٹرز سے ہرممکن نرمی سے بات چیت ہی کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ جس کا نتیجہ بھی بیشتر بہتر ہی برآمد ہوتا ہے۔ ہسپتالوں میں ہڑتال ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ خیبرپختونخواہ میں جاری ہڑتال بھی بالآخر مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ یہی توقع اور یہی تمنا ہر پاکستانی کی ہے۔ مگر، اے کاش! جلد ہی،ہم لوگ بطور حکمران ایسے عمدہ منتظم اور بطور ڈاکٹرز اےسے انسان دوست ہو جائیں کہ چاہے کچھ ہو جائے مگر ہمارے ہسپتالوں میں کبھی ہڑتال نہ ہو! اور جہاں ہسپتالوں میں بھی ہڑتال عام ہوتی ہے وہاں انسان کے دل میں انسان کی ناقدری کتنی شدید ہوتی ہے! مگر، جہاں انسان کی ایسی ناقدری ہوتی ہے، وہاں قوم بھی خوب کہاں بنتی ہے! قوم تو، گہرائی میں، بنتی ہی اِک دوجے کی قدر سے ہے ۔۔۔ اِک دوجے کی قدر کی پھر کیسی ضرورت ہے، بالخصوص ہم اَہلِ پاکستان کو! جن کے وطن میں حتیٰ کہ ہسپتالوں میں ہڑتال ہو جاتی ہے۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید : بلاگ