نئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی

نئی مرکزی رویت ہلال کمیٹی

وفاقی حکومت نے عیدالفطر کے حوالے سے ماہِ شوال کا چاند دیکھنے کے لئے چار رکنی نئی کمیٹی تشکیل دی ہے،اس کے سربراہ بھی مفتی منیب الرحمن ہی ہوں گے۔کمیٹی کا اجلاس4جون کو کراچی میں ہو گا،وزارت مذہبی امور کے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں سید مشاہد حسین خالد، حافظ عبدالقدوس اور شعبہ موسمیات کے نمائندے شامل ہوںگے،نوٹیفکیشن کے مطابق اسی روز (4جون) زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے بھی اجلاس ہوںگے۔اگرچہ نوٹیفکیشن میں وضاحت نہیں کی گئی اس کے باوجود نئی چار رکنی کمیٹی کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ پہلے سے موجود مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اب وجود نہیں اور وہ از خود تحلیل ہو گئی ہے،اس سے پہلے روایت یہ تھی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نامزد ہوتی، جس میں ہر مکتبہ فکر کے ممتاز علماءکو شامل کیا جاتا اور اجلاس کے روز مقامی رویت ہلال کمیٹی بھی اجلاس میں شرکت کرتی،جبکہ بقول مفتی منیب الرحمن محکمہ موسمیات کے علاوہ سپارکو اور دوسرے متعلقہ اہم اداروں کی معاونت بھی حاصل ہوتی تھی، حالیہ نوٹیفکیشن میں ایسی کوئی وضاحت نہیں، صرف چار اراکین کی نامزدگی کی گئی، بہتر ہو کہ وزارت مذہبی امور باقاعدہ وضاحت کر دے۔یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ چاند کی رویت کا معاملہ نازک اور حساس ہے، ہر کسی کی خواہش ہے کہ چاند کی رویت پر اختلاف نہ ہو، تاہم ایسا ہوتا ہے ، وفاقی وزیر فواد چودھری کی مہربانی سے اس پر بھی اختلاف ہوا، ان کی وزارت کی طرف سے پانچ سال کا قمری کیلنڈر تیار کر کے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا گیا ہے اور خود بقول ان کے رائے مل جانے کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کر کے رائج کیا جائے گا۔ ابھی یہ تکمیل تو نہیں ہوئی،اِس لئے کمیٹی کی ضرورت تھی کہ رویت ہو سکے،اِس لئے وزارت مذہبی امور کا یہ فیصلہ درست ہے،اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہو گی اور وزارت مذہبی امور کے ساتھ مشاورت کر کے ہی کیلنڈر کو رواج دینا ہو گا اور بھی لازم ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے بھی فیصلہ غیر متنازعہ ہو، اللہ کرے اس بار تو عید ایک روز ہو۔

مزید : رائے /اداریہ