ماضی اور حال کا رمضان، بی فاختہ کے انڈے؟

ماضی اور حال کا رمضان، بی فاختہ کے انڈے؟
 ماضی اور حال کا رمضان، بی فاختہ کے انڈے؟

  

پرانی ضرب المثل ہے، ”دکھ سہے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں“ بظاہر تو سیدھی بات ہے کہ فاختہ بے چاری گھونسلہ بنا کر انڈے دیتی ہے اور یہ کوے تاک میں رہتے ہیں جونہی فاختہ دانا دنکا لینے کسی طرف جاتی ہے تو یہ کوے فوراً جھپٹتے اور انڈے توڑ کر کھا جاتے ہیں، اور پھر کائیں کائیں بھی کرتے ہیں۔

آج کل بھی یہی موسم ہے اگر کسی پارک میں جانے کا اتفاق ہو تو یہ کوے ہی کائیں کائیں کرتے نظر آئیں گے اور یوں محسوس ہو گا کہ ان پر پریشانی کا کوئی پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ یہ ضرب المثل یونہی یاد آ گئی، حالانکہ آج بالکل ایسا موڈ نہیں کہ دکھ رویا جائے کہ یہ تو معمول ہو چکا ہے، ہر روز دکھ ہی کا سامنا ہوتا ہے جیسے آج صبح محلے میں آنے والے ریڑھی والے سے بچوں کے لئے چاٹ کا سامان لینے کی کوشش کی اور جیب کٹ جانے کا احساس ہوا کہ درجہ دوئم کے پھل بھی استطاعت سے باہر محسوس ہوئے کیلے 150روپے درجن، سیب تین سو روپے کلو، خربوزہ 120 روپے کلو اور آڑو دو سو روپے فی کلو کے حساب سے دیئے۔

ہم نے بہت خصیص پن کا مظاہرہ کیا۔ چھ کیلے، آدھ کلو آڑو، ایک چھوٹا سا خربوزہ اور ایک کلو سیب لے کر 550روپے خدمت میں پیش کر دیئے ساتھ ہی گھر والوں سے گزارش کی کہ کم از کم دو روز تو یقینی گزارہ کرنا ہے اور ممکن ہو تو تیسرے کے لئے بھی بچا لیں، لو! پھر رو بہک گئی حالانکہ سوچا تھا آج اپنے بچپن اور لڑکپن کے رمضان اور شہر کی روائت کا ذکر کریں گے جب یہ ریستورانوں والا کوئی بکھیڑا بھی نہیں تھا۔ چلئے چھوڑتے ہیں کہ آج یہ قوم بی فاختہ ہے اور کوے انڈے بھی کھا کر کائیں کائیں کئے چلے جا رہے ہیں۔

قارئین کی خدمت میں ایک سے زیادہ بار گزارش کر چکے ہوئے ہیں کہ ہماری پیدائش اندرون شہر کی ہے جب لاہور واقعی لاہور تھا۔ فصیل کے چاروں طرف بہترین باغات تھے اور درمیان میں نہر بھی بہتی تھی، یہ درست کہ تب آبادی بھی کم تھی لیکن باغبانپورہ، مصری شاہ، مغل پورہ، اچھرہ، مزنگ، ساندہ، رام گلیاں اور کرشن نگر کے ساتھ اس دور کی جدید سوسائٹی ماڈل ٹاﺅن بھی تھی۔

فیروزپور روڈ اور جیل روڈ درختوں سے بھرپور سڑکیں اور ان کے اطراف میں بڑی بڑی کوٹھیاں تھیں، اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ دور ایوبی میں لاہور میونسپل کارپوریشن کے وائس چیئرمین چودھری محمد حسین لاہوری (مرحوم) تھے، ان کی کوٹھی فیروزپور روڈ پر اچھرہ سے ذرا پرے تھی، ماشاءاللہ قریباً 8کنال رقبہ تھا، آج کل سڑک کی طرف دکانیں اور اندر کوٹھی میں ان کے صاحبزادے کی ملک فوڈ فیکٹری ہے، جب چودھری محمد الیاس کی شادی ہوئی تو ولیمہ کی دعوت میں شرکت کے لئے تب کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان (مرحوم) بھی آئے تھے، ان کی آمد کا جشن سا منایا گیا۔ بھرپور استقبال ہوا اور لاہور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے ایک پورا دن لگا کر سڑک کے کناروں والے درخت دھوئے تھے۔ سرسبز لاہور کا اندازہ اسی سے لگا لیں۔

ذکر مقصود تھا رمضان المبارک کا، ہمارے بزرگ پرانی اقدار کے لوگ تھے، جونہی ہم کھیلنے اور بولنے کے اہل ہوئے تو ہمیں محلے کی مسجد میں عربی قاعدہ دے کر بھیج دیا گیا اور سلسلہ تعلیم اس چھوٹی سی مسجد سے شروع ہوا۔ شرارتیں دینی ابتدائی تعلیم ساتھ ساتھ تھی۔ اسی دوران جب رمضان المبارک کا مبارک مہینہ آیا تو محلے بھر میں جشن کی سی کیفیت پیدا ہو گئی، ہمارے گھرانے میں بھی سب بالغوں نے روزے رکھے۔ ہم نے بھی ضد کی تو ہمارا روزہ ”چڑی روزہ“ رکھایا گیا، جس میں کبھی کبھار کھانے پینے کی اجازت تھی۔

اس کے بعد اور ہوش سنبھالی تو ”چھکے“ والا روزہ رکھا گیا جو دوپہر کو اتار کر افطار کر لیا جاتا تھا، یہ سلسلہ چلا تو وہ وقت بھی آ گیا جب ہم پرائمری سکول کے طالب علم تھے اور روزے کی اہمیت سے آگاہ ہو چکے تھے، گھر میں لاڈلے تھے(اکلوتے ہونے کے باعث) چنانچہ روزہ رکھانے کا اہتمام کیا گیا، ہمارے دوستوں اور چند ہمسایہ حضرات و خواتین کو مدعو بھی کیا گیا۔

ہمیں یاد ہے کہ وہ گرمیوں اور غالباً ساون کا ابتدائی مہینہ تھا چنانچہ ہمارے گھر میں بکرے کے گوشت کا سالن اور پراٹھوں کا اہتمام ہوا،(یہ سب دیسی گھی میں پکتا تھا) ساتھ دہی اور لسی منگوائی گئی اور سب نے جی بھر کے یہ سادہ سحری کھائی اور پھر مسجد میں جا کر باجماعت نماز پڑھی، افطار کے حوالے سے بھی اہتمام ہوا، گوشت کے علاوہ ایک سبزی تھی، دودھ میں کتیرہ گوند، تخم ملنگاں شامل کرکے اسے لال شربت سے میٹھا کیا گیا تب یہ برانڈ نہیں تھے۔ خوشبو دار لال رنگ والے شربت کو لال شربت کہا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ اضافی طور پر ہمارے والد صاحب مرحوم نے آم اور خوبانی کا اہتمام کیا تھا، یوں مولوی صاحب (جو ہمارے عربی قاعدے کے استاد بھی تھے ) کو بلایا گیا اور بڑے خشوع و خصوع کے ساتھ دعا کے ساتھ افطار ہوا، یہ ابتدا تھی اور تب سے اب تک الحمدللہ روزے نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ سردیوں میں ہوں یا گرمیوں میں فرق نہیں پڑتا۔

ہائی سکول تک جاتے جاتے دوسری روائت میں بھی شامل ہوئے کہ نوجوانوں پر مشتمل سحر کی بزمیں بنائی گئی تھیں، یہ نوجوان روزہ داروں کو سحری کے لئے جگاتے تھے۔ سفید براق کپڑے سروں پر ٹوپیاں اور باوضو سب نعتیں پڑھتے ہوئے محلے محلے گھومتے تھے۔ ہر بزم والوں کا مخصوص روٹ تھا جو اختتام سحر کے حوالے سے مکمل ہوتا تھا۔

ہم بھی پانچوں سواروں میں نعتیں پڑھتے اور بے سری آواز سروں میں مل کر شرمندگی سے بچا لیتی تھی، محلے صاف ستھرے تھے کہ گلیاں پختہ اینٹ والی تھیں، صبح شام بہشتی مشکیزے سے چھڑکاﺅ کرتے اور سوئپر بعد میں آکر صفائی کرتے چلے جاتے تھے، بجلی تھی، ایئر کنڈیشنر کا نام نہ تھا اور پنکھا بھی کسی کسی گھر میں تھا، نلکے بھی تھے اور پانی اوپر کی چھت تک آتا، تاہم اوقات مقرر تھے چنانچہ گھروں میں تانبے اور مٹی کے گھڑے اور دوسرے برتن تیار ہوتے جونہی پانی آتا یہ سب بھر لئے جاتے۔

ہمارے گھر میں ایک بڑا سا حمام بھی تھا، اس سے برتن اور کپڑے دھونے تک کا کام لیا جاتا اور ہم لڑکے اور گھر کے مرد اپنی مسجد کے کنویں والے غسل خانے میں پانی بھر کر باری پر نہاتے تھے کبھی کبھی کوئی ناخوشگوار بات ہوتی جب کسی کو جلد جانا ہوتا عام طور پر بہت اچھا ماحول ہوتا بلکہ بزرگوں کے لئے تو نوجوان پانی نکال کر خدمت کرتے تھے۔ افطار اور سحری کا اختتام اذان پر ہوتا اور جب چھتوں پر چڑھ کر شوال (عید) کا چاند دیکھا جاتا تو خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ اور عید کی نماز بھی قریباً پورا محلہ مل کر پڑھنے جاتا پھر سارا دن ہمارا اور ہمارے ساتھیوں کا ہوتا تھا۔ ان دنوں کی یادوں کو لکھنے بیٹھیں تو کئی کتابیں بن جائیں گی۔ عرض یہ ہے کہ نہ تو تب کوﺅں کی کائیں کائیں تھی اور نہ بے چاری فاختائیں فریاد کرتی نطر آتی تھیں بہت ہی پرامن اور محبتوں والا ماحول تھا۔

مزید : رائے /کالم