چیئرمین نیب ، ملاقات اور متنازعہ کالم

چیئرمین نیب ، ملاقات اور متنازعہ کالم
 چیئرمین نیب ، ملاقات اور متنازعہ کالم

  

جاوید چودھری کے لئے نئی بات یوں نہیں کہ ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے ساتھ ملاقات کے بعد جاوید چودھری نے دو قسطوں میں اس ملاقات کی روداد اپنے کالموں میں لکھی۔ رو داد ملاقات اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ پاکستان کے عام لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ نیب کرپشن کے کیسوں میں کس رفتار سے پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کالموں میں شائع شدہ روداد سے کئی لوگوں کو سخت اعتراض ہوا، لیکن ایک بات واضح ہوئی کہ نیب کے سربراہ اور نیب بحیثیت ادارہ دباﺅ میں ہے۔

کالموں کی اشاعت کے بعد نیب نے مندرجات کی تردید کی۔ نیب کی تردید کے بارے میں نیب کے چیئرمین کا اصرار ہے کہ کالموں میں جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس کے بعض مندرجات کے بارے تو گفتگو ہی نہیں ہوئی تھی۔ جاوید چو ہدری بضد ہیں کہ وہ اپنے ایک ایک لفظ پر قائم ہیں۔ ان کالموں کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ جاوید چوہدری نے ملاقات کی گفتگو کی ٹیپ ریکارڈنگ کی ہے۔ ان کالموں کے مندرجات اور پھر چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

اس گفتگو میں چیئر مین نے جن جن افراد ، معاملات، کا ذکر کیا، وہ کئی لحاظ سے تو درست تھے ،لیکن موقع کے لحاظ سے نا مناسب۔ دوران ملاقات انہوں نے پانچ بار یہ کہا کہ آئندہ بتاﺅں گا۔ اپنی پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے ایک سوال کے جواب میں سوال کرنے والے صحافی سے بھی کہا کہ تنہائی میں جواب دوں گا۔ کسی صحافی کے لئے یہ بحث نئی نہیں کہ کسی کے بارے میں خبر ہو اور وہ منکر ہو جائے۔ البتہ کالمسٹ حضرات کے لئے نئی بات یوں ہے کہ کالم میں جن کا ذکر ہو وہ سرے سے منکر ہو جائیں۔ یہ جاوید بمقابلہ جاوید ہے۔ چیئر مین نیب اور کالمسٹ جاوید چوہدری۔ جاوید چوہدری تجربہ کار اور زیرک لکھاری ہیں۔

بلا شبہ سینکڑوں شائع شدہ کا لم ان کے آرکا ئیو میں موجود ہیں ۔ جاوید چوہدری نے نیب کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد جو طویل کالم لکھا جو دو قسطوں میں ایکسپریس اخبار میں شائع ہوا، اس کے دوسرے روز ایکسپریس میں ہی نیب کی تردید بھی شا ئع ہوئی کہ کالم میں جو کچھ لکھا گیا ہے کالم نگار نے حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا ،بلکہ بعض افراد اور مقدمات کے حوالے سے جو نتائج اخذ کئے وہ بھی درست نہیں ہیں۔ دوران ملاقات کیا گفتگو ہوئی، کیا تاثرات تھے، کس نے کیا نتیجہ اخذ کیا۔ البتہ سیاست دانوں نے اس کالم کے مندرجات پر شدید اعتراض اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر آ صف علی زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تو سخت بیانات جاری کئے ہیں۔

آصف زرداری کے بارے میں کالم میں براہ راست نام لے کر لکھا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔ چیئرمین نے جو منظر کشی کی وہ کسی کالم میں تو دلچسپی کا سبب ہو سکتی ہے، لیکن کسی سیاسی رہنماءکے لئے قطعی طور پر قابل قبل نہیں ہو سکتی۔ بھلا آصف زرداری کو یہ بات کیوں ناگوار نہیں گزرے گی کہ ان کے بارے میں یہ کس طرح کی گفتگو کی گئی ہے وہ تو کل تک کہتے تھے کہ چیئر مین نیب انہیں گرفتار کرنے کی جرائت نہیں کر سکتے ہیں۔ چیئرمین نیب کی اس ملاقات نے انہیں متنازعہ بنا دیا ہے ۔

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا عہدہ انہیں انٹرویو دینے کی اجازت نہیں دیتا، اگر انہوں نے انٹرویو دیا ہے تو قانونی کارروائی کریں گے۔ نیب اپنی کارروائیوں کی وجہ سے سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین میں سخت نا پسندیدہ ادارہ قرار پاتا ہے۔ احتساب کی زبانی حمایت تو سب ہی کرتے ہیں اور دوسرے کا احتساب ہوتا دیکھ کر خود کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ خود محفوظ ہے، لیکن جب وہ خود احتساب کی گرفت میں آتا ہے تو اسے ا حتساب کرنے والے لوگ اور ادارے میں کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ چیئرمین جاوید اقبال کا تقرر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیاں اتفاق سے ہوا تھا۔

اعزاز سید اسلام آباد کے معتبر صحافی ہیں، انہوں نے ایک کالم میں لکھا کہ کس طرح کالے پردے چڑھے ہوئے ایک کار میں فاروق نائک کے ساتھ ایک گھر میں لے جائے گئے تھے ، جہاں ان کی ملاقات آصف زرداری کے ساتھ ہوئی تھی۔ یہ ملاقات ان کی تقرری سے قبل ہوئی تھی۔ چیئرمین نیب کو اس خفیہ ملاقات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

نیب کے چیئرمین کی ایک ایسے وقت میں جاوید چوہدری سے ملاقات ہوئی جب نیب سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین کی شدید تنقید کا نشانہ ہے۔ نیب کو ایک سوال جس کا اکثر سامنا رہتا ہے کہ کس کے مقدمے میں کیا پیش رفت ہوئی۔ نواز شریف کے بعد لوگ آصف زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت میں تاخیر کو اپنے اپنے انداز میں معنی پہناتے ہیں۔ چند ماہ قبل نیب کے لاہور کے ڈی جی نے ایک ٹیلی وژن پر انٹر ویو دیا۔ اس گفتگو کے بعد بھی ایسا ہی شور اٹھا تھا کہ نیب کے افسر کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ زیر سماعت مقدمات یا زیر تفتیش شخصیات کے بارے میں تبصرے کریں۔ ڈی جی کی اس گفتگو کے بعد نیب نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ کوئی افسر بیان نہیں دے گا۔

یہ کالم شا ئع ہونے کے بعد جسٹس رٹائرڈ جاوید اقبال کی شخصیت کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں بھی تحریریں سامنے آئی ہیں۔ کالمسٹ جاوید چو ہدری نے کہاہے کہ انہوں نے چیئر مین نیب سے کہا تھا کہ وہ ایک صحافی ہوں اور ان باتوں کولکھیں گے ضرورتو جواب میں چیئر مین نیب بڑی گرمجوشی سے ان کا ہاتھ دباتے رہے اورکہا کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔ جو بھی لوگ اس بات پر کسی گفتگو میں زور دیتے ہیں کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں، در اصل یہ ان کے اندر کا خوف ہوتا ہے۔ انہوں نے جاوید چودھری کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ کس طرح وہ بعض حالات میں اپنے رات کو سونے کے مقامات تبدیل کرتے رہے ہیں۔

کالمسٹ نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو کوئی تھریٹ ہے فورا جواب دیا © بے شمار ہیں۔ ” ہماری ایجنسیوں نے چند ماہ قبل دو لوگوں کی کال ٹریس کی ایک با ااثر شخص دوسرے با اثر شخص سے کہہ رہا تھا کہ جسٹس کو پانچ ارب روپے کی پیشکش کرو، دوسرے نے جواب دیا یہ پیسے لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پہلے نے کہا پھر اسے ڈراﺅ ، دوسرے نے جواب دیا ہم نے کئی بار اسے ڈرایا، اس کی گاڑی کا پیچھا کیا، بم سے مارنے کی دھمکی بھی دی، لیکن یہ نہیں ڈر رہا ، پہلے نے کہا کہ او کے پھر اسے اڑا دو©©“۔ میں نے پوچھا ” یہ کون لوگ تھے “۔ جسٹس صاحب نے جواب دیا ” یہ میں آپ کو چند ماہ بعد بتاﺅں گا“۔ کالم میں جو کچھ درج ہے، درست ہے یا نہیں ہے، ایک بحث ہے اور یہ دھول کا فی عرصے تک بیٹھے گی نہیں۔

مزید : رائے /کالم