نئے سیاسی وارث، نیا انداز بھی لائیں گے؟

نئے سیاسی وارث، نیا انداز بھی لائیں گے؟
 نئے سیاسی وارث، نیا انداز بھی لائیں گے؟

  

سیاست کے نئے کرداروں میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کا نام لیا جاتا ہے، آصف علی زرداری وہ پہلے رہنما ہیں،جنہوں نے باقاعدہ سیاسی وراثت کی منتقلی کا اعلان بھی کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اب سیاست نئی نسل کرے گی، جس میں میرا جانشین بلاول بھٹو زرداری، نواز شریف کی سیاسی وارث مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کا بیٹا کردار ادا کریں گے۔ موروثی سیاست کا صرف ذکر ہی سنتے تھے، اب تو باقاعدہ آصف علی زرداری نے اُس کا اعلان کر دیا ہے۔

آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں،اُن کے وارث تو واضح ہیں، تاہم مسلم لیگ(ن) میں نواز شریف یا شہباز شریف کی بحث موجود ہے، جو آگے چل کر مریم نواز یا حمزہ شہباز میں ڈھل جاتی ہے،لیکن آصف علی زرداری نے تو مریم نواز کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور انہیں بلاول بھٹو زرداری کے مقابل لاکھڑا کیا ہے۔پیپلزپارٹی میں تو کوئی گروپ بندی نہیں، البتہ خدشہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) دو دھڑوں میں بٹ سکتی ہے۔ کیا مریم نواز اس خدشے کو ٹال سکیں گی اور مسلم لیگ(ن) پر ان کی گرفت اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ شہباز شریف اگر واپس آ بھی جاتے ہیں تو سکہ مریم نواز کا ہی چل رہا ہو گا؟

چلیں فرض کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی سیاسی وراثت نئی نسل کو منتقل ہو گئی ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری پارٹی معاملات میں خود مختار ہو گئے ہیں،کیا ایسا ممکن ہے کہ وہ بہتر سیاست کر سکیں،بدلے ہوئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اپنی جماعتوں کو تبدیل کریں؟بظاہر یہ سب کچھ آسان نظر نہیں آتا، ابھی تو اپوزیشن کے بُرے حالات ہیں،اس لئے ان جماعتوں کے رہنما کیفیت انتظار میں ہیں، مگر جب سیاست رواں ہو گی، تحریک یا انتخابات کا مرحلہ آئے گا تو یہ دونوں نوآموز سیاست دان کیا اپنی سیاسی قوت کو مجتمع اور محفوظ رکھ سکیں گے؟ مریم نواز نے متحرک ہوتے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنا سخت بیانیہ چھوڑنے کو تیار نہیں،نوکیلے کٹیلے لہجے میں اتنے ہی سخت جملے اُن کی عادت بن گئے ہیں۔

بہاولپور میں سابق وفاقی وزیر بلیغ الرحمن کے گھر تعزیت کے لئے گئیں تو اس دوران بھی انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو نالائق اعظم کہا، جیل ٹوٹنے کی بات کی اور اشارے کنایوں میں وہ سب کچھ کہہ دیا،جو وہ ہمیشہ کہتی آئی ہیں، کیا اس قسم کا بیانیہ پارٹی میں موجود ان افراد کو متحد رکھ سکے گا جو اس بیانیہ کے ساتھ نہیں،جنہوں نے شہباز شریف کے متوازن بیانیہ کو ہمیشہ سپورٹ کیا ہے۔ حمزہ شہباز افطاری پر تو اُن کے ساتھ گئے، بہاولپور ساتھ گئے۔ رفتہ رفتہ یہ بات بھی کھلے گی کہ خود حمزہ شہباز شریف نمبر ٹو کی پوزیشن پر نہیں رہنا چاہتے، وہ پارٹی میں کلیدی اہمیت کے متمنی ہیں،جو مریم نواز کی موجودگی میں نہیں مل سکتی۔

یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ نواز شریف اپنی سیاسی وراثت کو اپنے گھر میں رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس امر کے باوجود کہ مریم نواز انتخابی سیاست کے لئے نااہل ہیں،انہیں متحرک ہونے کا گرین سگنل دیا ہے۔ انہی کی منظوری سے مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت بھی دی گئی۔ یہ انہی کا اشارہ ہے کہ اس وقت پارٹی میں نمبر ون مریم نواز بن گئی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی سینئر نائب صدر ہونے کے باوجود مریم نواز کے تابع فرمان ہیں،اس کا ثبوت بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی میں بھی مل گیا ہے، جب بلاول بھٹو زرداری کے مقابل مریم نواز کی نشست رکھی گئی اور شاہد خاقان عباسی سائیڈ لائن پر رہے۔

فی الوقت تو جس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے سے کندھا ملائے کھڑی ہیں،اسی طرح مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری بھی ایک پیج پر ہیں،لیکن یہ سب کچھ اُس وقت تک ہے جب تک تحریک انصاف کی حکومت رہتی ہے۔ پھر دونوں کے راستے جدا ہو جانے ہیں اور سیاست کا وہی طبل ِ جنگ بچنا ہے جو ماضی میں بجتا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے پاس کہنے کو ہے کیا؟ اُن کا حریف تو مشترک ہے کیا اُس حریف کے خلاف بیانیہ اور لُغت بھی ایک ہی ہونی چاہئے۔

سیاست کے ان نئے وارثوں کا کیس ایک جیسا ہے۔دنوں کے بڑے لیڈر جو خیر سے ان کے والد بھی ہیں، مشکل صورتِ حال سے دوچار ہیں۔نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں ہیں اور آصف علی زرداری گرفتاری سے بال بال بچ رہے ہیں، دونوں نیب کے متاثرہ ہیں اور یہ کمبل اُن کی جان نہیں چھوڑ رہا۔ایسی صورتِ حال میں بس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ حاکم وقت کو نشانہ بناﺅ۔

چلیں یہ بھی جمہوریت میں ہوتا ہے کہ حکمرانوں پر تنقید کی جائے،مگر جو بات ان دونوں میں مشترک ہے وہ کسی ایشو کی بجائے وزیراعظم کا نام اور خطاب رکھنے کی دوڑ ہے۔بلاول کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے رہے ہیں اور اب مریم نواز نالائق وزیراعظم کا لاحقہ لے آئی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے اندر وزیراعظم کے لئے بہت غصہ اور نفرت موجود ہے۔ کسی کا نام بگاڑنے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہنے کو کچھ نہ ہو اور برداشت کا مادہ بھی ختم ہو گیا ہو۔

یہ کام تو پچھلی نسل کے سیاست دان بھی کرتے رہے ہیں، پھر نئی نسل کے سیاست دانوں کی وجہ سے کیا تبدیلی آئی؟ سیاست میں شائستگی تو رہنی چاہئے۔ ہر آدمی طلال چودھری تو نہ بنے کہ وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی شخصیت کے بارے میں بازاری جملے کہے اور بعدازاں جب ہر طرف سے تنقید ہو تو معافی مانگ لے۔ آج کل صحیح معنوں میں وہ حالات ہو چکے ہیں کہ ایک پتھر مارو تو دس پتھر واپس آ جاتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سیاسی وراثت منتقل ہونے کے بعد یہ تہیہ کریں کہ سیاست کے پرانے رویوں کو بدلیں گے۔

بات مہذب پیرائے میں کریں گے، شخصی تنقید کرنے کی بجائے ایشوز پر سوالات اٹھائیں گے، گھٹیا القابات اور خطابات دے کر شخصی حملے نہیں کریں گے،لیکن اگر ان کے ذہنوں میں بھی یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ پاکستان میں سنجیدہ بات کوئی نہیں سنتا، یہاں بڑھک مارنا پڑتی ہے اور حریف کا مضحکہ بھی اڑانا پڑتا ہے۔ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جواب آں غزل بھی آ سکتا ہے۔ پاکستانی سیاست کا یہ باب اب بند ہونا چاہئے۔ گالم گلوچ اسمبلی سے ختم ہوئی ہے اور نہ سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے۔ یہ تہذیب و شائستگی کی نفی ہے۔ سیاست کو پراگندگی سے بچانا ہی ایک صاف ستھرے جمہوری نظام کی بنیادی شرط ہے۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو پاکستانی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر سیاسی جانشین بنے ہیں،انہیں جو سیاسی وراثت ملی ہے، وہ کوئی اتنی قابل ِ فخر نہیں، اُس پر کرپشن کے الزامات ہیں اور قائدین مقدمات بھگت رہے ہیں، اب ایسا نہیں ہے کہ صرف اسی سیاسی وراثت کی بنیاد پر آپ کو راستہ صاف مل جائے۔اب بہت کچھ بدلے ہوئے انداز میں کرنا پڑے گا۔اس کی ابتدا کم از کم اِس بات سے کی جائے کہ سیاست کو مچھلی بازار نہیں بننے دینا۔

دلیل سے بات کرنی ہے اور مخالف کی دلیل سے کی گئی بات کو سننا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جب بلاول بھٹو زرداری قومی سمبلی میں اپنی تقریر کے بعد مخالف کی تقریر نہیں سنتے، پیپلزپارٹی والے احتجاج کرتے ہوئے سپیکر کے ڈائس پر چڑھ دوڑتے ہیں،اس طرزِ سیاست کی کون تائید کرے۔بلاول کے اسمبلی میں آنے سے تو ایک واضح تبدیلی آنی چاہئے ناکہ ہڑبونگ اپنے عروج پر پہنچ جائے اور بلاول اپنی پارٹی کو روکیں بھی ناں۔

سیاست کی گرم بازاری تو چلنی ہے، عید کے بعد کوئی بڑی سیاسی تحریک بھی چل سکتی ہے۔ ظاہرہے اس میں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کا کردار کلیدی ہو گا۔اس لئے ان دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی شعبدہ باز کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بجائے نوابزادہ نصر اللہ خان کو اپنے سامنے رکھیں،جنہوں نے زندگی بھر کبھی مخالف کا نام نہیں بگاڑا،بلکہ شائستہ انداز میں اپنا مافی الضمیر بیان کیا اور اس میں اتنی تاثیر ہوتی تھی کہ وقت کے حاکم اُن کی بات سے لرز لرز جاتے تھے۔

مزید : رائے /کالم