پاک فضائیہ ترقی کی جدید راہوں پر گامزن!

پاک فضائیہ ترقی کی جدید راہوں پر گامزن!
 پاک فضائیہ ترقی کی جدید راہوں پر گامزن!

  


مجھے سکول کا زمانہ یاد آتا ہے کہ جب اسلامی تاریخ کے مطالعہ کا موقع نصیب ہوا تو معلوم ہوا کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر 13ویں صدی عیسوی تک مسلم افواج کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔ پھر منگولوں کے حملے کے آغاز سے لے کر برصغیر ہندو پاک کے مسلم دور کے آغاز تک کا زمانہ بہت درد ناک اور افسوسناک تھا۔ اس کے علاوہ خلافتِ عثمانیہ کے دور کو پڑھا تو اس کے عروج و زوال کی داستان بھی عبرتناک حد تک غمزدہ کر دینے والی تھی۔

اور آخر میں جب 17ویں صدی عیسوی کا آغاز ہوا تو کیا خلافتِ عثمانیہ ، کیا خلافتِ فاطمیہ، کیا خلافتِ اندلسیہ اور کیا سلطنتِ مغلیہ سب کا زوال سر چکرا دینے والا تھا۔ مسلم ملٹری ہسٹری کے اس تفصیلی مطالعے کے دوران مجھے صرف ایک ہی سوال کا جواب درکار ہوتا تھا کہ وہ واحد وجہ کیا تھی جو ہر دور میں اسلامی فوج کے زوال کا سبب بنتی رہی۔ بہت سے علمائے دین، دانشوروں اور لکھاریوں نے اپنے اپنے انداز میں اس کی جو وجہ بیان کی، وہ میری تسلی نہ کر سکی....

میں اردو زبان میں اسلامی تاریخ کے عروج و زوال کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنے آپ سے وہی سوال پوچھا کرتا کہ وہ واحد وجہ کیا تھی جو مسلمانوں کے عسکری انحطاط کا سبب تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک میں نے فوج جوائن نہ کی اور گلوبل ملٹری ہسٹری کا مطالعہ شروع نہ کیا، میری تشنگی برقرار رہی!

میں آفیسرز میس کی لائبریریوں اور نیز ملٹری سٹیشن لائبریریوں سے ملٹری ہسٹری کی کوئی ایک آدھ کتاب روزانہ گھر لے جا کر راتوں کا تیل جلاتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ جو دورانِ مطالعہ پیش آتی، وہ اردو زبان کی عسکری اصطلاحات سے انگریزی زبان کی عسکری اصطلاحات تک کا سفر تھا۔ یہ سفر میرے لئے بہت مشکل اور صبر آزما تھا۔ اردو، فارسی اور انگریزی تو مجھے آتی تھی اور میرا دعویٰ تھا کہ ایم اے انگلش لٹریچر میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہونے والے کے لئے انگریزی زبان میں عسکری تاریخ پڑھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں، ہونا چاہیے .... لیکن یہی میری سب سے بڑی غلطی اور بھول تھی!....

افواجِ سہ گانہ کی عسکری لغات حد درجہ ٹیکنیکل، پروفیشنل اور مشکل تھی۔ اگر دوستوں اور سینئرز کی مدد میسر نہ ہوتی تو میں کبھی بھی اس سوال کا جواب نہ پا سکتا جو اوپر عرض کر چکا ہوں، یعنی مسلم امہ کے زوال کی واحد وجہ کیا تھی.... اس مطالعہ کے بعد مجھے اپنے سوال کا جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں نے جب ملٹری سائنس اور ٹیکنالوجی سے منہ موڑا تو ان کا وہ زوال شروع ہوا جو کسی نہ کسی سکیل پر آج تک جاری ہے۔ افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ بیشتر مسلم ممالک آج بھی ملٹری سائنس اور ملٹری ٹیکنالوجی سے اتنے ہی بیگانہ ہیں جتنے جدید ترقی یافتہ ممالک یگانہ ہیں۔ اور یہ موضوع تو مغربی اقوام کا گویا اوڑھنا اور بچھونا ہے! تیر، تلوار، ڈھال، نیزہ، بھالا اور خنجر وغیرہ جب تک دنیاکی افواج میں زیرِ استعمال رہے اور جب تک گھوڑا اسلامی افواج کا ہر اول رہا، تب تک مسلم افواج دنیائے حرب و ضرب پر چھائی رہیں۔

لیکن جونہی 12ویں یا تیرہویں صدی میں بارود ایجاد ہوا اور تیر و تفنگ کی جگہ رائفل اور ایل ایم جی وغیرہ نے لے لی اور منجنیق کی بجائے بارودی توپخانہ ایجاد ہوا، مسلم امہ کا زوال بھی ساتھ ہی شروع ہو گیا۔ مسلمانوں نے بارود کی حقیقت کو تسلیم نہ کیا اور اس کی کڑی سزا پائی، جس کے نتائج وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ دوسری طرف اہلِ مغرب نے بارود کے استعمال میں اتنی ترقی کی کہ ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلی والا معاملہ ہو گیا۔ مغربی اقوام جس رفتار اور سکیل سے آگے بڑھتی گئیں، مسلم امہ اسی رفتار اور سکیل سے زوال کے پاتال میں گرتی چلی گئی۔

اور دوسری وجہ جو مسلم امہ کے زوال کا باعث بنی پہلی وجہ کے ساتھ منسلک تھی تاہم ایک لحاظ سے جداگانہ بھی تھی۔میری مراد”ائر پاور“ سے ہے۔

پیادہ فوج اور بحریہ تو ازمنہءقدیم سے تھیں اور بارود کی ایجاد نے ان دونوں (پیادہ اور بحریہ) کو عسکری جدت سے ہمکنار بھی کیا لیکن یہ ائر پاور تو میدانِ جنگ کا ایک بالکل نیا اور تیسرا پہلو (Third Dimention) تھی جو آتے ہی اپنی دونوں قدیم ”ہمشیرگان“ (انفنٹری اور بحریہ) سے بازی لے گئی۔

1903ءمیں اس کا آغاز امریکہ سے رائٹ برادران نے کیا اور جب گیارہ برس بعد پہلی عالمی جنگ (1914ءمیں) کا آغاز ہوا تو اس نے ایسے پَر پرزے نکالے کہ بڑے بڑے عسکری مفکرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا.... وہ دن اور آج کا دن امریکہ اس فضائی دوڑ میں سب سے آگے ہے۔.... روس، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی وغیرہ نے امریکہ کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ ابھی تک ان کی رسائی سے باہر ہے۔

حالیہ برسوں میں صرف چین ایک ایسا ملک ہے جس نے نہ صرف ائر وار ٹیکنالوجی بلکہ گراﺅنڈ اور سی (Sea) وار ٹیکنالوجی میں بھی ناقابلِ یقین حد تک ترقی کر لی ہے۔ اگر کوئی قاری 20ویں صدی کے پہلے عشرے میں ائر پاور کی ایجاد سے لے کر آج تک کے صرف 116برسوں (1903ءتا 2019ئ) کی عسکری ڈویلپمنٹ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کا ارادہ کرے تو اس کو معلوم ہو گا کہ یہ کام کتنا مشکل، صبر آزما اور تھکا دینے والا ہے۔

پاکستان کا قیام 1947ءمیں وجود میں لایا گیا لیکن اس نوزائیدہ مملکت نے اس جدید آرم (Arm)میں ایسی ترقی کر لی ہے کہ مسلم دنیا کا کوئی دوسرا ملک (بشمول ترکی اور انڈونیشیا) اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ راقم السطور چونکہ گزشتہ کئی برسوں سے ملٹری ہسٹری میں جدید ہتھیاروں، ان کے استعمالات، ان میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور میزائل ٹیکنالوجی وغیرہ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہے اس لئے میرے لئے یہ امر از بس مسرت اور سرخوشی کا باعث ہے کہ پاکستان نے کم از کم جنوبی ایشیاءکے اس خطے میں ائر پاور میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔

20ویں صدی کے تمام جنگوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جنگ کی تینوں چاروں سروسز( آرمی، نیوی، میرین، ائر فورس) میں فضائیہ کا رول سب سے موثر اور سب سے اہم رہا ہے۔ہم نے انڈیا کے ساتھ جو چار جنگیں لڑیں (1947-48ء،1965ئ، 1971ءاور 1999ئ) ان میں پہلی جنگ (1947-48ئ) تو بنیادی طور پر انفنٹری کی جنگ تھی۔ اس میں نہ بحریہ استعمال کی گئی اور نہ فضائیہ۔ ہاں البتہ فضائیہ صرف اس حد تک ضرور استعمال کی گئی کہ 26اکتوبر 1947ءکو جو فرسٹ سکھ رجمنٹ سری نگر کے ہوائی اڈے پر پیرا ڈراپ کی گئی اس نے اس جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔

اگر ان ایام میں مجاہدین کے لشکر لوٹ مار میں مصروف نہ ہوتے اور سری نگر ائر پورٹ کو قبضے میں کر لیتے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو سری نگر پر قبضہ کرنے سے نہیں روک سکتی تھی۔ یعنی اس پہلی جنگ میں انڈیا نے پیرا ڈراپ کے ذریعے اس کا فیصلہ اپنے حق میں کر لیا۔ بعد میں ایک سال دو ماہ تک (27اکتوبر 1947ءتا 31دسمبر 1948ئ) صرف زمینی جنگ ہوتی رہی اور یکم جنوری 1949ءسے جنگ بندی نافذ ہو گئی۔

دوسری جنگ جو 6ستمبر 1965ءسے لے کر 23ستمبر تک (17دن) لڑی گئی اس میں پاک فضائیہ کا رول کسی مزید تحسین و آفرین کا محتاج نہیں۔

نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا بھر کے جنگی دانشوروں نے پاک فضائیہ کو انڈین ائر فورس کے مقابلے میں کہیں بڑھ چڑھ کر Place کیا....

پھر1971ءکی جنگ جو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں لڑی گئی اس میں پاک فضائیہ کا کوئی رول نہیں تھا اور مغربی پاکستان میں بھی پاک فضائیہ ہمارے اس ڈاکٹرین کو سپورٹ نہ کر سکی کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان پر منحصر ہے.... اور چوتھی جنگ کارگل میں لڑی گئی جو بہت محدود تھی لیکن اس میں بھی اگر کسی سروس نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تو وہ انڈین ائر فورس ہی تھی۔ (تفصیلات میں جانے کا یہ محل نہیں)۔

کارگل کی اس محدود جنگ کے 20برس بعد انڈوپاک کی لا محدود جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اگر 26فروری 2019ءکو انڈیا نے بین الاقوامی سرحد عبور کی تو اس کا ”سہرا“ انڈین ائر فورس ہی کے سرباندھا گیا۔ اور اگر اس کے اگلے روز 27فروری 2019ءکو پاک فضائیہ نے انڈین ائر فورس کا جو ”حشر“ کیا، اس میں بھی فضائیہ، ہراول میں تھی....

اسی روز (27فروری 2019ئ) انڈیا میں بڈگام میں ایک اور حادثہ بھی انڈین ائر فورس کو پیش آیا۔ جب انڈین اور پاکستانی ائر فورسز ڈاگ فائٹ میں مصروف تھیں تو بھارتی فضائیہ کا ایک MI-17ہیلی کاپٹر گر کر کریش ہو گیا جس میں چھ فوجی اور ایک سویلین مارا گیا۔ اس وقت یہ کہا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر بھی پاکستان نے مار گرایا ہے۔ لیکن اس کے بعد انڈیا نے جو کورٹ آف انکوائری کنڈکٹ کی اس کی ابتدائی رپورٹ میں اب انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر، فرینڈلی فائر (Friendly Fire) سے کریش ہوا۔ یہ فائر کسی پاکستانی طیارے کی طرف سے نہیں بلکہ انڈیا کی ائر ڈیفنس فورسز کی طرف سے اسرائیلی ساخت کے ایک طیارہ شکن میزائل کی فائرنگ سے ہوا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ لائن آف کنٹرول پر ڈاگ فائٹ میں مصروف تھیں تو انڈیا نے اپنے گراﺅنڈ راڈاروں کا وہ سسٹم آف کر دیا تھا جو دوست اور دشمن (Friend or Foe) میں تمیز کرتا ہے اور IFF کہلاتا ہے۔ اس لئے انڈیا کے ائر ڈیفنس سسٹم نے اپنے MI-17ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ہیلی کاپٹر سمجھا اور فائر کرکے مار گرایا۔ اس کورٹ آف انکوائری کی حتمی رپورٹ ابھی نہیں آئی۔ کہا جا رہا ہے کہ دو ہفتوں کے بعد اس کی فائنل رپورٹ آئے گی تو پتہ چلے گا کہ گراﺅنڈ ڈیفنس فورس نے ایسی غلطی کیوں کی۔

دریں اثناءسری نگر ائر بیس کے ائر آفیسر کمانڈنگ (AOC) کو سیک کرکے وہاں سے ٹرانسفر کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اس انکوائری پر اثر انداز نہ ہو سکے....

آپ نے دیکھا کہ انڈیا نے اب تک پاکستان کے خلاف جو چار جنگیں لڑی ہیں، ان میں ائر فورس کا رول کتنا بنیادی اور کتنا اہم تھا۔ اور پانچویں بار 26اور 27فروری کو تو روز حشر بننے میں صرف ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی.... اور وہ آنچ بھی ”فضائیہ“ ہی کی ”دین“ تھی!

انڈیا نے کل سے پاک فضائیہ کے بارے میں ایک اور اہم خبر دے کر اپنی جنتا کو افسردہ اور پاکستانیوں کو خوش کر دیا ہے....

خبر یہ ہے کہ چین نے پاکستان کو پہلا JF-17 لڑاکا طیارہ مکمل طور پر اوورہال کرکے اس کے حوالے کر دیا ہے۔ تقریباً دس بارہ برس پہلے چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر JF-17 تھنڈر کو بنانے کا آغاز کیا تھا۔ قارئین اس کی ڈویلپمنٹ سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ لیکن گزشتہ دس برسوں کے استعمال کے بعد یہ طیارہ مکمل اورہال مانگتا تھا جو ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ ان طیاروں کا پہلا بیچ ہمیں 2007ءکو ملا تھا اور اس کے بعد خود ہم نے کئی طیارے پروڈیوس کئے۔ اس اوورہالنگ کا معاہدہ ہم نے چین کے ساتھ 2016ءمیں کیا تھا۔ اب انشاءاللہ کسی روز خبر آئے گی کہ پاکستان نے اپنا پہلا JF-17 اپنے ہاں مکمل طور پر اوورہال کر لیا ہے۔

یہ اوورہالنگ کوئی معمولی مرمت وغیرہ کا کام نہیں ہوتا۔ اس میں طیارے کے مختلف حصے اور پرزے جو مرورِ استعمال سے گھس جاتے ہیں، تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ ان میں ائر فریم ،ایوی آنکس اور انجن تک شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان اب اس طیارے کی تیسری نسل (Block 3) ڈویلپ کر رہا ہے جس میں بہتر انجن، بہتر ائر فریم اور بہتر راڈار شامل ہیں۔اس اوورہال کے بہت فائدے ہوتے ہیں۔ طیارے کی عمر ”دراز“ ہو جاتی ہے اور مختلف حصوں اور پرزوں کی تبدیلی سے طیارہ سازی کے فن میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔

یہ امر بھی شائدآپ کے نوٹس میں ہوگا کہ چین ابھی تک اس طیارے اور اپنے دوسرے جدید جنگی طیاروں کے انجن ڈویلپ نہیں کر سکا۔ یہ انجن روس سے آتے ہیں اور ہمارے JF-17میں بھی وہی انجن لگائے جاتے ہیں۔

ہم پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہیے کہ ہم نے مسلم امہ کے ماضی سے سبق سیکھا اور اس جدید ترین جنگی مشین کو ڈویلپ کرنے کی راہ پر گامزن ہوئے ۔ گویا پاکستان نے بارود کی ٹیکنالوجی سے جوہری ٹیکنالوجی اور اب ائر ٹیکنالوجی تک کا سفر طے کرکے مسلم امہ کے سابق پروفیشنل گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے!!

مزید : رائے /کالم