پی آئی اے کا بدنصیب طیارہ، حادثے سے بڑا سانحہ ہو گیا

پی آئی اے کا بدنصیب طیارہ، حادثے سے بڑا سانحہ ہو گیا
پی آئی اے کا بدنصیب طیارہ، حادثے سے بڑا سانحہ ہو گیا

  

نہیں صاحب اس طرح بات نہیں بنے گی، پی آئی اے کے جہاز کھلونے نہیں کہ ٹوٹ جائیں تو کوئی الٹی سیدھی کہانی سنا کر معاملہ دبا دیا جائے۔ یہ تو جیتے جاگتے انسانوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور انہیں کچھ ہو جائے تو درد و الم کی نہ ختم ہونے والی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں کب تک یہ سانحے ہوتے رہیں گے۔ کیا دنیا میں ہوائی جہاز نئے آئے ہیں کہ ابھی ان کی ٹیسٹنگ جاری ہے سینکڑوں ایئر لائنیں دنیا میں اپنا فضائی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں ہزاروں جہاز روزانہ اڑتے ہیں شاذو نادر ہی کوئی حادثہ ہوتا ہے۔ یہ پی آئی اے کیسی ایئر لائن بن گئی ہے کہ حادثات کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ لاہور سے کراچی تک کی پرواز ہوتی ہی کتنی طویل ہے۔ مسافر بیٹھتے نہیں کہ اترنے کا وقت آ جاتا ہے۔ اتنے مختصر وقت کی فلائٹ بھی اگر منزلِ مقصود پر پہنچنے سے پہلے گر کر تباہ ہو جاتی ہے تو اسے معمول کی بات سمجھ کر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ بد قسمت 320 طیارے کے بارے میں یہ حقائق سامنے آ چکے ہیں کہ اس میں تکنیکی خرابیاں تھیں اور ان کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی۔ پی آئی اے کے سی ای او ملک ارشد صحافیوں کو پریس کانفرنس میں ایک صفحہ کی رپورٹ لہرا کر دکھا رہے تھے کہ طیارہ ہر لحاظ سے فٹ تھا۔ ہر لحاظ سے فٹ تھا تو صرف ڈیڑھ گھنٹے بعد اس میں ایسا کیا ہوا کہ پائلٹ باوجود اپنی تمامتر کوشش اور مہارت کے اسے کراچی ایئرپورٹ پر بحفاظت اُتارنے میں ناکام رہا۔ جب کوئی طیارہ اڑان بھر جاتا ہے تو وہ موت کے حصار میں چل رہا ہوتا ہے، ذرا سی خرابی بھی اسے آتش و آہن کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتی ہے، اس لئے ہوا بازی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جہاز کو اڑنے سے پہلے ٹھوک بجا کے چیک کیا جائے۔ اس کے لئے کئی ادارے کام کرتے ہیں کیونکہ انسانی جانوں کا سوال ہوتا ہے، ایمرٹ ایئرلائنز روزانہ 350 سے زائد فلائٹس چلاتی ہے۔ اسے کبھی حادثہ پیش نہیں آیا۔ پی آئی اے کے پاس کوئی انوکھے جہاز نہیں کہ جنہیں سمجھنا ممکن نہ ہو، پھر یہ سانحے کیوں ہوتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔ اسے تحقیقات مکمل کرنے کے لئے کوئی مدت نہیں دی گئی البتہ یہ کہا گیا ہے کہ ایک ماہ میں حادثے کی ابتدائی رپورٹ پیش کرے۔ ایسی کمیٹیوں کا جو حشر پاکستان میں ہوتا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ملتان میں 2006ء کے فوکر طیارے کی انکوائری رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ چترال میں پی آئی اے کے طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں معر وف نعت خواں جنید جمشید بھی سوار تھے۔ آج چار سال ہونے کو آئے ہیں حادثے کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ رپورٹ منظرِ عام پر آئے تو کسی پر ذمہ داری بھی ڈالی جائے، کسی کا احتساب بھی ہو۔ یقین واثق ہے کہ یہ حادثہ بھی ماضی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گا جانے والے چلے گئے۔ اب ان کے لواحقین کو ساری زندگی ان کی یادوں کے سہارے جینا ہے۔ یہ خونِ خاک نشینا ں تھا رزق خاک ہوا داد نہ فریاد، دنیا بھر میں قومی ایئر لائنز کی بدنامی، جگ ہنسائی، یہ طیارے ہیں یا موت کے کیپسول جو اچانک خراب ہو کر فضا میں پھٹ جاتے ہیں اس بار تو حادثے نے پوری قوم کو رُلا دیا ہے، عید سے صرف دو دن پہلے اپنے پیاروں کے پاس جانے والے اللہ کے پاس چلے گئے۔ ان کے لواحقین تو اب آہ بھر کے کہتے ہوں گے کاش پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن نہ ہی کھلتا، کم از کم وہ لاہور میں تو محفوظ رہتے، کئی بدنصیبوں کا تو پورا خاندان لقمہئ اجل بن گیا پھر طیارہ حادثے کا سب سے اذیت ناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ جسد خاکی خاک سیاہ ہو جاتے ہیں، ان کی شناخت ممکن نہیں رہتی، ڈی این اے ٹیسٹ کا ایک جان لیوا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور لواحقین سولی پر لٹکے رہتے ہیں۔ سانحہ کراچی میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔ اس طیارہ حادثے کا دوسرا پہلو بھی کچھ کم درد ناک نہیں، طیارہ آبادی پر گرا اور کئی گھروں کو مسمار کر گیا۔ گھروں میں رہنے والے بے گھر ہو گئے۔ ملبہ پوری طرح ہٹے گا تو اندازہ ہوگا کہ کتنا جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا یہ بھی واضح نہیں۔

اس سانحے کے بعد ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمارے پاس فوج کے سوا کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ریسکیو آپریشن کر سکے۔ ہماری صوبائی حکومتیں ایسا انفراسٹرکچر بنانے میں بری طرح ناکام رہی ہیں جو کسی حادثے کے موقع پر خود کار نظام کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر سکے۔ ہم نے تو آگ بجھانے کے لئے ڈھنگ کی گاڑیاں تک نہیں رکھی ہوئیں اور کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے اکثر اوقات گاڑیاں کم پڑ جاتی ہیں یا ان کے پاس آگ بجھانے کے وہ جدید آلات اور گیس نہیں ہوتی جو دنیا کے بڑے شہروں میں فائر بریگیڈ کا حصہ ہوتے ہیں چونکہ پی آئی اے کا طیارہ ایئر پورٹ کے نزدیک ایک گنجان آبادی کی تنگ گلی میں گرا اس لئے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ یہ شکایات بھی سامنے آئیں کہ امدادی سرگرمیوں میں چین آف کمانڈ کا فقدان تھا، کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا، اس نے کیا کرنا ہے اور وہ کس کے ماتحت ہے کئی گھنٹے اس ہڑبونگ میں ضائع ہوئے حیرت ہے کہ اتنے بڑے شہر میں کوئی ایسا ایس او پی تیار نہیں کیا گیا جو یہ رہنمائی کرے کہ بڑے حادثے کی صورت میں مختلف اداروں کو کس طرح متحد ہو کر کام کرنا ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کس کے پاس ہو گا، سب سے بڑی ناکامی یہ دیکھنے میں آئی کہ حادثے کی جگہ کو حصار میں لے کر عوام کو دور نہیں رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ بعد ازاں فوج اور رینجرز کی بھاری نفری نے آکر صورتِ حال کو سنبھالا اور صورتِ حال کنٹرول میں آئی۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو ارشد ملک کہہ رہے تھے کہ ہوائی جہاز کے سفر کو دنیا میں سب سے محفوظ سفر سمجھا جاتا ہے۔ وہ شاید درست کہہ رہے تھے، دنیا میں واقعی ہوائی جہاز کا سفر ایک محفوظ ذریعہ ہے لیکن پاکستان میں یہ غیر محفوظ بن کر رہ گیا ہے جب کسی ایئر لائنز کا ایک حادثہ ہوتا ہے تو عوامی اعتماد کے لحاظ سے وہ بہت پیچھے چلی جاتی ہے۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ منفی اثر قبول کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ خدشہ بیٹھ جاتا ہے کہ کہیں یہ جہاز بھی جس میں میں سفر کر رہا ہوں، اسی طرح حادثے کا شکار نہ ہو جائے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ ہم نے اپنے ایئر پورٹ کو محفوظ بنا دیا ہے۔ جہاز میں سوار ہونے کے عمل کو فول پروف کر دیا ہے۔ کورونا وباء کے دنوں میں بھی سب احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد مسافروں کو جہاز میں سوار کیا جاتا ہے لیکن ہم اپنے جہازوں کو محفوظ نہیں بنا سکے۔ ابھی ایک حادثے کی یاد موجود ہوتی ہے کہ ایک نیا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔ یہ اس ایئر لائنز کا حال ہے جو ایک زمانے میں دنیا کے لئے مثال بنی ہوئی تھی۔ جس کی کوکھ سے کئی ممالک کی ایئر لائنز نکلیں اور آج دنیا کی مقبول ترین ہوائی کمپنیاں ہیں پی آئی اے کے ساتھ کچھ تو ہوا ہے کہ یہ آسمان سے زمین پر آگری ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ایک جہاز کے لئے اس کا عملہ دنیا کی تمام ایئر لائنز کے تناسب سے زیادہ ہے اس حوالے سے تو اسے دنیا کی محفوظ ترین ہوائی کمپنی ہونا چاہئے لیکن دنیا کی ریٹنگ میں آج یہ کہاں کھڑی ہے سب جانتے ہیں کیا اس حادثے کے بعد پی آئی اے کے اندر خود احتسابی کا عمل شروع ہوگا۔ کیا اس قومی ادارے کے مختلف شعبوں میں در آنے والی سیاست ختم ہو جائے گی۔ کیا میرٹ پر تقرریاں ہوں گی، کیا تکنیکی شعبوں کے معیار کو بڑھا کر فول پروف بنایا جائے گا۔؟ کیا ان سوالات کا کوئی جواب ملے گا یا پھر مصلحتین اور مجبوریاں پاؤں کی زنجیر بن جائیں گی تاوقتکہ کوئی نیا حادثہ کسی نئے سانحے کی بنیاد نہ بن جائے۔

مزید :

رائے -کالم -