ہرڈامیونٹی(اجتماعی قوت مدافعت) کا تاثر؟

ہرڈامیونٹی(اجتماعی قوت مدافعت) کا تاثر؟

  

اب تو یہ یقینی امر ہو گیا ہے کہ ہماری حکومت اور عوام ایک صفحہ پر آ گئے اور کورونا سے ڈرنے کے بجائے اس سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔ حکومت نے جس انداز سے تاجر برادری کا خیال کیا اور بازار، شاپنگ مالز وغیرہ کھولنے اور رات 10 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی، اس سے یہی ظاہر ہوا ہے اور عوام نے اس نرمی کا جس انداز میں فائدہ اٹھایا وہ بھی اپنی مثال ہے، اب تو یقینی طور پر ”ہرڈامیونٹی“ ہی کا فارمولا زیر گردش ہے کہ بازار میں سماجی فاصلے، ماسک اور دوسرے ”معیار کار“(ایس او پیز) کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا۔ ٹرانسپورٹ کی اجازت کے بعد شہروں سے پردیسی اپنے اپنے گھروں کو بھی چلے گئے اور جا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کا واحد ذریعہ اجتماعی قوت مدافعت (ہرڈامیونٹی) قرار دی گئی ہے، تاہم دوسری طرف خبر یہ ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 35 اموات ہوئیں اور 2498نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اکثر ماہرین اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ آمد و رفت کی سہولت کے بعد جب پردیسی اپنے دیہات کا رخ کریں گے تو مزید حالت خراب ہو گی۔ دیہات ابھی تک ایک حد تک محفوظ تھے،آنے والے دِنوں میں صورتِ حال قابو سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ ایسا وقت نہ لائے اور یہ مرحلہ بھی گزر جائے اور کورونا سے نجات ملے، تاہم جب تک احتیاط اور معیارکار پر عمل لازم ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -