عید کا مقصد دوسروں میں خوشیاں بانٹناہے

عید کا مقصد دوسروں میں خوشیاں بانٹناہے

  

مولانا محمد اکرم اعوان

اللہ کریم نے انسان کے مزاج میں یہ بات رکھی ہے کہ بعض امور جو خوشی کے ہوتے ہیں،انہیں وہ اتنی اہمیت دیتا ہے کہ اس کے قومی تہوار بن جاتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی خوشیاں تو ہربندہ مناتا رہتا ہے لیکن بعض امورمیں جیسے یہودیو ں کا تھا کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے سمندر پار کر لیا اور فرعون غرق ہوگیا تو اس دن کو انھوں نے بطور عید اپنا لیایا جیسے عیسائیوں پر جب انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے گزارش کی کہ آپ کا پروردگار ہم پرآسمان سے کھانا نازل فرما ئے توان پر آسمان سے کھانا نازل ہوا اس دن کو انھوں نے یوم عید بنا لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایاہر قوم اپنی عید کرتی ہے۔ہماری دو عیدیں ہیں۔ ایک رمضان شریف کی، اس کے بارے اللہ کریم نے ارشاد فرمایا وَلِتُکْمِلُواْ الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُواْ اللّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ(185) تم نے رمضان کی گنتی پوری کرلی29 یا 30 جتنے روزے تھے بہ توفیق الٰہی پورے ادب و آداب اور ان کے احترام کے ساتھ رکھے،تم نے یہ بہت بڑا معرکہ سر کیا، اب اللہ کی بڑائی بیان کرو، جس نے تمہیں توفیق دی، جس نے یہ رمضان بنایا،اس میں اتنے درجات اورثواب رکھے پھر جس نے تمہیں صحت دی، سلامتی دی، رزق دیا، روزے رکھنے کی توفیق دی۔وَلِتُکَبِّرُواْ اللّہ سب سے پہلے اس کی بڑائی بیان کرو وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ تا کہ تم اللہ کے شکر گزار بندوں میں شامل کیے جاؤ۔ اس کے ساتھ نبی علیہ ولصلوٰۃو السلام نے فرمایا کہ عید پر جو مناسب ہو،جتنی اپنی توفیق ہو، اچھا کھانا بناؤ، اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس پہنیں اور دوسروں کے ساتھ خوشیاں بانٹیں،ایک دوسرے کی دعوت کریں، ایک دوسرے کو مبارک دیں اور دورکعت عید کی نمازادا کرکے اللہ کا شکر ادا کریں۔ اسلام میں یہ دو قومی تہوار ہیں ایک حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں جب انھوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ فرمایا تھا تو وہ عید قربان ہے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے تواپنے اکلوتے جگر گوشے کو لٹا کر چھری چلا دی یہ تو اللہ کی مرضی، دنبہ ذبح ہو گیا، وہ بچ گئے۔ یہ اللہ کاکام ہے، انہوں نے تو اپنے بیٹے کو ذبح کردیا۔ اس عمل میں جو برکات، جو رحمتیں جو انوارات نازل ہوئے،ہم جب دنبہ یا بیل یا گائے قربان کرتے ہیں تو ہم پر بھی وہی برکات نازل ہوتی ہیں۔ اللہ کا یہ بڑا عظیم احسان ہے کہ علماء فرماتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ بندہ اپنا قربانی کا جانور خود ذبح کرے اگرخود ذبح نہیں کرسکتا توکم از کم پاس کھڑا ہو۔ سنت ابراھیمی کے ذریعے اللہ کریم نے ایک بہانہ د ے دیا کہ ہم بھی اپنی حیثیت کے مطابق،وہ کیفیات،وہ درد دل اور وہ معرفت الٰہی پا سکیں۔

عید خوشی کا مقام بھی ہے،تشکر کا مقام بھی ہے اور مل بیٹھنے کا سبب بھی ہے لیکن حقیقی خوشی وہ ہوتی ہے جس میں آپ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔اگر ماحول سوگوار ہو،درمیان میں ایک بندہ بیٹھ کر خوش نہیں ہو سکتا لہٰذا آپ کو ایک ماحول بنانا پڑتا ہے۔بہن بھائی، رشتہ دار،برادری والے آجاتے ہیں، لوگ باہر سے چھٹیاں آ جاتے ہیں، ملازم اور کاروباری لوگ ہرچیز چھوڑ کر جمع ہوجاتے ہیں، قبیلے میں جو بھی بڑا ہوتا ہے، وہ ان کی دعوت کرتا ہے، سار ے ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں،ملاقات ہوجاتی ہے، باتیں ہو جاتی ہیں اور آپس میں خوشیاں بانٹی جاتی ہیں۔ایک دوسرے کو دیکھ کر، مل کر خوش ہوتے ہیں، دلوں کی کدورتیں رفع ہوتی ہیں۔ملاقات کا ایک سبب بنتا ہے لیکن اس میں ایک احتیاط کرنی چاہیے، عید ہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق منانا چاہیے۔ہمارے ہاں ایک دوڑ لگ گئی ہے کہ فلاں کے کپڑے کیسے ہیں؟ میرے اس سے بہتر ہونے چاہئیں۔فلاں کے بچے نے کون سی کمپنی کا جوتا پہنا ہے؟ میرا بچہ اس سے بہتر برانڈکا جوتا پہنے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ عید مقابلے یاایک دوسرے سے ضد کرنے کے لئے نہیں ہے۔عید خوش ہونے کے لئے ہے،خوش ہونے کے لئے کسی کے پاس نئے کپڑے ہوں تو ضرورپہنے جن کو نئے میسر نہیں پرانے دھوکر استری کرکے پہن لے۔

پرانے وقتوں کی عیداور آج کی عید میں بڑا فرق ہے وہ عید واقعی خوشیاں لاتی تھی اس میں بچے، بڑے سارے اچھے کپڑے پہنتے تھے۔نئے کپڑے بہت کم لوگوں کو دستیاب ہوتے تھے، اس زمانے میں استری بھی نہیں ہوتی تھی۔ لوگ کپڑے دھو کرشلوارقمیض کو تہہ کر کے سرہانے کے نیچے رکھ کر سو گئے، صبح اس میں تہہ لگی ہوتی تھی۔بعد میں کوئلے والی استری آ گئی۔ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق کپڑا، جوتاپہنتا تھا کسی نے نیا جوتا پہنا ہوا ہے، پرانے جوتے کے لئے،پالش تو اس دور میں ملتی نہیں تھی،کوئی کپڑا وغیرہ لگا کر صاف کر کے،چمکا کر پہن لیتا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے حال میں خوش ہوتا تھا۔یہ جھگڑا نہیں ہوتا تھا کہ اس نے مرغا ذبح کیا ہے،ہم بھی مرغاہی ذبح کریں۔ہمیں اگر سیویاں میسر ہیں توہم سیویاں ہی کھائیں۔اس میں سب خوش تھے اور خواتین میں یہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ اس کے کپڑے کیسے ہیں؟اوراس کے کیسے ہیں؟ نہیں،ہر کوئی اپنے حال میں، جس میں اللہ نے اسے رکھا ہے، خوش ہوتا تھا اورلوگ واقعی خوشیاں مناتے تھے۔

عید سے پہلے موٹے موٹے رسے تیار کئے جاتے پھر گاؤں کے گرد، قبرستانوں اور ہندوؤں کے مندروں میں موجود بڑے بڑے درختوں کے ساتھ ان رسوں سے جھولے بنا لئے جاتے تھے۔دیہات کی نوجوان لڑکیاں اور بزرگ خواتین وہاں اکٹھی ہوجاتیں اور لڑکیاں آپس میں مقابلہ کرتی تھیں، وہ جھولے کو اتنی بلندی تک جھولتیں کہ دیکھو میرے پاؤں فلاں شاخ کو چھو گئے۔ اب دوسری کون ہے جو اتناجھولا جھولے کہ وہ وہاں تک پہنچ سکے؟ لڑکیاں اکیلی نہیں ہوتی تھیں، بزرگ خواتین بھی صاف کپڑے پہن کر ریفری کے طور پرساتھ بیٹھی ہوتی تھیں پھر وہ نمبر دیا کرتی تھیں۔ سارے گاؤں کی خواتین جمع ہوجاتیں اپنا، پرایا، دوستی، دشمنی یا کسی قسم کی کوئی ناراضگی وغیرہ کچھ نہیں ہوتی تھی۔مرد حضرات کے لئے،آج کل جیسے Cummunity Centre ہوتے ہیں، جسے پنجابی میں دائرہ کہتے تھے،ہر محلے میں بنے ہوتے تھے۔ اس پر درخت لگادیے،چھاؤں بنا دی، پتھر رکھ دئیے، لوگ بیٹھ گئے، جسے چوپال بھی کہتے ہیں۔ لوگ وہاں جمع ہوجاتے اور آپس میں باتیں کرتے تھے۔ عید کے روزمردوں کے درمیان پتھر اٹھانے کے مقابلے ہوتے،بڑے بڑے پتھر اٹھائے جاتے، کون گھٹنوں تک لاتا ہے؟ کون سینوں تک لاتا ہے؟ کون اسے کندھے سے پیچھے پھینک دے گا پھر بازو پکڑنے کے مقابلے شروع ہوجاتے۔ظہر کی نماز کے بعد جب دن ڈھلتا مردحضرات کبڈی کھیلتے۔ مرد الگ کھیل رہے ہیں، لڑکے الگ کھیل رہے ہیں۔ اس طرح سارا دن ہنسی خوشی،رونق میں گزر جاتا تھا،کوئی بے لطفی نہیں ہوتی تھی۔ اصل بات جو اس کی روح تھی وہ یہ تھی کہ ہر کوئی خوش ہوتا تھا۔

خوشی کے لئے اللہ کریم کے ساتھ آپ کا تعلق ہونا چاہیے،اللہ نے آپ کو تیس، انتیس رمضان کے روزے پورے کرنے کے بعد ایک دن دیا ہے اور اللہ کریم نے فرمایا کہ اس دن میری بڑائی بیان کرو اور خوشی مناؤ کہ اللہ نے تم پریہ رحمت کی ہے تمہیں یہ توفیق دی تم نے رمضان شریف کی برکات پائیں تا کہ تم میرے شکر گزار بندوں میں شامل ہو جاؤ۔اس کے ساتھ اُخروی درجات بھی ہیں، قرب الٰہی بھی ہے، دنیاوی خوشی بھی ہے، مل بیٹھنا بھی ہے، کھانا پینا بھی ہے یوں ساری چیزیں اس میں آجاتی ہیں۔

جو اللہ نے آپ کو دیا ہے اس میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔ یہ صرف امیر کے لئے نہیں ہے حضور ﷺ کے ارشادت عالیہ کا مفہوم ہے کہ تم کسی سے مسکراکر، خوش طبعی سے بات بھی کرلوتو یہ بھی صدقہ ہے، بات تو بندہ اچھی طرح کرسکتا ہے۔خوشی سے بات کرلودوسرے کی تسکین ہوجائے،دوسرے کو عزت ملے تو یہ بھی صدقہ ہے۔یہ ضروری نہیں کہ آپ کروڑ پتی ہیں توآپ نے ایک لاکھ دے دیا حضورﷺ فرماتے ہیں کہ امیر اگر لاکھ بھی دیتا ہے اورغریب اپنی مفلسی میں سے ایک سکہ بھی دیتا ہے تواللہ کریم کے نزدیک امیر کے لاکھوں سے غریب کا وہ سکہ زیادہ پسندیدہ ہے۔اللہ کریم نے نبی کریم ﷺ کو دو عید یں عطا فرمائیں۔حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے ہر قوم کی عید یں ہیں ہر قوم اپنی عیدیں کرتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -