سنت نبویؐ کے مطابق عید الفطر کس طرح منائی جائے؟

سنت نبویؐ کے مطابق عید الفطر کس طرح منائی جائے؟

  

عید الفطر خوشی و مسرت کا دن

تحریر: مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

مہتمم: جامعہ اشرفیہ لاہور

”حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اس زمانہ میں اہل مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جن میں وہ خوشیاں مناتے اور کھیل تماشے کرتے تھے آپ نے لوگوں سے پوچھا، یہ دو دن کیسے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ان ایام میں ہم لوگ عہد جاہلیت کے اندر خوشیاں مناتے اور کھیلتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دنوں کو دو بہترین دنوں میں تبدیل فرما دیا ہے یعنی عیدالاضحی اور عید الفطر۔“رواہ ابوداؤد)

پہلے انبیاء کی امتیں بھی کسی نہ کسی شکل میں عید منایا کرتی تھیں، آدم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی‘ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ سے نجات پائی‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم اس روز عید مناتی تھی جس دن آسمان سے ”مائدہ“ نازل ہوا تھا‘ اہل عرب سال میں مختلف تہوار مناتے تھے جن میں شراب نوشی، جواء، شعر و شاعری‘ رقص و سرور کی محفلیں سجائی جاتی تھیں۔

یہ اسلام کا فیضان ہے کہ اس نے مسلمانوں کے خوشیاں منانے کو ایک پاکیزہ سانچے میں ڈھال دیا۔

عیدالفطر کا دن ہر مسلمان کے لیے خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے لیکن بازار کی چہل پہل، گہما گہمی، بچوں کا کھیل کود، کھانے پینے کی محفلوں عید کا سارا دن وی سی آر اور ٹی وی دیکھ کر اونچی آواز میں گانے سن کر اور دیگر غیر شرعی تفریحات میں مشغول ہو کر عید کی حقیقی خوشی ہرگز حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اللہ تعالیٰ نے عید کی حقیقی خوشی عطا فرمانے سے پہلے رمضان کے روزے فرض کیے ایک ماہ تک دن بھر کھانے پینے سے روکا نفس کی مخصوص خواہشات پورا کرنے سے منع کر دیا اور مقصد یہ بتایا لعلکم تتقون (تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ) جب اللہ تعالیٰ کے حکم کو اس کے حقوق و آداب کے ساتھ پورا کر دیا تو روزہ دار کے دل میں نورِتقویٰ پیدا ہو گیا اسی عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے مسلمان عظیم اجتماع کے ساتھ دو رکعت نماز عید پڑھ کر شکر خداوندی ادا کرتا ہے غرباء کو صدقہ فطر ادا کر کے اپنے روزہ کی کوتاہیوں کو مٹانے کے ساتھ ساتھ ان محتاج افراد کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرتاہے۔

اس حقیقی خوشی کا لطف وہی خوش نصیب روزہ دار جانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مکمل روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس عید کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عید الفطر“رکھا یعنی روزہ کھولنے کی عید اب جس شخص نے روزہ رکھا ہی نہیں اسے روزہ کھولنے کی خوشی کیا ہو گی اور دوسرے طرف اگر روزہ رکھنے والوں نے عید کو اپنے نفس کی ناجائز خواہشات کو پورا کر کے منایا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ رمضان المبارک کے روزے رکھ کر نفس کی تربیت میں کمی رہ گئی یا عید کی خوشی منانے والے کا دل اس نورِ تقویٰ سے بالکل خالی ہے اور وہ شخص عید کی خوشیاں محض رسمی طور پر منانے میں مشغول ہے۔

لہٰذا جب ہمیں اسلام نے عید الفطر کی خوشیاں عطافرمائیں تو ان خوشیوں کو اسی طرح منانا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کے یہ لمحات گزارے۔ احادیث کی روشنی میں عید الفطر کے ان اعمال کو ترتیب وار ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ہر مسلمان ان کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر ادا کرے، اس لیے کہ ان میں سے اکثر کام عام مسلمان کرتا ہے لیکن ذہن میں قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

(ؑؑ1) عید کے دن صبح جلدی بیدار ہونا۔

ٖ(2) مسواک کرنا۔

(3) غسل کرنا۔ حضرت خالد بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ عیدالفطر، یوم النحر اور یوم عرفہ کو غسل فرمایا کرتے تھے۔

(4) عمدہ کپڑے پہننا جو پاس موجود ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن خوبصورت اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سبز و سرخ دھاری دار چادر اوڑھتے یہ چادر یمن کی ہوتی جسے بُرد یمانی کہا جاتا ہے۔

(مدارج النبوۃ)

(5) عید کے دن زیب و زینت اور شریعت کے موافق آرائش کرنا مستحب ہے۔

(مدارج النبوۃ)

حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ فرماتے ہیں ”لوگ کپڑوں کا بہت اہتمام کرتے ہیں حتی کہ بعض قرض لے کر نئے کپڑے بنواتے ہیں، بعض مستعار (ادھار مانگ کر) پہنتے ہیں۔ اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ سنت یہ ہے کہ ہر شخص کے پاس موجود کپڑے ان میں سے جو اچھے ہیں وہ پہنے۔

(زوال السنۃ عن اعمال السنۃ: ص32)

(6) خوشبو لگانا۔ (بحوالہ مذکورہ بالا)

(7) عید گاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرماتے تھے ان کی تعداد طاق ہوتی تھی یعنی تین، پانچ، سات۔ (صحیح بخاری) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی کے دن نماز سے واپس آنے سے پہلے کچھ نہ کھاتے، عید کی نماز پڑھ کر قربانی کر لیتے پھر قربانی کے گوشت میں سے کچھ تناول فرماتے۔ (بحوالہ جامع ترمذی، ابن ماجہ، مدارج النبوۃ)

حضرت تھانویؒ کہتے ہیں کہ بعض لوگ سویاں پکانا ضروری خیال کرتے ہیں یہ بھی غلط ہے بلکہ جو چاہے پکائے اور چاہے نہ پکائے شرع میں اس (سویاں پکانے کی) تخصیص کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (بحوالہ زوال السنۃ عن اعمال السنۃ: ص32)

(8) عید گاہ جانے سے قبل صدقہ فطر دے دینا۔ صدقہ فطر ہر مسلمان عاقل، مردو عورت پر واجب ہے جب کہ وہ زکوٰۃ کے نصاب کا مالک ہو چاہے اس مال پر سال نہ گزرا ہو۔ اپنی طرف سے اپنے نابالغ بچوں کی طرف جو زیر کفالت ہوں نصف صاع (یعنی پونے دو کلو) گندم یا اس کی قیمت ادا کرنا۔ (بہشتی گوہر)

(9) عید گاہ جلدی جانا۔ (بحوالہ زوال السنۃ عن اعمال السنۃ)

(10) عید گاہ میں نماز عید ادا کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ نماز عید گاہ (میدان) میں ادا فرماتے تھے۔

(صحیح مسلم و صحیح بخاری)

حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز عید کے لیے میدان میں نکلنا مسجد میں نماز ادا کرنے سے افضل ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس فضل و شرف کے جو آپ کی مسجد شریف کو حاصل ہے نماز کے لیے عیدگاہ (میدان) میں باہر تشریف لے جاتے تھے لیکن اگر کوئی عذر لاحق ہو تو جائز ہے۔

(اسوہئ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم: ص 406)

جیسا کہ ایک مرتبہ عید کے روز بارش ہو رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)

(11) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے اس سے واپس تشریف نہ لاتے بلکہ دوسرے راستہ سے تشریف لاتے۔ (بخاری، ترمذی)

(12) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ (سنن ابن ماجہ ترمذی) اس پر عمل کرنا سنت ہے بعض علماء نے مستحب کہا ہے۔

(اسوہئ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ص 407)

(13) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر میں تاخیر فرماتے اور نماز عیدالاضحی کو جلد ادا فرماتے۔

(مشکوٰۃ باب صلوٰۃ)

(14) عیدالفطر میں راستہ میں چلتے وقت آہستہ تکبیر کہنا مسنون ہے۔ (عید الاضحی میں بآواز بلند کہنا چاہیے) (بہشتی گوہر) تکبیر کے کلمات یہ ہیں: اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر واللّٰہ الحمد۔

حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں ”یہ بات عام ہے کہ نماز عید کے بعد آپس میں مصافحہ اور معانقہ کرتے ہیں اور اس کو ضروری خیال کرتے ہیں یہ بالکل بدعت ہے ہاں جو لوگ باہر سے آتے ہیں اگر ان سے بوجہ ملاقات اور دنوں کی طرح اس روز بھی معانقہ یا مصافحہ کیا جائے کوئی حرج نہیں ہے۔ عید کے روز ایک دوسرے کو کلمات تہنیت (مبارک باد کے کلمات) دینا یا اس کے ہم مضمون لفظ سے جیسا کہ عید مبارک کہنا وغیرہ جائز اور فی الجملہ مستحب ہے بشرطیکہ بطور رسم کی پابندی کے ساتھ نہ ہو۔

(زوال السنۃ عن اعمال السنۃ: ص34)

اللہ رب العزت ہم سب کو عید الفطر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔(آمین)

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -