رواں سال قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزمان کا سراغ نہ مل سکا

  رواں سال قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزمان کا سراغ نہ مل سکا

  

لاہور (کرائم رپورٹر)رواں سال بھی قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزمان کا سراغ نہ مل سکا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کہتے ہیں کہ جو کیس ٹریس ہوا اس پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، 12 افراد کے قاتل کون تھے؟؟ کہاں گئے؟؟ پولیس سراغ ہی نہ لگاسکی۔ گزشتہ دو سال کے دوران ہائی پروفائل شخصیات قتل ہوئیں لیکن قاتل کا کچھ پتہ نہیں۔ جی سی یونیورسٹی کے پروفیسر تنظیم اکبر، ریٹائرڈ میجر افرا سیاب خان اور نشتر کالونی میں بیوی کا قتل ہوا۔ دو سال کا عرصہ گزر گیا لیکن پولیس زبانی جمع خرچ سے باہر ہی نہ آئی۔فورٹ روڈ پر دو پولیس اہلکار قتل ہوئے، باغبانپورہ میں 14 سالہ لڑکے کو قتل کرکے لاش صندوق میں بند کردی گئی، لیکن قاتلوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ رواں سال کی بات کی جائے تو ڈکیتی مزاحمت پر شہریوں کے قتل کی واراداتیں عروج پر ہیں۔فیصل ٹاؤن میں خالد نامی شہری کو قتل کیا گیا، گرین ٹاؤن میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد قتل ہوئے، لیکن تفتیش میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کہتے ہیں کہ کئی واقعات میں ملوث ملزمان کا کچھ پتہ نہیں، لہذا جو کیس ٹریس کیے ہیں ان کی بات کی جائے۔رواں سال 150 سے زائد افراد مختلف واقعات میں قتل ہوچکے ہیں جن میں سے ٹریس ہونے کی شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے، جو پولیس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے

مزید :

علاقائی -