دوسری جنگ عظیم کی بمباری میں چڑیا گھر سے فرار ہونے والے مگر مچھ کی موت

دوسری جنگ عظیم کی بمباری میں چڑیا گھر سے فرار ہونے والے مگر مچھ کی موت

  

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)دوسری جنگ عظیم کے دوران بمباری میں بچ نکلنے والا مگر مچھ 'سیٹرن' 84 سال کی عمر میں چل بسا۔روسی دارالحکومت ماسکو کے چڑیا گھر کے اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز علی الصبح سیٹرن کی زائد العمر ہونے کی وجہ سے موت ہوگئی، اس کی عمر 84 سال تھی۔سیٹرن مگرمچھ امریکا میں پیدا ہوا تھا جسے 1936 میں جرمنی کے شہر برلن کے چڑیا گھر کو تحفے میں دیا گیا تھا تاہم 1943 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چڑیا گھر پر بمباری کی گئی تھی اور یہ مگر مچھ فرار ہوگیا تھا۔بعد ازاں برطانوی فوجیوں نے مگرمچھ کو تلاش کرکے سوویت یونین کے حوالے کردیا تھا۔چڑیا گھر کے مطابق سیٹرن نے ماسکو کے چڑیا گھر میں 74 سال گزارے ہیں۔دوسری جانب سیٹرن کو عمر رسیدہ مگر مچھ قرار دیا جاتا ہے، اس کے علاوہ ایک اور نرمگر مچھ 'مجا' سربیا کے چڑیا گھر میں موجود ہے جس کی عمر تقریباً 80 سال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیٹرن مگر مچھ جرمنی کے حکمران ہٹلر کے نجی چڑیا گھر کا بھی حصہ رہا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

مگر مچھ کی موت

مزید :

پشاورصفحہ آخر -