عید کی نماز کھلی گراونڈ اور عید گاہوں میں ادا کی جائے، پاکستان علماء کونسل

عید کی نماز کھلی گراونڈ اور عید گاہوں میں ادا کی جائے، پاکستان علماء کونسل

  

لاہور (آن لائن) پاکستان علماء کونسل نے ملک بھر کے آئمہ و خطباء اور عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ عید الفطر کی نماز جامع مساجد، کھلی گراونڈ اور عید گاہوں میں ادا کی جائے اور اجتماعات کے دوران مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کیونکہ اس وقت پاکستان میں کرونا وباء اپنے عروج پر ہے روزانہ کی بنیاد پراڑھائی ہزار لوگ اس وباء کا شکارہورہے ہیں لہٰذا ایس اوپیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ نماز عید کی ادائیگی سے قبل صدقہ فطر ادا کردیں۔ دارالافتاء پاکستان کے مطابق رواں سال کیلئے صدقہ فطر کی کم سے کم رقم 90 روپے مقرر کی گئی ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی،مولانا اسد ذکریا قاسمی، مولانا عبدالکریم ندیم، مفتی محمد عمر فاروق، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا شفیع قاسمی، مولانا اسید الرحمان سعید، مولانا اشفاق پتافی، مولانابوبکر صابری اورمولانا نعمان حاشر نے کہا ہے کہ عید الفطر ایسے موقع پر آرہی ہے جب پوری دنیاکو کرونا کی وباء کاسامنا ہے، ماہرین کے مطابق اس وباء سے بچنے کا واحد راستہ سماجی دوری ہے، جس کیلئے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی حکومت، ماہرین طب اور علماء نے مشاورت سے ایس او پیز تیار کئے ہیں۔ ان ایس او پیز کے مطابق نمازیں اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات ہورہے ہیں اب عید الفطر کے اجتماعات میں بھی انہیں احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہوگا۔نمازی گھر سے باوضوآئیں اور ہمراہ جائے نماز لائیں۔ ایک دوسرے سے گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کیا جائے۔ بچے، بوڑھے اور بیمار عید کے اجتماعات میں شریک نہ ہوں۔ ہماری تھوڑی سی احتیاط ہمیں اور دوسروں کو اس وباء سے بچا سکتی ہے۔صدقہ فطر اور فدیہ کی کم ازکم مقدار چکی کا آٹاپونے 2سیر یا اس کی قیمت 90روپے فی کس ہے، گندم کے حساب سے یہ فطرہ کی کم سے کم رقم ہے جب کہ جو کے نصاب سے فطرہ 260روپے اور کھجور کے نصاب سے 1100روپے ہے،کشمش کے نصاب سے 1900روپے بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عیدالفطر کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے یعنی جب سحری کا وقت ختم ہوتاہے اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے اور عید کی نماز کیلئے جانے سے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہے، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا، لیکن بعد میں ادا کرنے سے اس صدقہ کی فضیلت ختم ہوجائیگی اور یہ عام صدقہ بن جائے گا۔

پاکستان علماء کونسل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -