ایئرپورٹ کے نزدیک آبادکاری نہیں ہونی چاہیے

ایئرپورٹ کے نزدیک آبادکاری نہیں ہونی چاہیے

  

کراچی (رپورٹ /نعیم الدین) پی آئی اے کی تاریخ میں پیش آنے والے بدترین فضائی حادثہ جو کہ بدقسمتی سے ایک آبادی کے اوپر ہوا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایئرپورٹ کے نزدیک مقرر کردہ مخصوص ایریے کے نزدیک آبادی نہیں ہونی چاہیے۔ اور اس حادثہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ کراچی کو مزید ایک نئے ایئرپورٹ کی ضرورت ہے جو شہر سے دور ہونا چاہیے۔ کیونکہ کراچی ایئرپورٹ آبادی کے درمیان میں آگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں بے تحاشا آبادی جو کہ غیرقانونی طور پر قائم کی جارہی ہیں اور اس میں صرف آبادی نہیں بلکہ ایئرپورٹ رن وے کے نزدیک تین تین چار منزلوں پر مشتمل مکانات کا تعمیر کیے جانا متعلقہ اداروں پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ جس وقت یہ آبادیاں قائم کی جارہی تھیں، ان اداروں نے فوری ایکشن کیوں نہیں لیا؟ ایسی کیا وجوہات تھیں، ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ عمارتیں نہ ہوتیں تو اتنا بڑا نقصان ممکن نہیں تھاکیونکہ جہاز کو اترنے میں اتنی مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دس سال کے دوران ہمارے ملک میں تین چار فضائی حادثے معنی رکھتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ اس طرح کی پلاننگ کی جائے کہ آبادی کے ساتھ ایئرپورٹس کو بھی محفوظ بنایا جائے۔ دنیا بھر میں اس وقت جو ایئرپورٹ تعمیر کیے جارہے ہیں وہ شہری آبادی سے دور بنائے جارہے ہیں تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ متاثرہ علاقے کے مکینوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ بڑی تعداد میں گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جو کسی بھی وقت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، لیکن ان مکانات کو متاثرہ مکانات میں شامل نہیں کیا گیا اور حکام کی طرف سے متاثرہ مکانات کی تعداد ت کم بتائی جارہی ہے، حالانکہ ان میں جلنے والے مکانات زیادہ ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ ہوا تو لوگ قیامت خیز منظر دیکھ کر گھروں کو کھلا چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے گئے تھے، اور جب وہ حالات نارمل ہونے پر گھروں کو واپس آئے تو گھروں سے سامان غائب تھا۔

مزید :

صفحہ اول -