طیارہ حادثہ تحقیقات میں پیشرفت، رن وے پر کیا ملا؟ ساری کہانی ہی الٹ، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

طیارہ حادثہ تحقیقات میں پیشرفت، رن وے پر کیا ملا؟ ساری کہانی ہی الٹ، نیا ...
طیارہ حادثہ تحقیقات میں پیشرفت، رن وے پر کیا ملا؟ ساری کہانی ہی الٹ، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

  

کراچی  (ویب ڈیسک) پی آئی اے طیارہ حادثہ تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں‌ رن وے پر طیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات ملے ہیں‌ اور 4 مختلف مقامات پر پیچ بھی اکھڑے ہوئے ملے ہیں۔

دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ   تحقیقاتی ٹیم نے رن پر لگے کیمرے کی مدد سے طیارے کی لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے، دونوں کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کردی گئی۔ فوٹیجز میں دیکھا گیا کہ کپتان نے لینڈنگ کرتے ہوئے جہاز کے گیئر کو ڈوان نہیں کیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ طیارے کے پہلے انجن کو زمین پر رگڑ لگی، اسکے بعد دوسرے انجن نے رگڑا کھایا۔ بعد میں طیارے کے دونوں انجن رگڑتے ہوئے طیارہ اوپر کی جانب اٹھا۔ کپتان طیارے کا گو راونڈ لینے لگا جس کے دوران طیارہ 13 منٹ تک فضاء میں رہا، اس کے بعد تباہ ہو گیا۔

یاد رہے کہ لاہور سے کراچی جانیوالا طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ قبل ایئرپورٹ کے قریب ہی رہائشی علاقے میں گرکر تباہ ہوگیا تھا اور ماڈل کالونی میں جمعہ کے روز گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے میں سوار 99 میں سے 97 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو گئی، جن میں سے 12 افراد کی میتیوں کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔حادثے میں 2 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 19 جاں بحق افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، باقی افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔ریسکیو حکام کے مطابق تمام لاشوں کو ڈی این اے کے نمونے لینے کے بعد سرد خانے منتقل کیا گیا۔جامعہ کراچی میں ڈی این اے سیمپل دینے کے لیے ڈیسک قائم کر دیاگیاہے، جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات تک 6 فیملیز نے خون کے نمونے جمع کرائے ہیں، رات گئے تک نمونے حاصل کرنے کا عمل جاری رہا۔پولیس کے مطابق 4 افراد کی میتوں کو جناح اسپتال سے ہی ان کے لواحقین لے کر روانہ ہوگئے تھے۔

چھیپا سرد خانے سے 5 جبکہ ایدھی سرد خانے سے 3 میتیں شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق 40 افراد کی میتیں چھیپا سرد خانے میں جبکہ 35 میتیں ایدھی سردخانے میں موجود ہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ تحقیقاتی ٹیم فوری طور پر حادثہ کی تحقیقات شروع کرے، دوسری جانب وزارت ہوابازی کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی باضابطہ منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔فاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خاننے کہا ہے کہ شفاف انکوائری ہوگی ذمہ داروں کیخلاف ایکشن ہو گا، تمام حقائق قوم کے سامنے لائیں گے، کوشش ہے 3 ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے۔

کراچی میں چیئر مین پی آئی اے ارشد ملک کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ جہازایک گلی میں گرا، انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، اللہ لواحقین کوصبروجمیل عطا فرمائے، آرمی، رینجرز، سول انتظامیہ، اہل محلہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آرمی، رینجرز، ضلعی انتظامیہ نے بہت تعاون کیا۔وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ 3 ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے۔ جرمنی کی جس کمپنی نے یہ طیارہ بنایا ان کے ایکسپرٹ بھی آزادانہ انکوائری کریں گے۔

ایئربیس کے ماہرین آزادانہ تحقیقات کے لیے آئیں گے۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ چترال، گلگت حادثے کے بعد یہ سانحہ ہوا، چترال حادثے کی رپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی، حکومت کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کم ازکم وقت میں انکوائری کومکمل کیا جائے گا، محلے داروں کی املاک تباہ ہوئیں، جن کی املاک تباہ ہوئی انہیں معاوضہ دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شفاف انکوائری ہوگی ذمہ داروں کیخلاف ایکشن ہو گا۔ تمام حقائق قوم کے سامنے لائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر امدادی رقم پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ اگرکوئی غیرقانونی کنسٹریکشن ہوئی ہے توذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے بھی انکروچمنٹ سے متعلق ریمارکس سب کے سامنے ہیں۔ کراچی میں سی اے کی 1500 ایکڑ زمین پرتجاوزات ہیں۔ غلطیاں کوتاہیاں پچھلی حکومتوں میں ہوئیں ہم ان کوٹھیک کریں گے۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ بچنے والوں کواللہ نے نئی زندگی دی، ایمرجینسی لینڈنگ کے بارے پائلٹ نے اناؤنس نہیں کیا تھا، بلیک باکس سے ساری گفتگوسامنے آئے گی۔ رپورٹ تیار کروانا، قومی اسمبلی میں پیش کرنا اور ایکشن لینا میری ذمہ داری ہے۔ تمام حقائق سامنے لائیں گے۔قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) ارشد ملک نے کہا ہے کہ مسافر طیارے کے حادثے میں مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اس کا احتساب ہوگا۔

کراچی میں وفاقی وزیر ہوا بازی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) ارشد ملک نے کہا کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد میں سے 21 کی میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 96 مسافروں کے ڈی این اے کے لیے نمونے لے لیے گئے ہیں، جس کے لیے لاہور سے خصوصی ٹیم بلوا کر کراچی یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈی این اے میچ کرکے شناخت کی جاسکے۔

ارشد ملک نے کہا کہ 100 فیصد لواحقین سے رابطہ ہوچکا ہے جیسے ہی ڈی این اے میچ کرنے کا عمل مکمل ہوگا ہم میتیں حوالے کرنے کا عمل شروع کردیں گے۔سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ حکومت پاکستان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل کی ہے جس نے پوزیشن سنبھال لی ہے اور میرا تحقیقات سے صرف اتنا تعلق رہ جاتا ہے کہ جو معلومات، دستاویز مانگی جائیں وہ انہیں دینے کا پابند ہوں، میرا تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا میں ضمانت کے ساتھ انہیں نہ صرف احتساب کے لیے پیش کروں گا بلکہ مکمل اور شفاف کارروائی کی جائے گی جو حکومت پاکستان کا واضح مینڈیٹ ہے۔گورنر سندھ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور نے کہا ہے کہ100 فیصد آزادانہ اور شفاف انکوائری ہوگی، پوری کوشش ہوگی نتائج جلد سے جلد سامنے رکھے جائیں، ہماری کوتاہی ہوگی تو استعفیٰ دیں گے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) نے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو 10 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کردیا، ترجمان پی آئی اے کے مطابق تدفین کے اخراجات پی آئی اے کے ڈسٹرکٹ مینیجراز خود لواحقین کے گھر جا کر ادا کریں گے۔تفصیلات کے مطابق المناک طیارہ حادثے میں جو بچھڑ گئے وہ تو کبھی واپس نہیں آئیں گے مگر پیاروں کیلئے ہمیشہ کا غم ضرور چھوڑ گئے۔ پی آئی اے نے سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ تدفین کیلئے پی آئی اے کے قوانین کے مطابق 5 لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں تاہم وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر فی کس 10 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی میں ہونیوالے طیارہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی، تحقیقاتی ٹیم نے جہاز کی لاگ بک، بلیک باکس، کوئیک ایکسیس ریکارڈر طلب کرلیا، پی آئی ے انجینئرنگ اینڈ مینٹی ننس ڈپارٹمنٹ نے تباہ جہاز کی ایگزیکٹو سمری جاری کر دی۔تحقیقاتی ٹیم ایئر ٹریفک کنٹرولر اور پی آئی اے انجینئرنگ عملے سے بھی معلومات حاصل کرے گی جبکہ آخری پرواز آپریٹ کرنے والے پائلٹ سے بھی پوچھ گچھ کی جائیں گی۔

طیارے حادثے کی تحقیقات چار حصوں پر مشتمل ہوگی، پہلے متاثرہ جہاز کی ریکارڈ کا جانچ پڑتال کی جائیگی، جہاز سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا جائیگا، تباہ جہاز کے متاثرہ حصوں، انجنوں، لینڈنگ گیئرز اور دیگر حصوں کا معائنہ کیا جائیگا، متاثرہ جہاز کے بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کیلئے فرانس بجھوایا جائیگا۔ حادثے کی جگہ پر پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر اداروں اور سماجی تنظیموں کا ریلیف آپریشن جاری ہے، طیارہ گرنے سے 25 گھر متاثر ہوئے، مکینوں کو متبادل رہائش گاہوں میں منتقل کر دیا گیا۔پاک فوج امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، رینجرز اور سماجی بہبود کی تنظیمیں بھی ا?پریشن میں شریک ہیں ڈپٹی کمشنر کورنگی نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ حادثے میں ماڈل کالونی جناح گارڈن کا کوئی رہائشی جاں بحق نہیں ہوا۔

ڈپٹی کمشنر کورنگی کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی جناح گارڈن کے بلاک اے اور آرمیں گرا جس سے 19گھروں کو نقصان پہنچا اور ان میں 2 گھر مکمل طور پر جل گئے۔ڈی سی کورنگی کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے میں کالونی کا کوئی رہائشی جاں بحق نہیں ہوا، حادثے میں صرف 3 خواتین زخمی ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔طیارہ حادثے میں گلبہار کا رہائشی پورا خاندان اجڑ گیا جب کہ بہادر آباد کے باپ بیٹا بھی بدقمست طیارے میں حادثے کا شکار ہوگئے۔ کراچی کے علاقے وحیدآباد گلبہار کے وقاص اور اہلخانہ بھی بدقسمت طیارے میں سوار تھے جن کے اہلخانہ نے وقاص،اہلیہ ندا کی شناخت کرلی جب کہ بچوں کی شناخت ڈی این اے کیذریعے کی جائیگی۔اہلخانہ نے بتایا کہ وقاص کے دونوں بچوں عالیان اور آئمہ کی شناخت ابھی نہیں ہوئی، وقاص اوراہلیہ ملازمت کے لیے ایک سال سے لاہور میں مقیم تھے۔

دوسری جانب طیارہ حادثے میں جاں بحق ایک شہری بہادر آبادکا رہائشی تھا جو اپنے بیٹے کے ساتھ کراچی سے آرہا تھا۔جہاز میں سوار سلیم قادری کے ملازم نے بتایا کہ وہ کاروباری سلسلے میں لاہورگئے تھے،سلیم قادری کے ہمراہ ان کا بیٹا اسامہ قادری بھی جاں بحق ہوگیا۔لواحقین کا کہنا ہے کہ تاحال سلیم قادری اور صاحبزادے کی میتوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ی آئی اے کے بدقسمت طیارے حادثہ میں جاں بحق مسافروں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پی آئی اے طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کردی گئی، جاں بحق مسافروں کی غائبانہ نمازجنازہ پی آئی اے کی جامعہ مسجد میں ادا کی گئی۔نمازجنازہ میں گورنرسندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیرہوابازی غلام سرور شریک تھے، وفاقی وزیر علی زیدی، سی ای او پی آئی اے ایئرمارشل ارشدملک، ودیگر افسران بھی شریک ہوئے، غائبانہ نماز جنازہ کے بعد حادثے کے شکار مسافروں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

حادثے کا شکار ہونیوالے قومی ایئر لائن کے طیارے کا رجسٹریشن نمبر اے پی۔ بی ایل ڈی بوئنگ ایئر بس 320 تھا۔ پی آئی اے نے حادثے کا شکار طیارے کا 28 اپریل کو فٹنس سرٹیفکیٹ 25 اکتوبر 2020ء تک کیلئے جاری کروا رکھا تھا۔پی آئی اے ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن کے طیارے میں 180 مسافروں کی گنجائش تھی تاہم کورونا وائرس کے حفاظتی اقدامات کے طور پر اس میں عملے سمیت 107 افراد سوار تھے۔

طیارے کی ایک ماہ قبل مرمت کرائی گئی تھی اور کراچی روانگی سے قبل اسے تین بار کلیئرنس ملنے کے بعد روانہ کیا گیا تھا۔ ایئر بس نے مجموعی طور پر 47 ہزار 108 گھنٹے کی پرواز مکمل کرلی تھی۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا یہ طیارہ گزشتہ روز مسقط سے مسافروں کو لے کر پاکستان پہنچا تھا۔ قومی ایئرلائن کے فلیٹ میں شامل ہونے سے پہلے یہ طیارہ چائنا ایسٹرن ایئرلائن کے زیر استعمال رہا ہے اور پی آئی اے کے فلیٹ میں اکتوبر 2014ء میں شامل کیا گیا تھا۔ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ کی سمری کے مطابق طیارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونیوالے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی۔سمری میں کہا گیا کہ دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے ای) کی جانب سے طیارے کو 5 نومبر، 2020 تک اڑان بھرنے کیلئے صحیح قرار دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ایئر بس A320-200 کو پرواز کی صلاحیت(ایئروردینس) کا پہلا سرٹیفکیٹ 6 نومبر 2014 سے 5 نومبر 2105 تک کیلئے جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہر برس طیارے کے مکمل معائنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پرطیارہ حادثے کے ایک متاثرہ گھرکے16افرادنجی ہوٹل منتقل کیا گیا جبکہ دیگرمتاثرہ فیملیزاپنے رشتہ داروں کے گھر چلی گئیں، تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنرکورنگی نے طیارہ حادثہ کے متاثرین علاقہ مکینوں کو شاہراہ فیصل پر واقع ہوٹل میں رہائش فراہم کردی۔

ڈی سی ضلع کورنگی کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 2:30بجے کے قریب طیارہ گرنے کی خبرملی، فائربریگیڈاورریسکیوٹیمیں 20منٹ میں جائے حادثہ پہنچی، طیارہ گرنے سے2گھرمکمل جل گئے،19کوجزوی نقصان پہنچا تاہم طیارہ حادثے میں کسی رہائشی کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تاہم 3رہائشی خواتین زخمی ہوئیں جنہیں سپتال منتقل کردیا گیا۔طیارہ گرنے سے کئی گھروں کی چھتیں اور گلیوں میں کھڑی گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

اس سے قبل  وفاقی حکومت کی جانب سے طیارہ حادثے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی 4 رکنی ٹیم نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ائیرکموڈور عثمان غنی کررہے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد جمع کیے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ طیارے کا بلیک باکس انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق  پی آئی اے کے طیارے کو حادثے کے بعد کراچی ائیر پورٹ پر پروازوں کا شیڈول بحال ہو گیا،متعدد پروازوں نے کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی اور اڑان بھی بھری، دیگر ائیر پورٹس پر بھی فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری رہا۔ لاہور سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8305،جدہ سے پرواز پی کے 758،اسلام آباد سے پرواز پی کے 8309،دبئی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8214،لاہور سے دوسری پرواز ای آر 525،اسلام آباد سے پرواز ای آر 503 کراچی ائیر پورٹ کیلئے شیڈول کی گئیں۔لاہور اسلام آباد سے حادثہ متاثرین کے اہل خانہ کو بھی کراچی پہنچایا گیا۔

کراچی ائیر پورٹ سے بھی پروازوں کی روانگی ہوئی جس میں پرواز ای آر 500 اسلام آباد،پی آئی اے کی پرواز پی کے 8308 اسلام آباد،دبئی کیلئے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8213،پرواز ای آر 502 اسلام آباد،پرواز ای آر 524،اسلام آباد کے لئے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8308 اورلاہور کیلئے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8304 کراچی سے روانہ ہوئیں۔ علاوہ ازیں دیگر ائیر پورٹس پر بھی فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق بحال رہا۔اسلام آباد سے میلان کے لئے خصوصی پرواز 390 مسافروں کو لے کر روانہ ہوئی۔اسلام آباد سے گلگت کے دو پروازیں روانہ کی گئیں اوراسلام آباد سے سکردو کے لئے بھی پرواز کی روانگی ہوئی۔

اس سانحے پر ملکی اور بیرون ملک سے بھی افسوس کا اظہار کیاگیا، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کراچی میں طیارہ حادثہ میں جاں بحق افراد کیلئے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارے کے المناک حادثے نے عیدالفطر سے قبل پوری قوم کو سوگوار اور غم زدہ کر دیا ہے،جن گھروں پر طیارا گرا ہے، حکومت ان کے نقصانات پورے کرنے کیلئے اقدامات کرے، واقعہ کی تحقیقات کی جائیں۔ اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہاکہ طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ حادثے کے دوران عام لوگوں نے جس جذبے کا مظاہرہ کیا اور مسافروں کی جان بچانے کی کوشش کی، اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ زلزلہ، سیلاب یا کسی بھی حادثے میں پاکستانیوں نے ہمیشہ اپنے بے مثال خلوص، انسانی ہمدردی اور دوسروں کی مدد کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آج غم کی اس گھڑی میں ہمارے پیاروں کی شناخت کا اہم فرض پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کراچی ائرپورٹ کے نزدیک رہائشی علاقے میں پی آئی اے کے طیارے کو حادثے پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔ ایک بیان میں انہوں نے پی آئی اے کے طیارہ حادثے پر شدید رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دلی تعزیت پیش کی۔سیکرٹری جنرل او آئی سی نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو دلی تعزیت اور گہری ہمدردی پیش کی،۔سیکریٹری جنرل نے حکومت اور پاکستانی عوام کے زریعہ متاثرہ خاندانوں کو بھی دلی تعزیت اور گہری ہمدردی پیش کی۔

ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے اللہ تعالی سے جاں بحق ہونے والوں پر اپنے لا متناہی کرم اور جنت الفردوس کی دعا کی۔ ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے جاں بحق ہونے والوں کے عزیز و اقربااور دوستوں کے لیے صبر اور حوصلہ کی دعا بھی کی۔او آئی سی سیکریٹری جنرل نے قرآن پاک کی اس آیت کا حوالہ بھی دیا کہ ہم سب اللہ کی طرف سے آئیہیں اور انہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کراچی طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔سوشل میڈیا پر مائیک پومپیو نے ایک پیغام میں کہا کہ انہیں کراچی میں ہونے والے حادثے کا سن کر صدمہ اور افسوس ہوا۔انہوں نے لکھا کہ وہ حادثے میں جان کی بازی ہارنے والوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاگو ہیں۔

اس حادثے کے بعد ماہرین ایئرپورٹ کے گرد تعمیرات پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں، کراچی (رپورٹ /نعیم الدین) پی آئی اے کی تاریخ میں پیش آنے والے بدترین فضائی حادثہ جو کہ بدقسمتی سے ایک آبادی کے اوپر ہوا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایئرپورٹ کے نزدیک مقرر کردہ مخصوص ایریے کے نزدیک آبادی نہیں ہونی چاہیے۔ اور اس حادثہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ کراچی کو مزید ایک نئے ایئرپورٹ کی ضرورت ہے جو شہر سے دور ہونا چاہیے۔ کیونکہ کراچی ایئرپورٹ آبادی کے درمیان میں آگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں بے تحاشا آبادی جو کہ غیرقانونی طور پر قائم کی جارہی ہیں اور اس میں صرف آبادی نہیں بلکہ ایئرپورٹ رن وے کے نزدیک تین تین چار منزلوں پر مشتمل مکانات کا تعمیر کیے جانا متعلقہ اداروں پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ جس وقت یہ آبادیاں قائم کی جارہی تھیں،

ان اداروں نے فوری ایکشن کیوں نہیں لیا؟ ایسی کیا وجوہات تھیں، ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ عمارتیں نہ ہوتیں تو اتنا بڑا نقصان ممکن نہیں تھاکیونکہ جہاز کو اترنے میں اتنی مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دس سال کے دوران ہمارے ملک میں تین چار فضائی حادثے معنی رکھتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ اس طرح کی پلاننگ کی جائے کہ آبادی کے ساتھ ایئرپورٹس کو بھی محفوظ بنایا جائے۔ دنیا بھر میں اس وقت جو ایئرپورٹ تعمیر کیے جارہے ہیں وہ شہری آبادی سے دور بنائے جارہے ہیں تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔

متاثرہ علاقے کے مکینوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ بڑی تعداد میں گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جو کسی بھی وقت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، لیکن ان مکانات کو متاثرہ مکانات میں شامل نہیں کیا گیا اور حکام کی طرف سے متاثرہ مکانات کی تعداد ت کم بتائی جارہی ہے، حالانکہ ان میں جلنے والے مکانات زیادہ ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ ہوا تو لوگ قیامت خیز منظر دیکھ کر گھروں کو کھلا چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے گئے تھے، اور جب وہ حالات نارمل ہونے پر گھروں کو واپس آئے تو گھروں سے سامان غائب تھا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -