کشمیر کا سودا نہیں ہو گا

کشمیر کا سودا نہیں ہو گا

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر پر سودے بازی نہیں ہو گی،وزیراعظم سوداگر نہیں جو کشمیر کا سودا کریں،کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دیا جانا چاہئے، ہمارا مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف ہے، وزیر خارجہ نے بھارت کا نام لئے بغیر کہا کہ اگر کوئی باعزت طریقے سے بات کرنا چاہے تو کریں گے،نیو یارک میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پالیسی اور جبر پر گفتگو کرنا تعصب نہیں، پڑوسی کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں، مگر ہمارے ایشوز ہیں انہیں بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مثبت قدم ہے،مگر یہ ناکافی ہے۔فلسطین اور کشمیر کے حالات ایک جیسے ہیں، جیسے غزہ میں انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو چکا اسی طرح کشمیر کی صورتِ حال بھی ابتر ہے۔ بھارتی فوج کی فائرنگ کے باعث کشمیریوں کی زندگی بُری طرح متاثر ہے،ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے ہم سب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں۔

اچھا ہوا وزیر خارجہ نے واضح کر دیا کہ وزیراعظم عمران خان سوداگر نہیں اور نہ کشمیر پر کوئی سودے بازی ہونے جا رہی ہے،جب سے بھارت نے کشمیرکو اپنا غیر قانونی حصہ بنایا ہے اور اس کی ریاستی حیثیت ختم کر دی ہے۔پاکستان مسلسل اعلان کرتا چلا آ رہا ہے کہ جب تک5 اگست کا اقدام واپس نہیں ہوتا، بھارت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، ابھی چند روز پہلے ہی جناب وزیراعظم نے یہ بات ڈنکے کی چوٹ کہی تھی،اِس لئے کسی کو بھی اِس بارے میں کوئی ابہام نہیں کہ بھارت کے ساتھ مستقبل قریب میں کوئی ایسے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں،جن سے پہلے کشمیر کی متنازعہ حیثیت بحال نہ کی گئی ہو۔ دوسرے الفاظ میں اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے جا رہے،کیونکہ اب تک بھارت نے کوئی ایسا عندیہ نہیں دیا کہ وہ5اگست کا اقدام ختم کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے،اِس لئے وزیر خارجہ کا نیو یارک میں یہ کہنا کہ ”کوئی بات کرنا چاہے تو ہم کریں گے“ وضاحت کا متقاضی ہے،کیونکہ مخالفین اِس سے یہ مطلب بھی نکال سکتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے بھارت کو کسی قسم کی رعایت کا اشارہ دیا جا رہا ہے، بہتر ہے کہ جناب وزیر خارجہ اس کی وضاحت جلد از جلد خود کر دیں،کیونکہ جب وزیراعظم یہ کہتے رہتے ہیں کہ5 اگست کے اقدام کی واپسی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں تو پھر ”کوئی بات کرنا چاہے“ کا ذکر کر کے بھارت کے لئے کوئی روزن کھولنے کی گنجائش کیسے پیدا کی جا سکتی ہے، اب تو خیر مسئلے کا رُخ ہی بدل گیا ہے،لیکن جب تک بھارت نے کشمیر کو غیر قانونی طور پر ضم نہیں کیا تھا، دونوں ممالک میں اس معاملے پر مذاکرات بھی ہوتے رہے، طویل بھی اور مختصر تھی، لیکن ان کا کوئی نتیجہ کبھی نہیں نکلا۔ 1999ء میں بھارتی وزیراعظم واجپائی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے،لیکن جہاں اُن کی آمد پر اُن کا استقبال کیا جا رہا تھا، وہاں اسی شہر میں مظاہرے بھی ہو رہے تھے، جو پُرتشدد بھی ہو گئے،ان مظاہرین کا مطالبہ تھا ”واجپائی واپس جاؤ“ واپس تو خیر وہ چلے ہی گئے، لیکن اُن کے جانے کے چند ماہ بعد ہی کارگل کا(مِس) ایڈونچر ہو گیا،جس نے بہت سی حقیقتوں پر پڑے ہوئے پردے واشگاف کر دیئے، اب تک ہر کوئی اس کی من مانی تشریح کر رہا ہے،لیکن جس مسئلے کو حل کرنے کے لئے یہ سب کچھ کرنے کا دعویٰ کیا گیا وہ وہیں کا وہیں ہے،جنرل پرویز مشرف بعد میں خود ہمہ مقتدر حکمران بن گئے تو شاید اُنہیں خیال آیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا من پسند حل کرا سکتے ہیں اسی مشن کو لے کر وہ آگرہ پہنچے تو اُن کی باڈی لینگویج سے لگتا تھا کہ کوئی انہیں کشمیر طشتری میں رکھ کر پیش کرنے کے لئے مرا جا رہا ہے،لیکن بعد میں اس پہاڑ کے کھودنے سے چوہا بھی نہ نکلا اور دو  سطری اعلان تک جاری نہ ہو سکا، جنرل صاحب آدھی رات کے وقت پاؤں پٹختے ہوئے واپس آئے تو اُن پر انکشاف ہوا کہ وہ تو مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر ہی واپس آ گئے ہیں،اگلے دن انہوں نے اسلام آباد میں خود کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے گئے تھے،جس پر ایک اخبار نویس نے سوال کی گستاخی کی تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ مسئلے کے دوبارہ حل کا خیال انہیں اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں آیا، جس کے لئے پس ِ پردہ مذاکرات جاری تھے، آنیاں جانیاں بھی دیکھنے والی تھیں، کشمیر پر نان پیپرز کا تبادلہ ہو چکا تھا،کشمیر کے چار زون بنانے تک بات پہنچ چکی تھی کہ من موہن سنگھ نے محسوس کیا کہ جنرل کا اقتدار اب ہفتوں نہیں تو مہینوں کا مہمان ہے، اِس لئے انہوں نے کہا آپ کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر مزید بات نہیں ہو سکتی، اب ہم آنے والے حکمران سے بات کریں گے،سو مسئلہ کشمیر رہا وہیں کا وہیں،جسے اب مودی نے اپنے طور پر ”حل“ کر دیا ہے۔

ہم جناب وزیر خارجہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ کشمیر پر سودے بازی نہیں ہو گی، یہ معاملہ اتنا نازک ہے کہ کوئی حکمران سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکتا، جو سوچے گا اس کی کمر پر غیب سے ایسا تازیانہ پڑے گا جیسا جنرل پرویز مشرف پر برس چکا،انہوں نے کشمیر کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے کشمیری رہنماؤں کی تضحیک کی تھی، حالات نے خود انہیں نشانِ عبرت بنا دیا ہے، وہ سزا یاب ہو کر جلا وطن ہو گئے جن کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ آج بھی سینے پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ من مانیاں کرنے والوں کا حشر تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے،اِس لئے ”حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں“ کشمیر کا کوئی غیر منصفانہ حل نہ کشمیری قبول کریں گے اور نہ پاکستانی۔ سودے بازی کرنے کا سوچنے والے بھی پہلے کی طرح منہ کی کھائیں گے،اِس لئے اگر کسی کی یہ سوچ ہے تو وہ اس سے رجوع کر لے اور حق ِ خود ارادیت کے بغیر کشمیر کے مستقبل کا کوئی تصور ذہن میں نہ لائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -