ڈاکٹر طارق عزیز بھی چل بسے

ڈاکٹر طارق عزیز بھی چل بسے
ڈاکٹر طارق عزیز بھی چل بسے

  

ڈاکٹر طارق عزیز کا تعلق لاہور سے تھا۔ وہ دونوں ٹانگوں سے معذور تھے لیکن زندگی کے علمی اور تخلیقی میدان میں وہ ایک بہت معتبر حوالے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 1978ء  میں اردو زبان میں ایم اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے حاصل کی اور یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایم اے کے بعد وہ شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے اور بہت سے کالجوں میں مدرس کی خدمات انجام دیں۔ 1990ء سے مئی 2003ء تک فارمین کرسچین کالج لاہور میں استاد رہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کالج آف سائنس لاہور میں 2008ء  سے 2013ء   تک وائس پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔ڈاکٹر طارق عزیز اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں ابلاغیات کے پروفیسر تھے۔ان کے لکھے جانے والے مشہور ڈراموں میں بسیرا، گیسٹ ہاؤس، اکھڑ، فیصلہ، نوبہار، آنکھ اوجھل، زہر باد،علی بابا، آدھے چہرے، دوپٹہ، بدلتے راستے،کوئی تو ہو شامل ہیں۔

ڈاکٹرطارق عزیز نے کئی کتابیں بھی لکھیں، لیکن موت سے چند سال قبل انہوں نے ڈرامہ لکھنا چھوڑ دیا تھا تین ماہ قبل راقم الحروف سے ملاقات میں انہوں نے بتایا تھا کہ اب ڈرامہ کا وہ معیار نہیں رہا اسی لیے پرانے ڈرامہ رائٹرز نے ڈرامہ لکھنا چھوڑ دیا ہے۔وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ان کی شاعری میں حقیقت پسندی اور انوکھا پن تھا شاعروں سے محبت کرتے تھے اور کبھی کبھار مشاعروں میں بھی جاتے تھے۔

 1994ء میں میری ڈاکٹر طارق عزیز سے ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ کواپریٹو سٹور انجینئرنگ یونیورسٹی کے پاس ریلوے کالونی میں رہتے تھے ان دِنوں ان کے ڈرامے بڑے شوق سے پی ٹی وی پر دیکھے جاتے تھے پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا میں بھی اس وقت طالب علم تھا،لیکن مختلف قومی اخبارات میں لکھتا تھا، جس کے سبب ڈاکٹر صاحب مجھے جانتے تھے اور میری تحریریں بھی ان کی نظر سے گزرتی تھیں۔

پچھلے سال میری دو کتابوں  ”گھر کا بھیدی“ اور ”ریڈ کراس اور انسانیت“ کے تعارف کی تقریب تھی، جس کے لئے میں نے ڈاکٹر صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی تو  انہوں نے خوشی سے قبول کر لی ڈاکٹر صاحب گورنر ہاوس تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔میں ایم فل ماس کمیونیکیشن کے داخلہ کے لئے گیا تو انہوں نے ایچ او ڈی کو اپنے کمرہ ہی میں بلوا لیا اور میرا تعارف کروایا تو ایچ او ڈی نے کہا کہ میں انہیں ان کی تحریروں کی وجہ سے پہلے ہی جانتا ہوں دوہفتے کے بعد داخلہ ٹسٹ تھا، اسی دوران یونیورسٹی کے وی سی کا انتقال ہو گیا تو ٹیسٹ ملتوی ہو گئے دو ہفتے کے بعد دوبارہ ڈیٹ مقرر ہوئی تو میں سخت بیمار ہو گیا اور ٹیسٹ نہ دے سکا ڈاکٹر صاحب کو مَیں نے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ اب لیٹ انٹری ٹیسٹ بھی ہو گیا ہے،اب اگست میں داخلے ہونے ہیں تین ماہ انتظار کر لو، میں اس انتظار میں تھا کہ اگست میں داخلہ ہو گا تو روزانہ ڈاکٹر طارق عزیز سے گپ شپ ہو گی اور ایسے ہی ایم فل ہو جاے گا کہ ڈاکٹر صاحب کو زندگی نے مہلت ہی نہ دی اور 20مئی کو ان کے انتقال خبر مل گئی۔ ڈاکٹر طارق عزیز ایک تخلیقی انسان تھے اور اپنی معذوری کو کبھی انہوں نے رکاوٹ نہیں سمجھا، بلکہ اپنا کام جاری رکھا اور نہ کبھی احساس کمتری کا شکار ہوئے اپنے لکھنے لکھانے کے کاموں میں ہمیشہ مصروف رہتے۔

مزید :

رائے -کالم -