قوم کا مستقبل،امتحانات اور نصابی کتب !

قوم کا مستقبل،امتحانات اور نصابی کتب !
قوم کا مستقبل،امتحانات اور نصابی کتب !

  

کورونا کی تیسری لہر کی شدت میں قدرے کمی کے پیش نظر-16اضلاع میں تعلیمی ادارے بتدریج کھولنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، اس حوالے سے مزید  اہم فیصلے کئے جانے کی بھی ضرورت ہے،  نوجوان قومی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب تک ان نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ ان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سرشام گلی محلوں میں چوک چوراہوں پر دکھائی دیتی ہے۔یہ نوجوان گروپوں اور ٹولیوں کی صورت  میں اکٹھے ہوتے ہیں، اکثر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے جھگڑے اور سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اکثریت کے والدین بھی ان سے خوفزدہ ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ زیادہ بے خوفی سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، کوئی چھوٹا ڈان تو کوئی بڑا ڈان کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے، ان گروپوں میں کچھ تو بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں، کچھ ایسے طالب علم بھی ہوتے ہیں  جو پڑھائی پر مکمل دھیان نہیں دیتے، جس کے باعث معاشرہ تیزی سے بے راہ روی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چند سال میں ایسے گروپوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے سدباب کے لیے  ضرب ردالفساد کی طرز پر حکومتی سطح پر سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اس حوالے سے تعلیمی اداروں کے سربراہوں، تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کو  خصوصی اختیارات تفویض کرنا ہوں گے، تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ جس طرح تمام طالب علم ایک جیسی یونیفارم میں سکول آتے  ہیں، اسی طرح ان کے بالوں کے سٹائل مختلف ہونے کی بجائے ایک ہی ہوں،اس طرح حلیہ درست ہونے سے آدھی سے زیادہ نسل نظم و ضبط کی پابند  ہو جائے گی  اورجو طلبہ تعلیمی اداروں میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے والدین کو بلا کر انہیں آگاہ کیا جائے، اگر وہ  طالب علم والدین کے کہنے سننے میں نہیں ہیں تو  انہیں سمجھایا بجھایا جائے، اگر اس پر بھی اخلاقیات بہتر نہیں ہوتیں تو پھر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے،  اول تو بالوں کا سٹائل بہتر ہونے سے ستر، اسی فیصد طالب علموں کی اخلاقیات بہتر ہو جائیں گی، رہی سہی  کسر والدین کے ساتھ میٹنگ کرنے سے پوری ہو جائے گی اور  سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، بالخصوص ایسے میں جبکہ طلبہ کو معلوم ہو گا کہ اگر خود کو بہتر نہ  کیا گیا تو انہیں کس قدر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رہی ان نوجوانوں کی بات جو شام ہوتے ہی، ٹولیوں اور گروپوں کی صورت میں گلی محلوں میں دکھائی دیتے ہیں،  ان کے  بھی پہلے حلیے درست کروائے جائیں، دوسرے ان پر ٹولیوں یا گروپوں کی صورت میں بیٹھنے پر پابندی لگائی جائے۔ جو نوجوان اپنے والدین کے کہنے سننے میں نہیں یا جن کے والدین ہی نہیں، ان کے سرپرستوں کی ذمہ داری ہو کہ وہ ان بچوں کی اخلاقیات درست کریں، اگر یہ بچے ان کی بات نہیں مانتے تو حکومتی سطح پر ایک ادارہ بنا کر یا کسی بھی ادارے کو یہ ذمہ داریاں تفویض کرکے اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرے۔ 

ملک بھر میں کورونا وبا میں بہتری اگر سر دست نہیں بھی آتی تو بھی کوشش کی جائے کہ سات جون سے ہر صورت میں تعلیمی ادارے کھول دیئے  جائیں،  بے شک طالب علم ہفتے میں دو یا تین دن ہی سکول کیوں نہ آئیں، اب نیا تعلیمی سال  شروع ہے، لیکن طلبہ کے سابقہ تعلیمی سال کے امتحانات بھی نہیں ہوئے ، اس لئے مزید وقت ضائع نہ کیا جائے،  اس حوالے سے تجویز ہے کہ تیسری جماعت تک کے طلبہ کو اگلی کلاسز میں ترقی دے دی جائے،  جماعت چہارم سے آٹھویں جماعت تک کے تمام نہ سہی، تین چار اہم مضامین کا امتحان  جون میں ہی لے کر ان کا  تیس جون تک رزلٹ جاری کر کے، انہیں بھی نئی جماعتوں کی کتب وغیرہ دے کر، ان کی پڑھائی کا عمل شروع کروایا جائے،  نویں اور گیارہویں کے پرچے بیشک نہ لئے جائیں لیکن دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات دو یا تین دن کے وقفے سے ڈیٹ شیٹ بنا کر فوری لے لئے جائیں، یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ  ایک دن دسویں، دوسرے دن بارہویں جماعت کا پرچہ لیا جائے، ایک دن کا وقفہ دے کر امتحان لیا جائے، ہفتے میں دو دو پرچے لے کر ایک مہینے میں امتحانات مکمل کر کے اگلے ایک ڈیڑھ ماہ میں نتائج کا اعلان کر دیا جائے۔ نویں اور گیارہویں کے امتحانات ختم ہی کر دیئے جائیں، جس طرح پہلے نویں، دسویں اور گیارہویں، بارہویں کے امتحانات اکٹھے ہوا کرتے تھے،اسی طرح آئندہ سے امتحانات لئے جائیں۔

تعلیمی نصاب پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے ،اول یا دوئم جماعت تک تو طلبہ کی صرف چند کتب ہی ہونی چاہئیں،  وہ بھی سوال جواب طرز پر،  یہ کتب  طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں،تاکہ طلبہ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جلا ملے، تیسری سے پانچویں جماعت تک نصاب میں مزید ایک دو کتب کا اضافہ کر دیا جائے، جماعت ششم سے دسویں تک نصابی کتب اس طرح ترتیب دی جائیں کہ جن میں بجائے سو سوا سو سوالات کے ایک کتاب کے سوالات 30، 35 سے زیادہ نہ ہوں،ان سوالات کو اسی طرح ترتیب دیا جائے کہ ششم سے بتدریج دسویں جماعت تک سوالات نصابی کتب میں اس ترتیب سے دیئے جائیں کہ دسویں پاس طالب علم معاشرے کا ایک فعال شہری بننے کے قابل ہو سکے، اس کے پاس اتنا علمی مواد ہو کہ وہ اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کر سکے، اسے تحریر اور تقریر پر دسترس حاصل ہو،  جب تک ہم رٹے رٹائے طوطے پیدا کرتے رہیں گے، ملک کو خوشحالی سے روشناس نہیں کروا سکیں گے،  یہ تبھی ممکن ہے جب نئی نسل اپنی مخفی صلاحیتوں کو از خود استعمال کرنے کے قابل ہو۔

جزاکم اللہ خیراً کثیرا

مزید :

رائے -کالم -