نوجوان قانون دان کس بے دردی سے قتل کر دی گئی؟

نوجوان قانون دان کس بے دردی سے قتل کر دی گئی؟

  

عورتوں بالخصوص جواں سال لڑکیوں کے قتل کے واقعات معمول بن گئے ہیں، جن میں انصاف کے نہ ملنے کی فریادیں ہوتی ہیں، اہل قتدار سے اور قانون کے اداروں سے انصاف مہیا کرنے کی منتیں اور سماجتیں کی جاتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ 3 مئی کو لاہور کے پوش علاقہ ڈیفنس فیز فائیو میں بھی پیش آیا جہاں لندن کی26سالہ لاء گر یجوایٹ مائرہ ذوالفقار کو رات کے وقت اس کے کمرے میں نامعلوم افراد نے تشدد اور فائرنگ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا،جس کے ملزمان تاحال پولیس ٹریس نہیں کر سکی، مائرہ کے والدین بیرون ملک مقیم ہیں، قتل ہو نیوالی مائرہ لندن میں قانون کی طالبہ تھی، وہ ملازمت کے لیے پہلے لندن سے دبئی اور پھر لاہور منتقل ہوئی جہاں اس کے کلاس فیلو ظاہر جدون نے جعلی نکاح نامے پر اسے کرائے کامکان لیکر دیا,جس گھر میں مائرہ قتل ہوئی اس کی بالائی منزل پر رہنے والی دوسری لڑکی اقرا بینک میں کام کرتی ہے، مائرہ کی اقرا سے دوستی فیس بک پر ہوئی تھی دونوں کرایہ شیئر کرتی تھیں، پولیس کے مطابق مائرہ کے کمرے سے منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔مقتولہ واقعہ سے چندروز قبل اپنی دوست سجل کے ہمراہ لندن سے پاکستان آئی تھی،مقتولہ کو سحری کے وقت اس کے دوست گھر چھوڑ کر گئے اور دوپہر میں لاش برآمد ہوئی۔مقتولہ کے پھوپھا نے مائرہ کے دوست ظاہر جدون اور سعد امیر کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔مدعی محمد نذیر کے مطابق ظاہر جدون اور سعد امیر مقتولہ سے شادی کے خواہشمند تھے۔ مائرہ نے شادی سے انکار کر دیا تھا، الزام لگایا کہ بھتیجی کو ظاہر اور سعد نے قتل کیا ہے۔

 مقتولہ ڈیفنس فیز فائیو میں اپنی دوست اقرا ہمدانی کے ساتھ کرائے پر رہتی تھی۔26 سالہ مائرہ ذوالفقار کی طرف سے 20 مارچ کو لاہور کے تھانے ڈیفنس بی میں ایک درخواست دائر کی گئی، دائر کی گئی درخواست میں انھوں نے نے موقف اختیار کیا کہ ان کے ایک دوست نے 17 مارچ کی صبح زبردستی ان کے گھر میں گھس کر انھیں اسلحے کے زور پر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔مائرہ کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم نے گاڑی میں اس کے ساتھ بداخلاقی کرنے کی بھی کوشش کی۔مائرہ نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ وہ ملزم کو دھکا دے کر گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہوئیں اور ان کے شور مچانے پر لوگوں کے اکٹھے ہونے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا جبکہ اس نے مائرہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔مائرہ کی طرف سے جمع کروائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم پہلے بھی زبردستی ان کے گھر گھس کر ان کو بداخلاقی کا نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا ہے۔مائرہ ذوالفقار نے پولیس سے ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ فراہم کرنے کا بھی کہا تھا،مقامی پولیس کی جانب سے اس درخواست پر نوٹس نہ لینے اور مائرہ کے قتل کا واقعہ پیش آنے پر آئی جی پولیس کی ہدایت پر ایس ایچ او ڈیفنس سی قاسم گجر کو ڈی آئی جی لاہور ساجد کیانی نے معطل کر دیا ہے۔ مائرہ کے والد اپنی بیٹی کے کیس کے سلسلے میں پاکستان آگئے ہیں، مقتولہ کے والد کا کہنا ہے‘ان ظالموں نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا، اْس کی کیا غلطی تھی۔ مجھے کچھ نہیں پتا میں اپنے ملک میں آیا ہوں اور دھکے کھا رہا ہوں، پولیس میری بات نہیں سنتی۔ اگر کوئی مائرہ کی مدد کرتا تو شاید وہ زندہ ہوتی۔ مائرہ ذوالفقار کے والد محمد ذوالفقار کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ نہ تو پولیس افسران ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کر کے مناسب تفتیش کی جا رہی ہے۔ روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ کے والد کا کہنا ہے کہ ’ماہرہ ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ تعلیم سے محبت کرنے والی لڑکی تھی۔ اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ جج بننا چاہتی تھی۔ وہ پاکستان آ کر خواتین کے لیے کام کرنا چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ پاپا میں غریب لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔والد کے مطابق’دونوں نامزد ملزمان کریمنل ریکارڈ رکھتے ہیں‘’مرجائیں گے لیکن بیٹی کے خون کا سودا نہیں کریں گے۔مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا ہے کہ پاکستان سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں جب لندن تعلیم کے لیے آئے تو ان کی مائرہ سے دوستی ہوئی اور انہی میں سے چند کے کہنے پر مائرہ پاکستان آئیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ مائرہ قتل کیس میں نامزد ملزمان بھی اسی طرح ان کی بیٹی سے ملے تھے جبکہ مائرہ کے ساتھ ان کے کرائے کے گھر میں رہنے والی سہیلی اْن کی کسی دوسری دوست کے توسط سے اْن سے ملی تھیں۔’میری بیٹی مغرب میں پلی بڑھی ہے جہاں پر لڑکے لڑکیاں آپس میں بات کر لیتے ہیں اور اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا۔‘ماہرہ کے والد نے دعویٰ کیا (جس کے شواہد پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ہیں) کہ ’میری بیٹی کو بے دردی سے مارا گیا پہلے اس کے گلے میں رسی باندھی گئی کیونکہ وہ بہت بہادر تھی اس نے اپنا دفاع کیا تو اس پر بے دردی سے گولیاں چلائی گئیں۔‘روزنامہ پاکستان کو موصول پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مائرہ ذوالفقار کے جسم پر گولیوں کے دو نشانات سمیت کل چھ زخم موجود ہیں، گلے اور بازوں پر موجود نشانات بھی ہیں جبکہ چہرے پر لگنے والی گولی سے ان کے دانت بھی ٹوٹے ہوئے پائے گئے ہیں۔ماہرہ کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے ساتھ زیادہ تعاون نہیں کر رہی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مائرہ کے دوستوں اور مبینہ ملزمان سے جس طرح تفتیش کی جانی چاہیے اس طرح سے نہیں ہو رہی۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان کی بیٹی کو انصاف نہیں مل جاتا وہ اس ملک کے ہر صاحب اقتدار شخص سے اپیل کرتے رہیں گے۔’اگر میری بیٹی کی بات سن لی گئی ہوتی تو وہ زندہ ہوتی‘مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹی نے ہلاکت سے قبل پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس کی جان کو خطرہ ہے لیکن انھوں نے اْس کی بات نہیں سْنی۔‘یاد رہے کہ مائرہ کے قتل کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ انھوں نے اپنی ہلاکت سے چند روز قبل اس کیس میں نامزد ایک ملزم کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا ہے کہ ’مائرہ کورسز کے لیے اکثر دبئی آتی جاتی تھی جہاں ایک کورس کے دوران ان کی ایک نامزد ملزم سے دوستی ہوئی۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ حال ہی میں مائرہ اپنی ایک کزن کی شادی کے لیے پاکستان آئی تھیں جہاں بعد میں ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوئیں تاہم وہ کچھ ضروری کاغذات تیار کروانے کے لیے رک گئیں اور کچھ دن بعد انھیں واپس برطانیہ آنا تھا۔محمد ذوالفقار کا مزید کہنا ہے کہ ’مائرہ اکثر دبئی سے پاکستان آتی تو اپنی نانی کے گھر ٹھہرتی تھیں، وہ اپنی یہاں کی مصروفیات کا ذکر گھر والوں سے کرتی رہتی تھیں لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئی ہیں یا ان کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہو جائے گا۔‘ماہرہ کے والد کا کہنا ہے کہ اسے دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں انھوں نے گھر والوں کو تو نہیں بتایا تاہم ایک سہیلی کو بتایا تھا کے جس نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے والدین کو آگاہ کر دیں۔’اس پر مائرہ کا جواب تھا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ میں اپنے والد کو پریشان کروں میں خود وکیل ہو اس لیے میں اس معاملے کو خود حل کر لوں گی۔‘مائرہ کے والد کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان میں سے ایک کی ماہرہ میں دلچسپی اور پسندیدگی کے بارے میں وہ لوگ آگاہ تھے۔ ان کے بقول مائرہ نے اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ ان کا دوست شادی کا خواہاں ہے جس کے بعد ماہرہ کی والدہ اس سے ملیں تاہم کہا کہ حتمی فیصلہ مائرہ کے والد کا ہو گا۔مائرہ کے والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزم کی کچھ تصاویر مائرہ کے فون میں تھیں۔ انھیں شبہ ہے کہ ان تصاویر کے حصول کے لیے ملزم نے سازش کے تحت مائرہ کو قتل کیا۔

 مائرہ کے بھائی معاذ نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھیں ’یہاں کسی پر بھروسہ نہیں کیونکہ کوئی بھی اس کیس میں تعاون نہیں کر رہا اور ایسا لگتا ہے جیسے سب جان چھڑانا چاہتے ہیں۔‘اس موقع پر مائرہ کے بھائی اشکبار ہو گئے اور کہنے لگے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بہن نہیں رہی یہ سب ایک بْرے خواب کی طرح لگ رہا ہے۔‘ان کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں ہر روز صبح اٹھتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ یہ سب حقیقت نہیں وہ مجھ سے صرف تین سال بڑی تھیں۔‘مائرہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’کسی کو بھی قتل نہیں کیا جانا چاہیے خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو جو مائرہ جیسے ہوں، وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونا چاہتی تھی اپنے لیے خود کچھ کرنا چاہتی تھی۔‘ان کا کہنا ہے کہ ماہرہ ہمیشہ فلاحی کام کرتی رہتی تھیں اور وہ ہر مہینے کسی نہ کسی فلاحی کام کے لیے عطیات دیتی رہتی تھیں۔ ان کے بقول مائرہ انتہائی خیال کرنے والی لڑکی تھیں۔ماہرہ کے بھائی معاذ محمد کا کہنا ہے کہ ان کی بہن ان سے ہر طرح کی بات شیئر کرتی تھی لیکن وہ نہیں جانتے کہ انھوں نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ اتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا کہ اس کی زندگی میں کیا ہو رہا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ اگر اسے لگتا کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے تو وہ کچھ نہ کچھ ضرور بتاتی۔ اسے لگا ہو گا کہ وہ سب سے نمٹ لے گی۔

 تفتیش کے حوالے سے مائرہ قتل کیس میں مقتولہ کی دوست اقرا نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، اقراء کا کہنا ہے کہ قتل کی رات مائرہ نے سجل اور علی نامی دوست کے ساتھ ملاقات کی اور لندن سے رانی نامی لڑکی سے کافی دیر فون پر باتیں کرتی رہی۔پولیس کے مطابق مقتولہ مائرہ کی دوست اقرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مائرہ نانی کے گھر جانا چاہتی تھی لیکن سجل کا اصرار تھا کہ وہ ڈیفنس میں ہی رہے، سجل اور ان کا مشترکہ دوست علی مائرہ کے پاس سے سحری کے وقت چلے گئے تھے.ان کے جانے کے بعد ہم دونوں کافی دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے، صبح 4 بجے میں سونے گئی تو مائرہ نے اپنا کمرہ لاک کر لیا۔اقرا نے بتایا کہ قتل کی رات لندن سے رانی نامی لڑکی مائرہ سے کافی دیر فون پر باتیں کرتی رہی۔ پولیس کے مطابق جس گھر میں واردات ہوئی وہ اقرا نے کرائے پر لیا تھا، آئی جی پولیس پنجاب نے ملزمان گرفتار نہ ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لاہور پولیس کے افسران کو دفتر بلوا کر قتل کے اصل ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود اس کیس کی نگرانی کریں گے۔پولیس ز رائع نے دعوی کیا ہے کہ مائرہ قتل کیس میں اقرا سمیت 3 افراد زیر حراست ہیں،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال اور ایس ایس پی سی آئی اے شعیب خرم جانباز نے بتایا ہے کہ اس اندھے قتل کو جلد ٹریس کر لیا جائے گا۔

٭٭٭

لندن کی لاء گریجوایٹ 

تفتیش درست ہے نہ پولیس تعاون کر رہی ہے، غمزدہ والد ذوالفقار

مزید :

ایڈیشن 1 -