بجٹ میں ٹیکس، شرح سود میں کمی کی جائے: صفدر علی بٹ 

  بجٹ میں ٹیکس، شرح سود میں کمی کی جائے: صفدر علی بٹ 

  

 لاہور(سٹی رپورٹر)موجودہ مشکل حالات میں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دی جائے۔ ایک بار ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والا عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ وہ زندگی بھر کیلئے مشکل میں پھنس ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ٹیکس قوانین کو آسان بنانے کی بجائے  انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر کے ٹیکس دہندگان کیلئے اپنے پروفائل جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے حالانکہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ہر قسم کا ذاتی ڈیٹا ٹیکس ریٹرن میں فراہم کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفائل جمع نہ کرانے والوں کو ایکٹو ٹیکس دہندگان کی لسٹ سے خارج کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے اور دیگر سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے ایف بی آر کے اعلی حکام سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر ٹیکس دہندگان کے پروفائل جمع کرانے کے فیصلہ پر نظرثانی کروائیں۔  تاجر برادری کے دیگر اہم مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ مشترکہ کوششوں سے لاہورکو ملک کے لئے ایک ماڈل سٹی کے طور پر ترقی دی جاسکے۔صفدر علی بٹ نے کہا کہ کورونا وائرس کی پابندیوں نے کاروباروں کو بہت متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے کاروباری افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ لہذا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں اور شرح سود میں کمی کرے، کاروباری افراد کو آسان اقساط میں ٹیکس، قرضے، دکانوں کا کرایہ اور یوٹیلٹی بل ادا کرنے کی سہولت فراہم کرے اور ایس ایم ایز کو سستے قرضے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کیلئے دیگر مراعات کا اعلان کرے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں مدد ملے گی اور  کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں سہولت ہو  گی جس سے معیشت کی حالت بھی بہتر ہو گی۔

مزید :

کامرس -