بجٹ میں زرعی شعبہ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، احمد جواد

  بجٹ میں زرعی شعبہ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، احمد جواد

  

اسلام آباد(اے پی پی):بجٹ میں زرعی شعبہ کے لئے جامع مراعات کے اقدامات کی ضرورت ہے، دنیا زراعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے مصدقہ بیج کے استعمال پر توجہ دے رہی ہے۔ نائب صدر پاکستان بزنس فورم و ایف پی سی سی آئی  کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت کے سابق سربراہ چوہدری احمد جواد نے کہا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں کھاد کی قیمتوں میں کٹوتی اور ٹیوب ویلز کے بجلی کے بلز میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر مداخل اور مشینری وغیرہ کیلئے جامع مراعات فراہم کرے۔ اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری احمد جواد نے کہا کہ اس وقت ہارٹیکلچر اور زراعت کے لئے جامع برآمدی پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کی خام مال کی ضروریات پوری کرنے کیلئے روئی درآمد کرنی پڑ رہی ہے اس حوالہ سے حکومت ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے جامع اقدامات کو۔یقینی بنائے تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کیحوالہسے تجاویز میں احمد جواد نے کہا کہ حکومت ہارٹیکلچر کی صنعت کو سہولت دینے کے لئے بجٹ میں پیکیج کا اعلان کرے۔

 کیونکہ اس شعبہ کی عالمی تجارت 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو فی ایکڑ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لئے نجی عوامی شراکتداری سے پاکستان میں ہائبرڈ بیج کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے بجٹ میں فنڈز مختص کرنے چاہئیں۔اس وقت دنیا بھر میں زراعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے مصدقہ بیج کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے۔ زراعت کے فروغ کیلئے زرعی شعبہ کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات کے لئے قرض کی اسکیم بھی بجٹ میں شامل کی جائے۔ اسی طرح کاشتکاری برادری کی سہولت کے لئے زرعی مشینری خریدنے کے لئے بجٹ میں 5 فیصد کے خصوصی مارک ریٹ کا اعلان کیا جائے۔ احمد جواد نے یہ بھی تجویز کیا کہ صوبائی بجٹوں میں فصلوں کی انشورنس سکیم کے تحت قدرتی آفات اور سیلاب کے نقصانات کے بارے میں سہولیات فراہم کی جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا دنیا بھر میں زراعت ایک منافع بخش کاروبار ہے اور پاکستان میں بھی زرعی شعبہ کی ترقی اور فروغ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد زراعت کا شعبہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں چلا گیا ہے لہذا صوبوں میں پائیدار ترقیاتی پالیسیز اور مہارتوں میں اضافہ کے اقدامات کے تحت زرعی شعبہ کی کارکردگی کی بڑھوتری کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نائب صدر پی بی ایف نے مزید کہا  کہ زرعی شعبہ کی ترقی سے نہ صرف مجموعی قومی پیداوارمیں نمایاں اضافہ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس سے دیہی معیشت کی ترقی سے شہروں کی جانب نقل مکانی کی شرح کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔\395

مزید :

کامرس -