اسرائیل، حماس جنگ بندی کی پاسداری کریں، سلامتی کونسل، امارات نے ثالثی کی پیشکش کر دی، یہودی پولیس کی نگرانی مسجد اقصٰی میں داخل 

  اسرائیل، حماس جنگ بندی کی پاسداری کریں، سلامتی کونسل، امارات نے ثالثی کی ...

  

 بیت المقدس،لندن، پیرس،نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرنے کیلئے ثالثی کی پیش کش کردی۔ یہ بات اتوار ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النیہان نے مصر کے صدر کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔ولی عہد نے مصر کے صدر عبدالفاتح السیسی کے ساتھ ٹیلیفون ہر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک میں سیز فائر کروانے کے لیے مصر کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔اماراتی نیوز ایجنسی وام نے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النیہان کے حوالے سے کہا کہ یو اے ای سیز فائر کو قائم رکھنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ کام کرنے، مزید کشیدگی کم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد پہلا مشترکہ بیان جاری کردیا۔سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں  فریقین سے غزہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کے اراکین نے فلسطینی شہریوں کیلیے فوری امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ امریکی مندوب کی حمایت سے جاری ہوا ہے اس سے قبل امریکا نے سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ رکوادیا تھا۔ سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے 21 مئی کو اسرائیل اورغزہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس جنگ بندی میں مصر اور دوسرے علاقائی ممالک کے اہم مصالحتی کردار کو سراہا ہے۔سلامتی کونسل نے بیان میں فلسطینیوں اور بالخصوص اہلِ غزہ کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔مصر اوردوسرے ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھیسلامتی کونسل کے ارکان  نے فلسطینی شہری آبادی خصوصاغزہ میں انسانی مدد کی فوری ضرورت پر زور دیا اور دوبارہ پائیدار تعمیر اور بحالی کیلئے مدد کے ایک مربوط،مضبوط پیکیج کی تیاری بارے سیکرٹری جنرل کے  عالمی برادری سے مطالبہ کی حمایت کی۔کونسل کے ارکان نے مکمل امن کی  فوری بحالی پر زور دیا اورایک ایسے خطے کے ویژن پر مبنی جامع امن کے حصول کی اہمیت کا اعادہ کیا جہاں دو جمہوری ریاستیں، اسرائیل اور فلسطین، محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے ساتھ امن کے ساتھ شانہ بشانہ رہیں۔دوسری طرف  عالمی برادری کی توجہ مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرنو پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے پہلے سے ہی غربت کے شکار علاقے میں تقریبا ایک ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بین الاقوامی برادری کی مدد سے تعمیرنو کا ایک پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے دو ریاستی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ گزشتہ جمعے سے مصر کی ثالثی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی جاری ہے۔دوسری طرف بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے3 ہفتوں تک روکے رکھنے کے بعد  اتوار کے روز درجنوں یہودی مذہبی افراد کو مسجد اقصی کے صحنوں میں داخلے کی اجازت دے دی۔عرب میڈیا کے مطابق اس موقع پر وہاں اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ادھر فلسطینی وزارت خارجہ نے مسجد اقصی کے صحنوں پر اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور یہودی آباد کاروں کے مسلسل دھاوں کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بحالی امن کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو روندنے کے مترادف ہے۔اس سے قبل اتوار کو فجر کے وقت اسرائیلی فورسز نے نمازیوں پر دھاوا بول کر 6 افراد کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں اسلامی اوقاف کا ایک پہرے دار اور ملازم شامل ہے۔اسی طرح اسرائیلی پولیس نے 45 برس سے کم عمر افراد کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پولیس نے مسجد کے دروازوں پر سیکورٹی اقدامات سخت کر دیے اور نمازیوں کی شناخت کی تفصیلی جانچ شروع کر دی۔ فلسطینی نیوز ایجنسی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصی کے احاطے کے اندر  فلسطینی نمازیوں سے خالی کروا لی اور وہاں خود تعینات ہو گئے تا کہ یہود آباد کاروں کا داخلہ آسان بنایا جا سکے۔۔دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے بیچ فائر بندی ابھی تک جاری ہے۔گذشتہ روز مصر کے ایک سکیورٹی وفد نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں غزہ کی پٹی میں کشیدگی میں کمی اور جنگ سے متاثرہ مقامات کی تعمیر نو کے بارے میں بات چیت کی گئی۔اس موقع پر فلسطینی صد رنے مصری وفد کو فلسطینی اراضی کی تازہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ مصری وفد اور صدر عباس کے درمیان ہونیوالی بات چیت میں غزہ کی پٹی میں مصر کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو برقرار کھنے، مقبوضہ یروشلم اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات ختم کرنے اور مصالحت کا عمل دوبارہ شروع کرنے پربھی غور کیا گیا۔صدر عباس نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں،تعمیر نو میں مدد دینے اور سیاسی ٹریک پر واپسی کی مساعی کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثنا فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں اور احتجاج کاسلسلہ جاری ہے۔ لندن میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف  ہزاروں افراد سڑکوں پہ نکل آئے اور اسرائیل سے انسانی جانوں کے ضیاع کے حساب کا مطالبہ  کیا۔ لندن میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا اس دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں 2 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔۔پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں بھی ہزاروں افراد فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔  مظاہرین نے اسرائیل کیخلاف نعرے لگائے اور فرانس سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں بھی سیکڑوں افراد نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی جارحیت  کیخلاف احتجاج کیادوسری طرف فلسطینی حکام اور اسلامی تحریک مزاحمت  حماس کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ 10سے21مئی کے درمیان غزہ کی پٹی کے علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 15کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ایک فلسطینی عہدیدار بے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں کم سے کم 2000عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔غزہ میں وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گیارہ روز کی اسرائیلی بمباری میں کم سے کم 15ہزار عمارتوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جن کی فوری مرمت کی ضرورت ہے۔ 21مئی کی رات تک اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کی۔ بمباری میں شہریوں کے گھروں، رہائشی پلازوں، تجارتی اور حکومت مراکز کو بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا۔ بمباری سے حماس کے دفاتر کو تباہ کیا گیا۔غزہ میں فائربندی کے بعد مسلمانوں کے لیے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کے حرم الشریف کہلانے والے احاطے کو کھول دیا گیا۔ یروشلم میں واقع حرم الشریف یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس مقام خیال کیا جاتا ہے جنگ بندی کے بعد فلسطینی شہری 11دن کی اسرائیلی جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیاکی رپورٹ کے  مطابق فضائی حملوں اور توپخانے کی شیلنگ سے فلسطینی علاقے میں 17ہزار گھر اور کاروبار،53سکول، چھ ہسپتال، چار مساجد تباہ ہوئیں۔11دن کی بمباری کے دوران غزہ میں پانی کی سپلائی کا50فیصد انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوا اور تقریبا آٹھ لاکھ افراد پائپ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہو گئے۔

غز

مزید :

صفحہ اول -