ہنگو پولیس کا اندھے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا دعوی

ہنگو پولیس کا اندھے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا دعوی

  

ہنگو(بیورورپورٹ) ہنگو پولیس کا اندھے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا دعوی۔ تفتیشی پولیس نے تہرے قتل کے اصل ملزمام کو بھی گرفتار کر کے عدالت سے سزائیں دلوائیں۔ ہنگو تفتیشی پولیس محدود وسائل کے باوجود اہم مقدمات کی جدید خطوط پر تحقیقات کر کے ملزمان کو نہ صرف گرفتار کر رہی ہے بلکہ مضبوط تحقیقات کے بدولت انہیں سزائیں بھی دلوا رہی ہیں۔ ضلع کرم سے پنجاب منشیات کی بڑی کھیپ سمگل کرنے کے کیس سمیت درجنوں مقدمات میں تفتیش کا عمل انتہائی مہارت اور سرگرمی سے جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایس پی انویسٹی گیشن ارشد محمود خان  نے اپنے دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انسپکٹر انوسٹی گیشن شبراز خان، انسپکٹر دوست محمود اور دیگر تفتیشی افسران بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن ارشد محمود خان نے کہا کہ پچھلے 3 ماہ کے دوران ہنگو کی تفتیشی پولیس نے 1 درجن سے زائد قتل، اقدام قتل، اغواء، منشیات کی سمگلنگ، چوری ڈکیتی کے مقدمات میں تفتیشی عمل کو مکمل کیا اور ملزمان کی گرفتاری کر کے مضبوط پراسیکیوشن کے زریعے ملزمان کو عدلیہ کے زریعے سزائیں دلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو ایک پہاڑ سے ایک شخص کی قتل شدہ لاش ملی اس اندھے قتل کی واردات کے اصل ملزمان تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج تھا اس مقصد کے لئے انسپکٹر شبراز خان کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے دن رات کام کیا اور 2 اصل ملزمان کو ہر زاویے سے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان سے آلہ قتل بھی برآمد کیا اور ملزمان نے بھی اقبال جرم کر لیا۔  اسی طرح 3 خواتین کے قتل کے ملزمان بھی نہ صرف گرفتار کئے گئے بلکہ انہیں بھاری سزائیں بھی دلوائی۔ ایس پی انوسٹی گیشن نے کہا کہ 1 درجن کے قریب مقدمات کی تفتیشن کا عمل خصوصی ٹیموں کے زریعے جاری ہے اور ان مقدمات میں کرم سے پنجاب بہت بڑی مقدار میں منشیات کی سمگلنگ، جعلی کرنسی کے لین دین کا کیس اور دیگر مقدمات شامل ہیں۔ ارشد محمود خان نے کہا کہ ضلع ہنگو کی پولیس اور تفتیشی پولیس کے درمیان بہترین کوارڈنیشن کی بدولت مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا رہا ہے اور تفتیش کے عمل میں بھی شفافیت اور باریک بینی نظر آرہی ہے، یہ امر تفتیشی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت کا عکاس ہے۔ اس موقع ہر اندھے قتل کے ملزمام کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -