ناقص پالیسیاں،تحریک انصاف کے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی

ناقص پالیسیاں،تحریک انصاف کے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی

  

 ٹانک(نمائندہ خصوصی)ٹانک: وفاقی وزیر علی امین گنڈہ کی ناقض پالیسیوں کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی، کارکنوں کا دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے، تفصیلات کیمطابق گزشتہ ایک عرصہ سے وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور آور پاکستان تحریک انصاف ٹانک کے ضلعی و تحصیل عہدیداروں اور کارکنوں کے مابین جاری رسہ کشی کے بعد سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کا اچانک ضلع ٹانک کا غیر معمولی دورہ کسی خطرے سے کم نہیں کئی مہینوں بعد فاتح خوانیاں شاید بہانہ ہیں ٹانک کے علاقہ جٹاتر  میں سیاسی لحاظ سے فیصل کریم کنڈی کی خدمات  کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اگر فیصل کریم کنڈی اور علی امین گنڈہ پور کا سیاسی خدمات کے حوالے سے موازنہ کیا جائے تو یقینا فیصل کریم کنڈی کا پلڑا بھاری نظر آئے گا کیونکہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان کے ساتھ ساتھ ٹانک میں بھی کئی ایسے بنیادی سہولتیں مہیا کیں جس سے عوام آج بھی مستفید ہورھے ہیں جس میں سب سے بڑا پراجیکٹ وارن کنال جو جٹاتر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے علاقہ جٹاتر کی ہزاروں ایکڑ زمین اس پراجیکٹ سے سیراب ہوتی ھے اس کے علاوہ پاسپورٹ آفس جسے ٹانک کے عوام کے ساتھ قبائلی عوام کو بھی بہت سہولت میسر ھے تعلیمی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو گرائمر سکول کا قیام اور اس میں بے روز گار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کسی نعمت سے کم نہیں  جبکہ دیگر محکمہ جات میں نوجوانوں کو روزگار دینا بھی شامل ہیں حالانکہ اس وقت جے یو آئی بھی پیپلز پارٹی سے مرکز میں اتحاد میں شامل تھی لیکن فیصل کریم کنڈی نے اپنے سیاسی بصیرت کے ذریعے اپنے ورکرز کے حقوق کا بہترین انداز میں دفاع کیا اور انہیں جائز حقوق دلوائے اب آتے ہیں دوسری طرف 2013 ء میں تحریک انصاف کی حکومت آتی ھے اور سردار علی امین گنڈہ پور صوبائی وزیر بنتے ہیں لیکن صرف اپنے حلقے تک محمود ہوتے ہیں ضمنی انتخابات میں فیصل کریم کنڈی سیاسی اختلافات کے باوجود ٹانک میں پی ٹی آئی امیدوار داور کنڈی کی حمایت کرتے ہیں اور پی ٹی آئی ٹانک کی قومی اسمبلی کی سیٹ آسانی سے جیت جاتی ہے جو مولانا صاحب سے خالی ہوئی تھی لیکن علی امین خان کی ناقص سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی  ٹانک کے آئی ایم این اے سے اختلافات ہوجاتے ہیں اور یوں جے یو آئی کو ٹانک میں خوب لوٹ کسوٹ کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جس سے پی ٹی آئی ایم این اے دلبرداشتہ ہوکر پارٹی چھوڑ دیتا ھے یقینا آج بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ھے پارٹی کی مقامی قیادت کو سائیڈ لائن لگانے کی کوشش جاری ھے وفاقی وزیر علی امین خان نے جے یو آئی  ایم پی اے سے اپنے مذموم  مقاصد کی تعمیل کیلئے گٹھ جوڑ کرکے باقاعدہ ایک منشی کی تقرری کردی ھے اور یوں پی ٹی آئی ٹانک کے تنظیموں کے مقابل کھڑا کردیا ھے لیکن یہاں وفاقی وزیر سے ایک غلطی ہوئی ھے کہ اپنا منشی مقرر کرتے وقت یہ بھی بھول گیا ھے کہ ان کے منشی کا والد بھی ٹی ایم او ڈیرہ عمر کنڈی کا منشی ھے اور ان کے ممریز جمال میں واقع کھیتوں اور دیگر امور کی دیکھ بھال کرتے ہیں اسلئے علاقہ جٹاتر میں شدید مزاحمت کا سامنا ھے کیونکہ موجودہ منشی کی بیک گراؤنڈ انتہائی کمزور ھے اور ضلع بھر کے عمائدین کے ساتھ ساتھ خاص کر عمائدین جٹاتر ان کے ساتھ چلنے کیلئے تیار نہیں ھے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -