تین بچوں کی ہلاکت، والدین کو بھی شامل تفتیش کرنیکا فیصلہ

تین بچوں کی ہلاکت، والدین کو بھی شامل تفتیش کرنیکا فیصلہ

  

 ملتان (  خصو صی رپورٹر  )پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی غفلت کے (بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

باعث  عطائی   ڈاکٹر کی رجسٹریشن کے بعد پلٹ کر نہ دیکھا،ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی دوائی پینے کے بعد 3 بچے دم توڑ گئے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی مذمت آواز اٹھانے پر سی ای او ہیلتھ کا نوٹس تفصیل کے مطابق ملتان کے علاقے مظفر آباد کے رہائشی خادم حسین نے بچوں کی طبعیت خراب ہونے پر علاقے میں قائم  کلینک سے دوائی لی جس کے پلاتے ہی بچوں کی حالت بگڑ گئی جس کے بعد  7 سالہ طاہرہ اور 9 سالہ دانش نے دم توڑ دیا جبکہ 5 سالہ منیب کو نشتر ہسپتال منتقل کر کے علاج شروع کر دیا گیا بعدازاں معاملے کا علم ہونے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کی غفلت پر شدید احتجاج اور مذمت ریکارڈ  ملتان شہر میں عطائی شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں اور پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کا ریجنل دفتر جو ویسے ہی غیر فعال ہے بالکل خاموش ہے وزیر اعلی پنجاب نے معاملے کا نوٹس  لیتے ہو ئے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف آپریشن شروع کر نے کی ہدا یت جبکہ محکمہ صحت کی غیر معیاری ادویات اور عطائی ڈاکٹروں کے خلاف ڈرگ کنٹرولرز اور انسپکٹرز کی جانب سے ہمہ وقت کاروائی جاری رہتی ہے آج سے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف گرینڈ کریک ڈاون کا آغاز کیا جارہا ہے۔  وزیراعلی عثمان بزدار کا افسوسناک واقعہ کی جامع انکوائری کاحکم دیا تھا انہوں نے کہا کہ غیر معیاری دوائی کے ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے  غیر معیاری دوائی کے ذمہ دار کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی ضلعی انتظامیہ کے افسران کریک ڈاون کی نگرانی کریں گے ضلع ملتان کو عطائی ڈاکٹروں سے پاک کردیا جائے گا۔ملتان کے علاقے حامدپور کنورہ میں اتائی نے ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا،تین بچوں کی ہلاکت پر علاقے کی فضا آج تیسرے روز بھی سوگوار رہی  ایس پی کینٹ نے کہا ہے کہ،بچوں کو مبینہ طور پر زہر دیاگیا یا غلط دوائی،پولیس کو کیمیکل ایگزامنرکی رپورٹ کا انتظار جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ،کیا اتائی سے لی گئی دوائی ہی بچوں کو دی گئی،تحقیقات جاری، جاں بحق بچوں کے والدین میں اکثر جھگڑا رہتا تھاجاں بحق بچوں کی والدہ دو ماہ قبل گھر سے ناراض ہو کر چلی گئی تھی بچوں کی والدہ ایک ماہ قبل ہی گھر واپس آئی دوائی کے سیمپلز کیمیکل ایگزامینیشن کے لئے بھجوائے گئے ہیں دوائی کی رپورٹ آنے پر حقائق واضح ہوسکتے ہیں  بچوں کو دی جانے والی دوائی میں زہر موجود ہونے کا خدشہ ہے۔ والد خادم حسین سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے گرفتار اتائی سلیم سے بھی تفتیش جاری ہے۔ جلد کیس کے اصل حقائق سامنے آجائیں گے۔ مقدمے کے مدعی اور بچوں کے والد خادم حسین سے پولیس نے گزشتہ روز سوال جواب کئے یاد رہے کہ کیس میں گرفتار ملزم سے پولیس کی تفتیش پہلے سے جاری ہے۔پولیس کو تینوبچوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آج(سوموار) موصول ہوگی۔پولیس ذرائع کے مطابق بچوں کو مبینہ طور پر زہر دیاگیا یا غلط دوائی کے نتیجے میں فوت ہوئے دونوں زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔)تھانہ مظفر آباد کے حامد پور کنورہ میں تین بچوں کی ہلاکت کا معاملہ،واقعہ کا  دوسرا مقدمہ تھانہ مظفرآباد میں درج کرلیا گیا پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جس سے تفتیش جاری ہے  مقدمہ نمبر770/21 بچوں کے والد خادم حسین کی درخواست پر درج ہوا مقدمہ میں 302، 324، 34 کی دفعات شامل کی گئی ہیں خادم حسین کے مطابق تینوں بچے بیمار تھے ڈاکٹر سلیم سے بچوں کی کھانسی کی دوائی لی صبح ساڑھے آٹھ بجے خالی پیٹ بچوں کو دوائی دی گئی دوائی کھانے کے بعد بچوں کی حالت غیرہوگئی۔ریسکیو 1122 کے زریعے بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دانش،منین اور طاہرہ فوت ہوگئئے پو لیس تھانہ مظفر آبادکے مطابق مذکورہ معاملے پر محکمہ ہیلتھ کی جانب سے بھی مقدمہ کی درخواست موصول ہوچکی ہے محکمہ ہیلتھ نے غیرقانونی کلینک اور جعلی ادویات دینے کی درخواست دی ہے گرفتار اتائی ڈاکٹر سلیم کے خلاف دوسرا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

فیصلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -