اسرائیل، حماس جنگ بندی کی پاسداری کریں: سلامتی کونسل، صہیونی پولیس کی زیر نگرانی یہودی مسجد اقصٰی میں داخل 

اسرائیل، حماس جنگ بندی کی پاسداری کریں: سلامتی کونسل، صہیونی پولیس کی زیر ...

  

 بیت المقدس،لندن، پیرس نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد پہلا مشترکہ بیان جاری کردیا۔سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں  فریقین سے غزہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کے اراکین نے فلسطینی شہریوں کیلیے فوری امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ امریکی مندوب کی حمایت سے جاری ہوا ہے اس سے قبل امریکا نے سلامتی کونسل کا مشترکہ اعلامیہ رکوادیا تھا۔ سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے 21 مئی کو اسرائیل اورغزہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس جنگ بندی میں مصر اور دوسرے علاقائی ممالک کے اہم مصالحتی کردار کو سراہا ہے۔سلامتی کونسل نے بیان میں فلسطینیوں اور بالخصوص اہلِ غزہ کو انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔مصر اوردوسرے ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھیسلامتی کونسل کے ارکان  نے فلسطینی شہری آبادی خصوصاغزہ میں انسانی مدد کی فوری ضرورت پر زور دیا اور دوبارہ پائیدار تعمیر اور بحالی کیلئے مدد کے ایک مربوط،مضبوط پیکیج کی تیاری بارے سیکرٹری جنرل کے  عالمی برادری سے مطالبہ کی حمایت کی۔کونسل کے ارکان نے مکمل امن کی  فوری بحالی پر زور دیا اورایک ایسے خطے کے ویژن پر مبنی جامع امن کے حصول کی اہمیت کا اعادہ کیا جہاں دو جمہوری ریاستیں، اسرائیل اور فلسطین، محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے ساتھ امن کے ساتھ شانہ بشانہ رہیں۔دوسری طرف  عالمی برادری کی توجہ مستقل جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرنو پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے پہلے سے ہی غربت کے شکار علاقے میں تقریبا ایک ہزار عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بین الاقوامی برادری کی مدد سے تعمیرنو کا ایک پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے دو ریاستی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ گزشتہ جمعے سے مصر کی ثالثی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی جاری ہے۔دوسری طرف بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے3 ہفتوں تک روکے رکھنے کے بعد  اتوار کے روز درجنوں یہودی مذہبی افراد کو مسجد اقصی کے صحنوں میں داخلے کی اجازت دے دی۔عرب میڈیا کے مطابق اس موقع پر وہاں اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ادھر فلسطینی وزارت خارجہ نے مسجد اقصی کے صحنوں پر اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور یہودی آباد کاروں کے مسلسل دھاوں کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بحالی امن کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو روندنے کے مترادف ہے۔اس سے قبل اتوار کو فجر کے وقت اسرائیلی فورسز نے نمازیوں پر دھاوا بول کر 6 افراد کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں اسلامی اوقاف کا ایک پہرے دار اور ملازم شامل ہے۔اسی طرح اسرائیلی پولیس نے 45 برس سے کم عمر افراد کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پولیس نے مسجد کے دروازوں پر سیکورٹی اقدامات سخت کر دیے اور نمازیوں کی شناخت کی تفصیلی جانچ شروع کر دی۔ فلسطینی نیوز ایجنسی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصی کے احاطے کے اندر  فلسطینی نمازیوں سے خالی کروا لی اور وہاں خود تعینات ہو گئے تا کہ یہود آباد کاروں کا داخلہ آسان بنایا جا سکے۔۔دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے بیچ فائر بندی ابھی تک جاری ہے۔گذشتہ روز مصر کے ایک سیکیورٹی وفد نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں غزہ کی پٹی میں کشیدگی میں کمی اور جنگ سے متاثرہ مقامات کی تعمیر نو کے بارے میں بات چیت کی گئی۔اس موقع پر فلسطینی صدرنے مصری وفد کو فلسطینی اراضی کی تازہ صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ مصری وفد اور صدر عباس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں غزہ کی پٹی میں مصر کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کو برقرار کھنے، مقبوضہ یروشلم اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات ختم کرنے اور مصالحت کا عمل دوبارہ شروع کرنے پربھی غور کیا گیا۔صدر عباس نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں،تعمیر نو میں مدد دینے اور سیاسی ٹریک پر واپسی کی مساعی کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثنا فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں اور احتجاج کاسلسلہ جاری ہے۔ لندن میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف  ہزاروں افراد سڑکوں پہ نکل آئے اور اسرائیل سے انسانی جانوں کے ضیاع کے حساب کا مطالبہ  کیا۔ لندن میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا اس دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں 2 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔۔پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں بھی ہزاروں افراد فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔  مظاہرین نے اسرائیل کیخلاف نعرے لگائے اور فرانس سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں بھی سیکڑوں افراد نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی جارحیت  کیخلاف احتجاج کیادوسری طرف فلسطینی حکام اور اسلامی تحریک مزاحمت  حماس کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ 10سے21مئی کے درمیان غزہ کی پٹی کے علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں 15کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ایک فلسطینی عہدیدار بے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں کم سے کم 2000عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔غزہ میں وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گیارہ روز کی اسرائیلی بمباری میں کم سے کم 15ہزار عمارتوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جن کی فوری مرمت کی ضرورت ہے۔سے 21مئی کی رات تک اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کی۔ بمباری میں شہریوں کے گھروں، رہائشی پلازوں، تجارتی اور حکومت مراکز کو بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا۔ بمباری سے حماس کے دفاتر کو تباہ کیا گیا۔

فلسطین

مزید :

صفحہ اول -