لوڈ شیڈنگ کا عذاب کیوں 

 لوڈ شیڈنگ کا عذاب کیوں 
 لوڈ شیڈنگ کا عذاب کیوں 

  

 لوڈ شیڈنگ کا عذاب جاری و ساری ہے۔شاید یہ اس سال ختم نہ ہو سکے۔ ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہم نے آتے ہی لوڈشیڈنگ ختم کر دی ہے۔ان کے محلوں میں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہی نہیں، انہیں زمینی حقائق کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر کھاتے پیتے شخص نے لوڈ شیڈنگ سے بچاؤ کے لئے متبادل انتظام کئے ہوئے ہیں۔ جو عوام ہیں ایلیٹ نہیں۔ وہ مہنگے متبادل انتظام کیسے کریں۔ وہ موجودہ حالات  بھگت رہے ہیں۔ان سے بجلی کھیلتی ہے۔ وہ اپنے لئے کچھ کمانے کو جو بھی کرنا چا ہیں بجلی کرنے ہی نہیں دیتی۔ بجلی جاتی ہے تو لوگ پسینے سے بد حال ہو جاتے ہیں۔ بجلی آتی ہے توکام شروع کرتے ہیں۔ابھی پسینہ خشک نہیں ہوتا تو چلی جاتی ہے۔یہ کھیل ہی تو ہے، ان کے ساتھ ان کے مقدر کے ساتھ۔بہت سی چھوٹے چھوٹے کاموں سے وابستہ لوگ عید کے دنوں میں اتنا کما لیتے تھے کہ ان کا سال کا کچھ حصہ اس مہینے میں ہونے والی کمائی کی وجہ سے  آسودہ ہو جاتاتھا۔ امسال بجلی نے ان کی یہ خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔قصور بجلی کا ہوتا ہے کہ وقت پر کوئی کام مکمل نہیں ہوتے، وہ وعدہ پورا نہیں کرسکتے مگراپنی بے بسی اور مجبوری میں، جن کے کام وقت پر نہیں ہوتے،ان سے بہت کچھ سنتے ہیں۔

حکومت کے مطابق پاکستان میں سردیوں میں تقریباً (12)بارہ ہزارمیگا واٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ گرمیوں میں اس کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ہمیں اس وقت تقریباً چھبیسس (26)  ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں ڈیموں میں کم پانی ہونے کے سبب بجلی نسبتاً کم پیدا ہوتی ہے مگر اس کے باوجود سردیوں میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی مگر گرمیاں لوڈ شیڈنگ کا عذاب لے کر آتی ہیں کیونکہ گرمیوں میں ہماری زیادہ سے زیادہ پروڈکشن اکیس ہزار پانچ سو میگا واٹ ہوتی ہے جو ہم مالی مجبوریوں کے سبب بڑھا  نہیں کر سکتے اور پانچ ہزار کا شارٹ فال رہتا ہے۔ہم جو بجلی بناتے ہیں اس میں 9873 میگا واٹ دریاؤں پر بند باندھ کرحاصل ہوتی ہے یہ ہائیڈرو بجلی کل کھپت کا 29 فیصد ہے۔بجلی پیدا کرنے والے ان ڈیموں میں 1974 میں بننے والے تربیلا ڈیم کی کیپسٹی 4888 میگا واٹ، غازی بروتھا ڈیم کی کیپسٹی 1450 میگا واٹ، منگلا ڈیم کی کیپسٹی 1150 میگا واٹ اور نیلم جہلم کی کیپسٹی 969   میگا واٹ ہے اور یہ بڑے ڈیم ہیں ان کے علاوہ 150 کم  استعداد والے ڈیم بھی بجلی مہیا کر رہے ہیں۔پانی سے تیار کردہ یہ بجلی مفت ہوتی ہے مگر سپلائی کے حوالے سے یہ ہمیں ایک روپے فی یونٹ سے بھی کم کاسٹ کرتی ہے۔

 ہمارے نیوکلئر پلانٹ2490 میگا واٹ بجلی دیتے ہیں جو کل کا صرف 7 فیصد ہے۔پاکستان میں اس وقت چائنہ کی مدد سے لگائے گئے کل چھ نیوکلیر پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ ان میں چار چھوٹے پلانٹ چشمہ کے مقام پر پنجاب میں اور دو بڑے پلانٹ کراچی میں ہیں جنہوں نے حال ہی میں بجلی بنانا شروع کی ہے۔ چونکہ ان پر واجب الادا قرضے ابھی جاری ہیں اس لئے اس پلانٹ سے بنائی ہوئی بجلی پر اس وقت تقریباًآٹھ دس روپے فی یونٹ خرچ آتا ہے۔  امپورٹ کئے گئے کوئلے سے ہم 3960 میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ہیں جو کل کا ۱۱ فیصد ہے۔اس پر فی یونٹ تیس روپے خرچ آتا ہے۔مقامی کوئلے سے تیار شدہ بجلی 660 میگا واٹ ہے جو کل کا فقط 2  فیصد ہے۔اس پر فی یونٹ 20 روپے سے زیادہ خرچ آتا ہے۔ گیس سے بننے والی بجلی 3427 میگا واٹ ہے جو کل کا 10 فیصد ہے۔گیس کا ریٹ 25  ڈالر فی  MMBTU  ہوتا ہے اوراس بجلی پر ہماری لاگت 34 روپے فی یونٹ آتی ہے۔فرنس آئل سے 6507  میگاواٹ بجلی مہیا ہوتی ہے جو کل کا 19 فیصد ہے۔اس سے حاصل ہونے والی بجلی  پر ہمارا خرچ 40روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے LNگیس  سے ہم 5838 میگا واٹ بجلی تیار کرتے ہیں جو کل کا 17  فیصد ہے۔یہ گیس کروڈ آئل کی قیمت اگر 100 ڈالر ہو تو ہمیں اس سے 12.4 فیصدکم قیمت پر ملتی ہے۔ 2017 میں حکومت پاکستان نے قطر کی حکومت سے ایک معاہدہ کیا جس کے مطابق اس کے آٹھ کارگو حاصل کئے گئے۔ اس وقت مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت کم تھی مگر یہ معاہدہ13 ڈالر میں کیا گیا۔یہ معاہدہ اس سال دسمبر میں ختم ہو جائے گا اور بقیہ آخری چار کارگو بھی ہمیں مل جائیں گے۔ 2017 میں جب یہ معاہدہ ہوا،اس وقت بہت  شور مچا کہ یہ ایک مہنگاسودا  کیا گیا ہے مگر حکومت نے یہ کہہ کر کہ پانچ سالہ معاہدہ اس سے کم قیمت پر نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ہماری ضروررت کے مطابق ہمیں دس کارگو درکار تھے۔ چنانچہ دو کارگو اوپن مارکیٹ سے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کووڈ کے دورا ن کروڈ آئل کی قیمت دو سے تین ڈالر پر رہی مگر معاہدے کے مطابق ہمیں تیرہ ڈالے ہی میں کارگو لینا پڑا۔ اس طرح ہمیں خاصہ نقصان ہوا۔ مگر آج عام مارکیٹ میں اس کارگو کی قیمت بڑھ کر چالیس ڈالر سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ اتنی مہنگی گیس خرید سکیں۔کروڈ آئل کی یہ بھاری قیمت بھی بجلی کی فراہمی میں ایک رکاوٹ ہے۔ 

 سولر بجلی کا حصول فقط 400  میگا واٹ ہے جو کل پیداوار کا ایک فیصد ہے۔ ہوا سے ہم 1086 میگا واٹ بجلی حاصل کرتے ہیں جو کل کا 3 فیصد ہے۔ابتدائی مشینری لگانے کے بعد عملاً ان دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی پرکچھ خرچ نہیں آتا اور یہ مفت ہوتی ہے لیکن تھوڑی بہت دیکھ بھال کے حوالے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ا س پر ایک روپے فی یونٹ خرچ آتاہے۔شوگر پلانٹس میں گنے کے پھوک، جسے بیگاس کہتے ہیں، سے حاصل ہونے والی بجلی 259 میگا واٹ ہے جو کل کا اعشاریہ 65) (.چھ پانچ فیصد ہے۔یہ بجلی مقامی طور پر اسی علاقے میں استعمال ہوتی ہے اور بہت سستی ہوتی ہے۔

اس وقت جو لوڈ شیڈنگ ہے اس کی وجہ بجلی کا پانچ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے۔جو کسی طرح پورا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ابھی دریاؤں میں پانی کم ہے۔ گو اس سال گرمی جلد آنے کے سبب گلیشیر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں مگر دریاؤں میں پانی پہنچنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے۔ RLNG موقع پر مزید خریدنے کی پوزیشن میں ہماری حکومت نہیں کیونکہ وہ بہت مہنگی ہے۔ہمارے بجلی بنانے والے جنریٹر باقاعدہ مرمت نہیں ہوئے۔ ان کی مینٹیننس وقت اور سرمایہ مانگتی ہے۔اس لئے حکومت کسی کی بھی ہو، لوڈ شیڈنگ جاری و ساری رہے گی اور ہمیں اس سال ہر قیمت پر اسی عذاب کے ساتھ زندگی گزارنا ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -