ارشد شریف کا ابصار عالم سے متعلق حیران کن بیان

ارشد شریف کا ابصار عالم سے متعلق حیران کن بیان
ارشد شریف کا ابصار عالم سے متعلق حیران کن بیان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی ارشد شریف نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’گذشتہ 75 سالوں سے ایک مائنڈ سیٹ کوارڈینیٹڈ کوششوں سے صحافیوں کی زبان بندی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘انہوں نے کہا ’ماضی میں ابصار عالم اور دیگر صحافیوں کے خلاف بھی اسی مائنڈ سیٹ نے مقدمات درج کروائے۔‘

ارشد شریف کا کہنا تھا کہ ’ایف آئی اے نے جب ان کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے انہیں فون کیا اور کہا کہ ان مقدمات سے ان کی جماعت اور حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ٹیلی فون پر دھمکیاں مل رہی ہیں کہ تم ملک بھر میں مقدمات کے سلسلے میں عدالتوں میں پیشیاں بھگتو گے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب تم بلوچستان کے علاقے پشین وغیرہ میں پیشی بھگتنے کے لیے جاؤ گے تو تمیں راستے میں سے ہی اغوا کر لیا جائے گا۔‘اے آر وائی کے نیوز اینکر ارشد شریف نے صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’صحافی تنظیمیں اپنے باہمی احتلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کے معاملے پر اکٹھے ہیں اور وہ ان صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ جب صحافی ابصار عالم پر حملہ ہوا تھا تو ارشد شریف نے ان پر حملے کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو مسلم لیگ ن کے کارکن اور سابق چئیرمین پیمرا پر مبینہ حملے کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ کیا میڈیکو قانونی طور پر انجام دیا گیا تھا؟ انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا ان کے جسم سے کوئی گولی برآمد ہوئی؟ اندراج کے زخم کا سائز کیا ہے؟ اگر گولی جسم سے باہر نکلے تو باہر نکلنے والے زخم کا سائز کیا ہے؟ اور گولی لگنے سے ان کے کسی عضو کو نقصان پہنچا ہے؟

مزید :

قومی -