رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ لیکن دراصل حکومت کی طرف سے کتنا غیرملکی قرض لیا گیا؟ پاکستانی حیران پریشان 

رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ لیکن دراصل حکومت کی طرف سے کتنا غیرملکی قرض لیا ...
رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ لیکن دراصل حکومت کی طرف سے کتنا غیرملکی قرض لیا گیا؟ پاکستانی حیران پریشان 

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران پاکستان نے ساڑھے 15ارب ڈالر کا غیرملکی قرض لیا۔ ڈیلی ڈان کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے اسی عرصے میں 13ارب 3کروڑ ڈالر قرض لیا تھا جو رواں سال کی نسبت 70فیصد کم تھا۔ 

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے غیرملکی قرضوں کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، حکومت پہلے 10ماہ میں اس کا ساڑھے 92فیصد سے زیادہ قرض لے چکی ہے اور اس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا وہ مہنگا ترین غیرملکی قرض شامل نہیں ہے جو نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی صورت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے لیا گیا۔ 

اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے لیے گئے 1ارب ڈالر بھی ان اعدادوشمار سے الگ ہیں جو رواں سال فروری میں پاکستان کو ملے۔ ان دونوں قرضوں کے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستانی کی طرف سے الگ سے بتایا گیا ہے۔ قرضے میں اس اضافے کے ساتھ 2018ءسے رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ تک تحریک انصاف کی حکومت نے مجموعی طور پر 51ارب30کروڑ ڈالر قرض لیا۔ اگر اسی عرصے میں آئی ایم ایف سے لیے گئے ساڑھے 4ارب ڈالر بھی شامل کریں تو مجموعی قرض 55ارب 1کروڑ 30لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ 

ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین سال میں غیرملکی قرضوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2018-19ءمیں حکومت نے 10ارب 59کروڑ غیرملکی قرض لیا۔ مالی سال 2019-20ءمیں 10ارب 66کروڑ 20لاکھ ڈالر اور مالی سال 2020-21ءمیں 14ارب 28کروڑ ڈالر قرض لیا گیا۔ اسی طرح رواں سال کے پہلے 10ماہ میں بھی اب تک ریکارڈ قرض لیا جا چکا ہے۔ 

مزید :

بزنس -