پاکستان میں اقلیتوں کیلئے مخصوص آدھی آسامیاں خالی، تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان میں اقلیتوں کیلئے مخصوص آدھی آسامیاں خالی، تہلکہ خیز انکشاف
پاکستان میں اقلیتوں کیلئے مخصوص آدھی آسامیاں خالی، تہلکہ خیز انکشاف

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ ملک میں اقلیتوں کے لیے مخصوص آسامیوں میں سے آدھی سے زیادہ خالی پڑی ہیں اور80فیصد غیرمسلم ملازمین کو کم ترین اجرت والی ملازمتوں پر رکھا گیا ہے۔ ڈیلی ڈان کے مطابق یورپی یونین کی معاونت سے قومی کمیشن کی تیار کردہ یہ رپورٹ ”Unequal Citizens: Ending Systemic Discrimination against Minorities“ کے نام سے جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیرمسلموں کو دی جانے والی ملازمتوں میں سے بیشتر بہت پرخطر ہوتی ہیں اور ان ملازمین کو مناسب حفاظتی سازوسامان بھی مہیا نہیں کیا جاتا۔ انہیں روزگار کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی ہے اور ڈیوٹی زخمی یا ہلاک ہونے والوں اور ان کے لواحقین کو انتہائی کم زرتلافی ادا کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیوریج کے نظام میں ملازمت کرنے والے غیرمسلم پاکستانیوں کے متعلق آئے روز اندوہناک کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ یہ لوگ جان لیو ا مین ہولز میں اتر کر کام کرتے ہیں اور گاہے ان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کام کی وجہ سے انہیں سماجی منافرت کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔ لوگ ان سے اچھوتوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

کمیشن کی طرف سے اپنی رپورٹ میں کئی طرح کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سیوریج کے کام میں جہاں جہاں زخمی ہونے یا جان جانے کا اندیشہ ہو وہاں ملازمین کی بجائے مشینوں کو بروئے کار لایا جائے۔ اس کے علاوہ ان غیرمسلم ملازمین کو سوشل سکیورٹی اور ہیلتھ کیئر جیسی سہولتیں دی جائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمتوں کے کوٹہ میں اقلیتوں کی تفریق کاخاتمہ کیا جانا چاہیے۔کمیشن کی رپورٹ جاری کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ”پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین ترین مسئلہ ہے، جسے فوری طورپر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ “

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -