لارڈ کلائیو۔۔۔۔۔(1765ءسے 1767ءتک)

لارڈ کلائیو۔۔۔۔۔(1765ءسے 1767ءتک)
لارڈ کلائیو۔۔۔۔۔(1765ءسے 1767ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 میر قاسم سے جنگ اور پٹنہ کے قتل کی خبر جب انگلینڈ میں پہنچی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے پھر کلائیو سے ہندوستان جانے کو کہا، شاہ انگلینڈ نے اسے لارڈ کاخطاب دے دیا تھا۔ اس دفعہ جو کلائیو آیا تو بنگال کا گورنر اور کمانڈر انچیف ہو کر آیا اور اس قسم کے غیر محدود اختیارات اپنے ساتھ لایا کہ جو چاہتا تھا کر سکتا تھا۔ اس زمانے میں انگلینڈ سے ہند تک ایک سال کا سفر تھا۔ چنانچہ جس وقت لارڈ کلائیو یہاں آیا لڑائی کاخاتمہ ہو چکا تھا۔

شاہ عالم کلائیو کو دیوانی بخشتے ہیں

 یہ الہ آباد گیا شاہ عالم اور شجاع الدولہ یہاں انگریزوں کے کیمپ میں موجود تھے اور جو تجویز پیش کی جائے اسکے منظور کرنے کو تیار تھے۔ اس وقت جو صلح عمل میں آئی صلح نامہ الہ آباد کے نام سے موسوم ہے۔ لارڈ کلائیو نے شجاع الدولہ کو اس کا ملک اودھ بدیں شرط واپس دے دیا کہ وہ آخری جنگ کے تمام اخراجات ادا کرے۔ شاہ عالم کو گنگا و جمنا کے بیچ کا دو آبہ دیا۔ بہار اور بنگال جو میر قاسم کی قلمرو میں تھا۔ کمپنی کے لیے رہنے دیا لیکن اس کے عوض شاہ عالم کو بحیثیت شہنشاہ 25 لاکھ روپیہ سالانہ ادا کرنا منظور کیا۔ اس کے صلے میں شاہ عالم نے کمپنی کو بہار، بنگال اور اڑیسہ کی دیوانی یعنی محصول لینے کا حق عطا کیا۔ اڑیسہ اس وقت مرہٹوں کے قبضہ میں تھا اور بہت عرصے تک انگریزوں نے ان سے یہ صوبہ نہ لیا۔

 میر جعفر اس سے کچھ ہی دن پہلے مر چکا تھا۔ اس کا ایک بیٹا نجم الدولہ تھا۔ کلائیو نے کمپنی کے ماتحت اس کو بنگال اور بہار کا نواب مقرر کیا۔ شرط یہ تھی کہ متعدد مقامی افسروں کی مدد سے ان صوبوں میں حکومت کرے اور جو محصول جمع کرے انگریزوں کو دیدے۔

برٹش انڈیا کلائیو کے بعد

 ان تمام باتوں کے بعد لارڈ کلائیو نے جنگی ملکی صیغوں میں اصلاح کی۔ کمپنی کے ملازم جو اپنا اپنا جدا لین دین، ذاتی بیوپار کرتے تھے اس کو بھی بند کر دیا اور حکم دیا کہ کمپنی کا کوئی ملازم اہل ہند سے نذرانہ نہ لے۔ البتہ اس نے ان کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کیا تاکہ وہ بغیر تجارت کرنے کے آرام سے گزر کر سکیں۔ سپاہ کو مدت سے دوہری تنخواہ ملتی تھی اور یہ ڈبل بھتہ کہلاتا تھا۔ اس نے یہ بھی بند کر دیا۔ اس سبب سے فوج کا خرچ بہت کم ہو گیا۔

 جب کلائیو ان تمام کام سے فارغ ہوا تو انگلینڈ واپس چلا گیا۔ 1744ءمیں ایک غریب مفلس محرر کی حیثیت سے ہند میں آیا تھا اور فرانسیسیوں کی طاقت کو خاک میں ملا کر کپتان کلائیو بن کر انگلینڈ گیا تھا۔ 1756ءمیں کرنیل کلائیو ہو کر دوبارہ ہند میں آیا اور پلاسی کی فتح کے بعد بنگال اور مدراس کے احاطوں کی بنیاد ڈال کر وطن واپس گیا۔ تیسری بار 1760ءمیں لارڈ کلائیو بن کر آیا اور بڑی ہمت اور سختی کے ساتھ جنگی اور ملکی صیغوں کی اصلاح کر کے رخصت ہوا۔ اس اصلاح کا کرنا کلائیو ہی کا کام تھا کیونکہ کوئی اور ہوتا تو کمپنی کے ملازم اس کی بات ہرگز نہ مانتے۔ اگرچہ کلائیو بہادری میں یکتا تھا، تاہم بڑا طاقتور اور توانا نہ تھا بلکہ کمزور تھا اور مریض سا معلوم ہوتا تھا۔ ہند کی گرمی اور کثرت کار نے اسکی صحت میں بڑا فتور پیدا کر دیا تھا۔ ابھی پچاس سال کی عمر کو بھی نہیں پہنچا تھا کہ انگلینڈ میں اپنے ہاتھ سے اس نے اپنا کام تمام کیا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -