اپنے خیال قابو میں رکھیں اور عام لوگوں سے متعلق سوچیں توہم ہر شخص میں خوبیاں تلاش کر سکتے ہیں

اپنے خیال قابو میں رکھیں اور عام لوگوں سے متعلق سوچیں توہم ہر شخص میں خوبیاں ...
اپنے خیال قابو میں رکھیں اور عام لوگوں سے متعلق سوچیں توہم ہر شخص میں خوبیاں تلاش کر سکتے ہیں

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:78

اس بات کو یاد رکھیں ہر انسان نہ ہی پورے طور پر برا ہوتا ہے اور نہ ہی پورے طور پر اچھا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی انسان بالکل مکمل ہوتا ہے۔اگرہم اپنے خیال کو آزاد چھوڑ دیں، توہمیں ہر شخص برا لگے گا۔ اگرہم اپنے خیال کو قابو میں رکھیں اور عام لوگوں سے متعلق سوچیں توہم ہر شخص میں خوبیاں تلاش کر سکتے ہیں۔

آپ کا ذہن ایک براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں2 چینل ہیں ایک منفی اور دوسرا مثبت یہ دونوں چینل بہت ہی طاقتور ہیں۔ فرض کریں آپ کا سینئر افسر آپ کو اپنے دفتر میں بلوا کر آپ کے کام کی تعریف کرتا ہے لیکن وہ آپ کو کچھ تجاویز بھی دیتا ہے کہ اگر آپ ان پر عمل کریں تو اپنے کام کو مزید بہتر کر سکتے ہیں۔

فطری بات ہے کہ رات کو آپ اس واقعہ سے متعلق ضرور سوچیں گے اگر آپ کے ذہن کا چینل منفی ٹیون ہو گیا تو پھر آپ اپنے باس کے متعلق کچھ اس طرح سوچیں گے کہ مسٹر باس کون ہوتا ہے مجھے تجاویز دینے والا؟ وہ تو خود خردماغ ہے مجھے اس کی نصیحت کی ضرورت نہیں ۔ میں نے تو پہلے بھی اس سے متعلق سنا ہے کہ بہت گھمنڈی ہے۔ وہ تو مجھے ویسے ہی روند ڈالنا چاہتا ہے۔ میں اب اس کی کوئی بکواس نہیں سنوں گا۔ میں کل ا س کے دفتر جا کر اس سے پوچھوں گا کہ آخر آپ کی تنقید کا مقصد کیا ہے؟

لیکن اگر آپ کے ذہن کا چینل مثبت ٹیون ہو گیا توپھر آپ اس طرح سوچیں گے کہ مسٹر باس بہت اچھے انسان ہیں۔ اس کی تجاویز واقعی بہت اچھی ہیں۔ میں اگر ان کی ان تجاویز پر عمل کروں تو میں اچھی پوزیشن میں آ سکتا ہوں۔ وہ میری مدد کرنے کو بھی تیار ہیں۔ کل میں ان کے دفتر جا کر ان کا شکریہ ادا کروں گا کہ آپ نے میری بہت مدد کی ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ کام کرنا بہت اچھی بات ہے۔

اس خاص معاملے میں اگر آپ چینل منفی کی بات پر غور کریں تو آپ یقینا برے انسان بن جائیں گے۔ اس سے آپ کے سینئر میں بھی غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔

اگر آپ چینل مثبت کی بات پر غور کریں تو اس سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا اور آپ اپنے باس کے زیادہ قریب ہو جائیں گے۔

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ایک مثبت یا منفی خیال ردعمل کے طور پر اسی طرح کے مسلسل خیالات کو جنم دیتا ہے۔ آپ چھوٹے سے ایک منفی خیال کو لے کر غور کریں تو آپ جلد محسوس کر لیں گے جس شخص سے متعلق آپ ایسا سوچ رہے ہیں اس کے سیاسی حالات، مذہبی، اعتقادات، ا س کی متعلقہ اشیائ، اس کی عادات، اس کی بیوی کے ساتھ اس کا تعلق، بلکہ اس کے بالوں کا سٹائل بھی آپ کو برا لگے گا۔ اس طرح کی سوچ نہ جانے آپ کو کہاں تک لے جائے؟

اپنے آپ کو قابو میں رکھیں او رپھر لوگوں سے متعلق چینل مثبت کو ٹیون کریں۔ آپ انفرادی طور پر صرف مثبت چینل کو ہی استعمال میں لائیں پھر دیکھیں دوسرے لوگوں سے متعلق ایک کے بعد دوسرا خیال آپ کو اچھی باتوں کی جانب لے کر جاتا ہے اور آپ خوش ہو جائیں گے۔

ایک خیال سے ایک جیسے ہی بے شمار خیالات جنم لیتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہوتی ہے کہ آپ کسی شخص سے متعلق کوئی منفی بات کسی دوسرے شخص سے سن کر آپ بھی منفی خیالات کی رو میں بہنے لگتے ہیں۔ اگر آپ ان خیالات پر قابو نہ پائیں اور اس منفی خیال کے ساتھ متفق ہوتے جائیں تو یہ جلتی پر تیل ڈالنے والا کام ہو گا۔ آپ سے کوئی یہ کہنے والا بھی نہ ہو گاکہ ایسا ہرگز نہیں ہے تو پھر ان منفی خیالات کی بوچھاڑ الٹی آپ پر ہو گی۔

منفی خیالات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات سے مضبوط وعدہ کریں کہ آپ نے مثبت پہلوﺅں کے سواکسی بات پر غور نہیں کرنا۔ اگر آپ اس تکنیک کو اپنا لیں گے اور لوگوں سے متعلق اچھے خیالات کو اپنا لیں گے تو پھر آپ عظےم کامیابی حاصل کر لیں گے۔

ایک بیمہ کمپنی کے نمائندے نے مجھے بتایا کہ اس نے لوگوں سے متعلق مثبت خیالات کو اپنا کر کیسے کامیابی حاصل کی؟ اس کا کہنا تھا کہ شروع میں مجھے کافی لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ دس خاندانوں میں سے نو خاندان بیمہ پالیسی خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ ایک شخص نے بیمہ پالیسیاں فروخت کرنے پر ایک کتاب لکھی ہے لیکن وہ خود ایک پالیسی بھی فروخت نہ کر سکا تھا۔

لیکن میری کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں جن لوگوں کو پالیسی فروخت کرتا ہوں اسے پسند بھی کرتا ہوں، ہمیں ایسے لوگوں کو پسند ضرور کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو پسند کرتے ہیں لیکن وہ صحیح معنوں میں ان کو پسند نہیں کرتے، جس کی وجہ سے انہیں کامیابی نہیں ملتی۔

میری کمپنی کے سیلز مین وہ باتیں دوسرے لوگوں سے معلوم نہیں کرتے جو میں کرتا ہوں۔ میں اپنے موکل کا خاندانی پس منظر معلوم کر کے، اس میں جو بہترین چیزیں ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے میں اپنے موکل کو پسند کرنے لگتا ہوں، پھر اس کے ساتھ دوستی کرتا ہوں اور بے تکلفی سے اسے اپنے کام کے بارے میں بتاتاہوں۔ اس طرح وہ موکل میرا دوست بن جاتا ہے اور مجھ سے پالیسی خرید لیتا ہے۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، میں نے اپنے ایک موکل کو تیسری بار فون کیا۔ میرا یہ موکل کافی مشکل شخص تھا۔

میں اس کو ملنے گیا تو اس نے مجھے سلام کرنے کا موقع بھی نہ دیا اور دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ میں نے انہیں دوبارہ بلایا اور ان سے کہا: جناب آپ تو میرے دوست ہیں، اس نے میری آواز میں نرمی اور خلوص کو محسوس کر لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے 10 ہزار ڈالر کی پالیسی خریدی۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -