ٹخنوں سے نیچے سوائے درد کے کو ئی احساس نہیں تھا۔ لگتا تھا ہمارے پا ؤ ں جم کر ٹوٹ جائیں گے

ٹخنوں سے نیچے سوائے درد کے کو ئی احساس نہیں تھا۔ لگتا تھا ہمارے پا ؤ ں جم کر ...
ٹخنوں سے نیچے سوائے درد کے کو ئی احساس نہیں تھا۔ لگتا تھا ہمارے پا ؤ ں جم کر ٹوٹ جائیں گے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :85

 ٹا نگوں کو تیز دانتوں سے کا ٹتی یخ پا نی کی لہروں کے نیچے پتھر تھے۔ جن پر ہمارے پا ؤں پڑ تے تھے۔ یہ پتھر ہر قسم کے تھے، چھو ٹے بڑے، ہموار، نو کیلے اور اونچے نیچے۔کبھی یہ پتھر پاؤں میں چبھتے ، کبھی پاؤں ان کے اوپر سے پھسلتے ۔کبھی پا نی ہمارے ٹخنوں تک آ جا تا اور اگلے ہی لمحے ہم محتاط ہو کر قدم رکھتے تو ہماری ٹانگ گھٹنے تک سرد آگ میں ڈوب جاتی۔ پانی کے بہاؤ کے ساتھ قدم اکھڑنے سے بچا نے کے لیے ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھ تو پہلے ہی پکڑ رکھے تھے لیکن برفاب پانی کی اذیت کی وجہ سے ہماری گرفت ایک دوسرے کے ہا تھ پر بہت سخت ہو گئی تھی۔ٹا نگوں سے اٹھنے والی درد کی مسلسل لہر وں کو میں ہاتھ کے ذریعے طاہر تک منتقل کر رہا تھااور طاہر انھیں آ گے سمیع کو اور سمیع اپنے پیچھے ندیم کو منتقل کر رہاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم مونھ سے نکلنے والی بے معنٰی آوازوں ”آآآ، ہوہوہوہو“ کے ذریعے بھی ایک دوسرے تک اپنے محسو سات پہنچا رہے تھے۔ٹخنوں سے نیچے سوائے درد کے کو ئی احساس نہیں تھا۔ لگتا تھا ہمارے پا ؤں جم کر ٹوٹ جائیں گے۔ پا نی کے درمیان کوئی اونچا پتھر یا ریت کا ٹکڑا آتا تو ہم اس پر رک کر سُن پاؤں میں خون کی گردش بحال ہو نے اور درد کم ہونے کا انتظار کر تے اور پھر دوبارہ پانی میں اتر جاتے۔ ایک بار میں نے پلٹ کر واپسی کا راستہ دیکھا لیکن ہم بیچ منجدھار میں تھے اور واپسی کا راستہ بھی باقی راستے جتنا ہی تھا۔ آگے جا نے کے علاوہ چارہ نہیں تھا۔ ایک بار پھر ہمت کر کے آ گے بڑھے۔ میری نظر سامنے دوسرے کنارے پر تھی جو قریب لگنے کے باوجود دور تھا۔ ایک دو بار میرا پاؤں بے ڈھب پتھروں سے پھسلا لیکن اس سے پہلے کہ میں مونھ کے بل پانی میں گرتا طاہر نے سنبھال لیا۔ آخر ہم دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ جہاں ایک اور تکلیف دہ حیرت ہماری منتظر تھی۔ 

جس کنارے کو ہم اپنی منزل سمجھ رہے تھے وہ در اصل چشمے کے بیچ ابھرا ہوا ٹیلا تھا جس کے پیچھے چشمے کا باقی نصف چھپا ہوا تھا۔

”شِٹ!‘ ‘ طاہر نے دانت بھینچ کر کہا۔

”اوہ نو!“ سمیع کی مایو سی بھری آواز آ ئی۔

ندیم کے ہو نٹوں پر بھی بے بسی والی مسکرا ہٹ تھی۔ ہم کچھ دیر کھڑے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر پا ؤ ں گر م کرتے رہے۔چشمے کے اگلے حصے کا مشاہدہ کر کے اندازہ ہوا کہ یہاں پا نی پہلے کی نسبت اتھلا ہے۔ اس مرحلے کو سر کر نے سے پہلے سمیع نے پتھروں کی نو کوں سے بچنے کے لیے بیگ سے اپنی نئی امپورٹڈہوا ئی چپل نکال کر پہن لی جو وہ سفر کے لیے خرید کر لا یا تھا۔ کچھ منٹ بعد دوبارہ پا نی میں اترے تو حا لات پہلے سے مختلف نہیں تھے۔ سمیع نے غا لبا ً دوسرا قدم پانی میں ڈال کر اٹھا یاہی تھا کہ چپل کا ایک پا ؤں پتھروں میں پھنس کر نیچے ہی رہ گیا، جسے ڈھونڈنے کے لیے پانی میں ہاتھ پاؤں مارنا ممکن نہیں تھا۔ سمیع نے چپل کا دوسرا پاؤںخود لہروں کو سونپ دیا۔ جا تجھے کش مکشِ پیر سے آزاد کیا۔ 

ہم دوسرے کنارے پر اترے تو لگا جیسے کو ئی معر کہ سر کر لیا ہے۔ کمر سے بیگ اتار کر زمین پر رکھے، ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور پاؤں سکھا کر کے فورا ً خشک جرابیں پہنیں اور جو گرز چڑھا لیے۔ سامنے نذیر اپنی جیپ کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ اپنی جیپ چشمے کے پار کیسے لا یا تھا؟ یہ ایک کاروباری راز تھا جو مسافروں کے ساتھ بانٹا (share )نہیں جا سکتا تھا۔

اس کے ساتھ نئے سرے سے بھاؤ تاؤ کر کے ہم پسو براستہ حسینی روانہ ہو گئے۔ نذیر نے بھورے رنگ کا شلوار قمیض پہن رکھا تھا۔ بالوں میں تیل، آ نکھوں میں سرمہ اور ہاتھوںمیں انگوٹھیا ں تھیں۔ پچاس پچپن سال کی عمر میں بھی وہ خوش نماتھا تو جوانی میں یقینا ً کا فی پُر کشش رہا ہو گا۔ اس کا ثبوت اس کی جوانی کی وہ چھو ٹی سی سیاہ و سفید تصویر بھی تھی جو اس نے ڈیش بورڈ کے وسط میں ٹیپ سے چپکا رکھی تھی۔ تصویر بھی گزری جوانی کے احساس کی طرح دھندلی پڑ چکی تھی ۔ اسے یہاں سیا حوں کے لیے جیپ چلاتے 30 سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔

حسینی:

چشمے سے ہٹ کر اوپر آ ئے تو بہترین سیاہ سڑک کا ٹو ٹا ہوا سلسلہ پھر سے جڑ گیا اور جیپ ہوا سے باتیں کر نے لگی۔ نذیر حلیے کے علاوہ بھی خوش ذوق آ دمی تھا اس نے ایک میموری کارڈ ڈیش بورڈ میں بنی ایک جھری میں لگا یا اور مو سیقی بجنے لگی۔ میں نے سڑک کی عمدگی کی تعریف کی تو نذیر نے بتا یا کہ سڑک اتنی بھی اچھی نہیں ہے جتنی نظر آ تی ہے۔تعمیر کے فورا ً بعد ہی اس میں دراڑیں پڑ نے لگی ہیں۔ اس نے سڑک میں پڑنے والی جا بجا دراڑیں دکھا ئیں تو مجھے حیرت ہوئی۔ اس کی بات واقعی درست تھی۔ بظا ہر بے عیب اور شان دار نظر آنے والی سڑک پرہر چند قدم کے بعدباریک درا ڑیں سڑک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے تک پھیلی ہو ئی تھیں جنہوں نے سڑک کو چھو ٹے چھو ٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا لیکن یہ درا ڑیں اتنی مہین تھیں کہ غور سے دیکھنے پر نظر آ تی تھیں۔ نذیر کے بقول چینی ٹھیکے دار یہ سڑک جلد از جلد FWO کے حوالے کر نا چاہتا ہے لیکن اس نقص کے ساتھ انہوں نے اسے وصول کر نے سے انکار کر دیا ہے۔اب چینی ان درا ڑوں میں کو ئی کیمیکل بھر کر انہیں چھپا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ سڑک فورا ً پاکستان کے حوالے ہو جائے۔ ایک بار پاکستان نے اسے وصول کر لیا تو ان کا ذمہ ختم۔ ہما رے لیے یہ بات نا قابل ِ یقین تھی لیکن یہاں کے لوگ عام تصور کے برعکس چینیوں کے بارے میں کچھ مختلف اور منفی رائے رکھتے ہیں۔ میں کچھ سال پہلے بھی اس علاقے میں چینی دلچسپی کے حوالے سے کچھ دبی دبی باتیں سن چکا تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -