بے نظیر انکم سپورٹ سکیم

 بے نظیر انکم سپورٹ سکیم
 بے نظیر انکم سپورٹ سکیم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ہمارے ملک میں یہ بے نظیر انکم سکیم محترمہ بے نظیر کے نام سے شروع ہوئی۔ اس کا مقصد بیوہ، غریب خواتین کی مدد تھا۔ ہر گلی محلہ میں مقررہ تاریخ پر غریب خواتین کا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ صبح سے ہی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ ان خواتین کو چھوڑنے کے لئے ان کے جوان بیٹے گاڑیوں،رکشہ، موٹرسائیکل پر تشریف لاتے ہیں۔ وہ انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔ وہ بوڑھی ماں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ آج کا دن عید سے کم نہیں ہوتا۔ ایک معقول رقم ملنی ہے۔ جس سے گھر کا راشن  آ سکتا ہے۔ گھی آٹا دالیں بڑے کا گوشت یا مرغی کا گوشت زیادہ پھل وغیرہ۔ البتہ اس میں مکان کرایہ، بجلی کا بل شامل نہیں۔ اس کے لئے بھی راستہ نکالا گیا ہے،یہی جوان لڑکے، بوڑھی ماں کو مختلف جگہ پر بیٹھا آتے ہیں۔پھررات گئے موٹرسائیکل ہیوی قسم پر واپس لے آتے ہیں۔ اس قسم کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔
اب اس نے دوسرا رخ اختیار کرلیا ہے۔ کوئی چھوٹابچہ بھی شامل ہو گیا ہے جو بوڑھیا کو اِدھر اُدھرسڑک پار لے جانے میں مدد بھی کرتا ہے۔ اب بوڑھیا کے ساتھ اس کی بیٹی بھی بھیک مانگنے میں شامل ہو گئی ہے۔ اس نے گود میں ایک بچہ اٹھایا ہوا ہے جس کو دودھ کی طلب ہے۔ چھوٹے بچے کاروں کے شیشے صاف کرنے کے لئے بوتل پکڑے دوسرے ہاتھ میں وائپر پکڑے چوک میں کھڑی گاڑی کی طرف بھاگتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی حالت پر رحم کھا کر اس صفائی کے عمل کو برداشت کرتے ہیں۔ پھر کچھ نوٹ معصوم بچوں کی طرف بڑھا دیتے ہیں۔ کچھ گاڑی کے اندر سے ہی منع کر دیتے ہیں ا س سلسلے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔


دیکھنے کی بات ہے کہ اس میں معصوم بچوں کا کیا قصور ہے ان کی کھیلنے پڑھنے کی عمر ہے۔ سڑکوں پر پیدا ہوئے سڑکوں پر بڑے ہوئے، آباد ی خوفناک حد تک بڑھانے میں مدد کی۔ پھر ان کے والدین سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں۔ اولاد تو اللہ کی دین ہے اس نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے، صحیح کہتے ہیں ان کے بچے چلنے کے قابل ہوتے ہیں نوکری مل جاتی ہے۔ کسی ہوٹل ورکشاپ فیکٹری، صاحب کے گھر، تعلیم و تربیت اس کا مسئلہ نہیں۔ کبھی یہ منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے بچہ کوڑے میں سے کھانے پینے کی اشیاء تلاش کررہا ہے یا کسی جگہ بیٹھا بوٹ پالش کے انتظار میں بیٹھا ہے۔


دیکھنا یہ ہے کہ اس میں قصور کس کا ہے۔ والدین کا کام اولاد پیدا کرنا ہے۔ اس کی تعلیم و تربیت ضروری نہیں جبکہ حضرت علی فرماتے ہیں۔ یتیم وہ ہے جس کی تعلیم و تربیت نہیں۔ پھر دوسری طرف حکومت کو بھی امداد کے سلسلے میں نظرثانی کرنی چاہیے۔ جب اولاد جوان ہو جائے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت،دیکھ بھال کرے اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔ کسی سرکاری سکول میں داخل کرا دے تاکہ بچے ملک کی ترقی میں بہتری کا کام کر سکیں۔اگرچہ یہ مشکل مرحلہ ہے ان کو اس طرف لانا بہت مشکل ہے کیونکہ ہر بچہ کمائی کرکے رقم لاتا ہے، کھا بھی آتا ہے اور کھانے کی اشیا ساتھ بھی لے آتا ہے۔کپڑے جوتے پھٹے ہوتے ہیں یہ بھی اُس کا فیشن ہے لوگ ترس کھا کر اُس کی مدد کر دیتے ہیں۔


ان کے گھروں میں شاندار شادیاں ہوتی ہیں، کھانے پکتے ہیں اہل علاقے حیران رہ جاتے ہیں۔ ملک میں جہاں بھی خالی پلاٹ یا جگہ زمین نظر آتی ہے، پل، نالے گذر گاہ ان کی آماجگاہیں، ہر چیز مفت مل جاتی ہے، نہ کوئی بل، نہ کوئی ٹیکس، پھر انہیں آبادی بڑھانے سے کوئی نہیں روک سکتا،جس سے حکومت کے تمام منصوبے بے بیکار ہو گئے ہیں۔ ادارے ان کی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ عیدِ سعید آتی ہے، سحری و افطاری پھر راشن اِن کو دیا جاتا ہے، ٹرک بھر کر لے جاتے ہیں،تمام علاقوں سے راشن جمع کر لیتے ہیں، حق دار سفید پوش خاموش بیٹھے رہتے ہیں، بیوہ، یتیم تو صرف محنت کرتے ہیں، روزی کماتے ہیں کسی سے مدد نہیں لیتے، ان کی خودی، ضمیر زندہ ہیں وہ معاشرے کے لئے بہترین سبق ہیں۔
جن باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے امید ہے حکومت  نئے سرے سے بے نظیر انکم سکیم پر نظرثانی کرے گی جن کے بیٹے جوان بڑے ہو گئے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کی خدمت کریں، نہ کہ اُن کی امداد پر گذر بسر کریں اس طرح دوسری امداد کرنے والے ادارے بھی اپنی پالیسی بنائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -