نیب کی ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش، عمران خان نے نیب ٹیم کے سوالات کے کیا جوابات دیئے ؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی 

نیب کی ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش، عمران خان نے نیب ٹیم کے سوالات کے کیا جوابات دیئے ...
نیب کی ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش، عمران خان نے نیب ٹیم کے سوالات کے کیا جوابات دیئے ؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نیب روالپنڈی میں پیش ہوئے جہاں ان سے تقریبا ساڑھے پانچ گھنٹے تک تفتیش کی گئی جس کی ممکنہ تفصیلات، نیب کے سوالات اور عمران خان کے جوابات کی اندرونی کہانی تحقیقاتی صحافی ’ زاہد گشکوری ‘ نے ٹویٹر پر جاری کر دی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی زاہد گشکوری نے ٹویٹر پر جاری پیغامات کے سلسلے میں بتایا کہ عمران خان نے نیب کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے زلفی بخاری اور شہزاد اکبر سے متعلق اہم انکشافات کیئے ہیں ۔عمران خان نے نیب کی تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ شہزاد اکبر کا بحریہ ٹاﺅن ڈیل اور 190 ملین پاﺅنڈ کی پاکستان واپسی میں اہم کر دار تھا ، القادر ٹرسٹ پراجیکٹ اور حاصل عطیات سے متعلق زلفی بخاری کا اہم کردار تھا ، ملزم طالب حسین ، زمین کی منتقلی اور بیرون ملک سے آئے عطیات سے متعلق بھی اہم تفصیلات یاد نہیں ہیں ۔


نیب ٹیم نے عمران خان سے سوال کیا کہ بحریہ ٹاﺅن اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی ڈیل سے حاصل 190 ملین پاﺅنڈ کہاں گئے ؟ عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بہتر جواب اس وقت کے ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر بہتر دے سکتے ہیں۔ 
سوال : این سی اے ڈیل کو خفیہ رکھنے اور رقم بحریہ ٹاﺅن کو واپس لوٹانے کا فیصلہ کس کا تھا ؟ 
عمران خان کا جواب : یہ کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا ۔
سوال :گورنمنٹ آف پاکستان اور برطانوی این سی اے کے درمیان سرکاری بات چیت کس نے کی ۔
عمران خان کا جواب :شہزاد اکبر نے پاکستان کی نمائندگی کی اور سرکاری دستاویزات کابینہ ڈویژن کی تحویل میں ہیں ۔


سوال :190 ملین برطانوی پاﺅنڈ کی منتقلی کے متعلق خفیہ ڈیڈ پر کس نے دستخط کیئے ؟ 
جواب : ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے سب کچھ انجام تک پہنچایا ۔
سوال : معاہدہ خفیہ کیوں رکھا گیا ، بند لفافہ پر دستخط کیوں لیے گئے ؟
جواب : حکومت پاکستان معاہدہ کو خفیہ رکھنے کی پابندتھی ۔
سوال : معاہدہ میں پاکستان کے حق میں ضبط و ن ہائیڈ پارک لندن جائیداد کب فروخت کی گئی ؟ اگر مطلوبہ جائیداد فروخت کر دی گئی تو حاصل رقم پاکستان کے اکاﺅنٹ میں آئی ؟ 


جواب :عمران خان نے کہا کہ یہ شہزاد اکبر ہی بتا سکتے ہیں ۔
سوال :القادر ٹرسٹ یونیورسٹی پراجیکٹ آپ کا منصبہ تھا، بحریہ ٹاﺅن سے عطیات کی ڈیل کس نے کی تھی ؟
جواب : بحریہ ٹاﺅن سے عطیات شہزاد اکبر ، زولفی بخاری اور دوسرے مشترکہ دوستوں کے ذریعے آئے تھے ۔
سوال :آپ پاکستان کے وزیراعظم تھے اور متنازعہ پراپرٹی ٹائیکون سے ستر کروڑ کے عطیات لینا مفادات کا ٹکراﺅ نہیں تھا ؟
جواب : رسول پاک ﷺ کی محبت میں القادر یونیورسٹی نیک مشن کیلئے بنائی ۔
سوال : عمران خان اور خاندان نے القادر ٹرسٹ میں کتنا چندہ دیا ؟
جواب :میری اہلیہ بشریٰ بیگم عطیات کو دیکھ رہی تھیں۔

سوال : مجموعی طور پر ٹرسٹ کو کتنے عطیات ملے اور کس نے دیئے ؟
جواب : ٹرسٹ کی موجودہ انتظامیہ اس کی تفصیلات دے سکتی ہے ۔
سوال : فرحت شہزادی القادر پراجیکٹ کی ٹرسٹی ہیں، ان کا بحریہ ٹاﺅن کے ساتھ عطیات لینے کا کیا کر دار ہے ؟ 
جواب : فرح خان اہلیہ کی دوست ہیں ، سوال کا جواب وہ خود دے گی ۔
 سوال :ٹرسٹ کو حاصل عطیات اور تمام اکاﺅنٹس کا کنٹرول بشریٰ بیگم کے پاس ہے ؟
جواب : بشریٰ بیگم سے پوچھ کر جواب دوں گا ۔

مزید :

قومی -