انفنٹری کا مستقبل                  (3)

    انفنٹری کا مستقبل                  (3)
    انفنٹری کا مستقبل                  (3)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 گزشتہ ہفتہ بیماری کی نذر ہوا…… یہ جسمانی بیماری نہ بھی آتی تو پاکستان کی صورتِ حال میں کون سی ”انقلابی تبدیلی“ آ جاتی۔ ہم تو صدیوں سے تبدیل نہ ہونے کا ابدی لائسنس لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آیئے ان لوگوں / قوموں کا ذکر کرتے ہیں جو ”تبدیلیاں“ لاتی ہیں۔ ہم اور آپ مل کر ”انفنٹری“ کہلاتے ہیں۔ ہماری گزشتہ یا آئندہ نسل نے آخر کار ”جنگ کا چارہ“بننا ہے۔ اس لئے آیئے اس چارے کی کاشت سے لے کر کٹائی تک کے عمل پر ایک نظر ڈالیں …… شاید ہم میں سے یا ہماری اگلی نسل میں سے کوئی ”انفنٹری مین“ مستقبل کی انفنٹری میں حصہ دار بن جائے:

شاہاں چہ عجب گر بہ نوازند گدا را

……………………

عمومی تناظر میں انفنٹری

عمومی تناظر میں جو پہلو قابل ذکر ہیں ان میں ہمہ گیریت، غیر مرتکز کنٹرول، میدان جنگ کا سناٹا، انفرادی ٹریننگ، اعصابی تربیت، ندرت فکر، سبک رفتاری، عسکری تاریخ کا مطالعہ اور ذوقِ شہادت شامل ہیں …… ان سب کا تذکرہ کچھ تفصیل سے سطورِ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

ہمہ گیریت

اگر ہم زمانہء قدیم کی انفنٹری اور زمانہء جدید کی انفنٹری کے درمیان کوئی خطِ امتیاز کھینچنا چاہیں تو وہ صرف ٹیکنالوجی کا خط ہوگا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدیم انفنٹری ”بے ٹیکنالوجی“ تھی اور جدید انفنٹری ”با ٹیکنالوجی“ ہے اور بس…… مستقبل کی انفنٹری میں زمانہء قدیم کی جسمانی ہمت و جرائت اور عہد حاضر کی سائنسی جدت و ندرت کا امتزاج ہوگا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر مشین گن کی حکمرانی نے سادہ انفنٹری کو تقریباً بے بس کر دیا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ٹینک شکن ہتھیاروں نے مشینی دور کے ”شہزادے“ یعنی ٹینک کو بے بس کر دیا۔  اب تیسری عالمی جنگ اگر جوہری ہتھیاروں کے بغیر لڑی گئی تو وہی انفنٹری سولجر کامیاب ہوگا جس کا بدن فولاد، دماغ ٹیکنالوجی آشنا اور دل عزم و یقین کی دولت سے مالا مال ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں انسان پر مشینوں کی حکومت کی بجائے مشین پر انسانوں کی حکومت ہوگی۔ میدانِ جنگ کے فیصلے وہی سولجر کریں گے جن کی ٹریننگ مسلسل اور سخت ہوگی،جن کا مورال بلند ہوگا اور آپریشنل صلاحیتوں سے جن کے اذہان منور ہوں گے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو مستقبل کی ٹیکنالوجی انفنٹری سولجر کی حیثیت و اہمیت کم نہیں کرے گی بلکہ اس کے دل ودماغ اور حواسِ خمسہ میں رچ بس کر اس کی فکر کے پوشیدہ گوشوں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

غیر مرتکز کنٹرول

جدید جنگوں کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بڑی بڑی فارمیشنوں کی بجائے مستقبل میں چھوٹی چھوٹی یونٹوں کی کارکردگی اہم ہوگی۔ ٹیکنالوجی نے ہر چیز کو حجم میں چھوٹا (Miniturize) کر دیا ہے۔ بقول سعدی شیرازی اب جوچیز قامت میں کم ہو گی وہ قیمت میں زیادہ ہوگی۔ لہٰذا عظیم لاؤ لشکر کی بجائے کم تعدادکے ایسے لڑاکا گروپ درکار ہوں گے جو میدانِ جنگ میں بکھر کر لڑ سکیں۔ مرکزی کنٹرول اور کمانڈ جتنی وسیع ہوگی، آپریشنل مشکلات اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔ موقع پر فیصلے کرنے اور جلد کرنے کی اشد ضرورت ہوگی۔ مواصلاتی رابطوں کے ذریعے بالا کمانڈروں سے احکام اور ہدایات لینے کی مہلت بہت کم ہوگی۔ اس لئے چھوٹی یونٹوں کو کارکردگی میں ”بڑا“ بنانا پڑے گا۔ اس کے لئے جونیئر لیول کے لیڈروں کی ٹریننگ اور ان کا مورال مرکزی کردار ادا کرے گا۔ ناٹو اور وارسا جیسی بڑی  تنظیموں کی تو بات چھوڑیں، کور لیول پر آپریشنوں کو کنٹرول کرنا بھی کارے دارد ہوگا۔ چھوٹے چھوٹے آپریشنل گروپ تشکیل کرکے ان کو آزادیء عمل دینا ہوگی۔ کوئی فوج الیکٹرانک وسیلوں پر جتنا زیادہ انحصار کرے گی اور کمانڈو کنٹرول کے ارتکاز پر زور دے گی، اتنا ہی زیادہ اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے مستقبل کی افواج میں کنٹرول کو غیر مرتکز (Decentralize) کرنا ہوگا۔ یہ گروپ ایسی انفنٹری اور ایسے اسلحہ سے لیس ہوں گے جو خودمختارانہ آپریٹ کر سکیں اور بدلتی صورت حال میں مینوور کرنے اور فیصلے کرنے کے مجاز ہوں۔ ان کو بااختیار بنانے کے لئے بڑی محنت درکار ہوگی۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ جنگ کے اختتامی ہفتوں میں بھی ان کے چھوٹے چھوٹے گروپوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی ہار نہ مانی اور لڑائی جاری رکھی جبکہ اتحادیوں کی اکثر افواج میں کنٹرول، بالا کمانڈروں کے ہاتھ میں رہا اور چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی وہی کرتے رہے۔ پھر جب مواصلاتی رابطے کٹ گئے، دشمن نے ناگہانی وار کر دیا اور صورتِ حال بگڑ گئی تو وہ چھوٹی یونٹیں بھی حکام بالا کے احکام کی منتظر رہیں، جو مقامی طور پر فیصلہ کرکے دشمن کوزیر کر سکتی تھیں۔ ان گروپوں کی تنظیم  و تشکیل میں البتہ فرق ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا بالا حکام کا کام ہے کہ وہ بٹالین کو گروپ بناتے ہیں یا کمپنی کو یا پھر پلاٹون اور سیکشن کو…… بلکہ بعض حالات میں تو صرف ایک شخص کی کارکردگی پر ساری یونٹ کا دارو مدار ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپانی فوج کے اس سپاہی کا قصہ تو آپ نے پڑھا ہوگا جو کسی غیرمعروف جزیرے میں برسوں اکیلا گھومتا رہا اور دل میں عزم کئے رکھا کہ دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ حالانکہ جنگ کو ختم ہوئے سالہا سال بیت چکے تھے۔ لہٰذا بٹالین کی سطح پر بٹالین کے اندر چھوٹے گروپ تشکیل دے کر ان کو خود مختارانہ آپریٹ کرنے کی ٹریننگ دی جائے تو اس کے نتائج منفی کبھی نہیں ہو سکتے۔ سیکشن اور پلاٹون کی ٹریننگ پر زور دے کر ان کو مستقبل کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ سیکشن اچھا ہوگا تو پلاٹونیں بھی اچھی ہوں گی اور کمپنیاں بھی۔ اس موضوع پر اپریل 1951ء میں کوریا کی جنگ میں ایک لڑائی پر ایک سینئر کینیڈین آفیسر کا یہ تجزیہ کتنا دلچسپ ہے۔

”کاپ یانگ (Capyoung) کی اس لڑائی میں فتح کا تمام کریڈٹ ان سیکشن، پلاٹون اور کمپنی کمانڈروں کو جاتا ہے جن کا مورال بھی بلند تھا اورپیشہ ورانہ کارکردگی بھی…… ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ہم اپنے افسروں کو ہائی لیول کی کمانڈ کی ٹریننگ دینے پر تو بہت زور دیتے ہیں لیکن کمپنی اور پلاٹون لیول پر ایسا نہیں کرتے۔ جس کسی کو بھی جونیئر لیول کی کمان کا تجربہ ہوگا وہ سینئر لیول کی کمان کرتے ہوئے کسی الجھن یا مشکل کا شکار نہ ہوگا۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے بریگیڈ کمانڈر اور ڈویژنل کمانڈر صرف اس لئے لڑائی میں قائم رہے کہ ان کو بہتر اور باصلاحیت سٹاف میسر تھا۔ اس سٹاف کے بغیر وہ ایسا نہ کر سکتے۔ لیکن کمپنی اور پلاٹون لیول کا کمانڈر توبے چارا لڑائی کے پہلے ہی دن ”ننگا“ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی ڈویژن کا کمانڈر کمزور بھی ہے تو بھی وہ ڈویژن، لڑائی میں کچھ نہ کچھ وقت نکال جائے گا جبکہ کوئی کمپنی یا کوئی پلاٹون جس کا لیڈر کمزور ہو، ایسا ہرگز نہیں کر سکتی۔ تخت یا تختہ کا فیصلہ ادھر ہی ہو جائے گا۔ لہٰذا نقشے پر ڈویژنوں کو موو کرنے کے لئے بے شک آپ پورا ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کو آگے پیچھے لے جائیں لیکن سیکشنوں، پلاٹونوں اور کمپنیوں کو موو کرنے کے لئے آپ کو ٹھہر کر اور حجم کر سوچنا ہوگا۔ تجربات کی بناء پر یہ سیکھنے کی کوشش کریں کہ ایک انسان لڑائی کا بوجھ کہاں تک برداشت کر سکتا۔ یعنی اس کی برداشت کی حد کیا ہے۔ پھر اپنے لیول کی کمانڈ پر بھرپور توجہ دیں اور اپنا کام درست طریقے پر کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ بٹالین کمانڈ کرنا کتنا آسان ہو جائے گا بشرطیکہ پہلے آپ نے درست انداز میں کمپنی کمانڈ کی ہو“۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -